پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Sunday 21 July 2019 - الأحد 16 ذو القعدة 1440 - يکشنبه 30 4 1398
 
 
 
 
  • حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اوراس کی ضرورت   
  • 2012-07-04 11:36:41  
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  •   بادشاہ وقت خلےفہ معتمدبن متوکل عباسی جواپنے آباؤاجداد کی طرح ظلم وستم کاخوگراورآل محمد کاجانی دشمن تھا ۔ اس کے کانوں میں مہدی کی ولادت کی بھنک پڑچکی تھی ۔ اس نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد تکفےن وتدفےن سے پہلے بقول علامہ مجلسی حضرت کے گھرپرپولےس کاچھاپہ ڈلوایااورچاہاکہ امام مہدی علیہ السلام کو گرفتارکرالے لےکن چونکہ وہ بحکم خدا ۲۳ رمضان المبارک ۲۵۹ ہجری کوسرداب میں جاکرغائب ہوچکے تھے۔ جےسا کہ شواہدالنبوت ،نورالابصار،دمعة ساکبہ ،روضة الشہداٴ ،مناقب الا ئمہ ،انوارالحسینیہ وغےرہ سے مستفاد ومستنبط ہوتاہے ۔ اس لئے وہ اسے دستیاب نہ ہوسکے ۔اس نے اس کے رد عمل میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی تمام بےبےوں کوگرفتارکرالیا اورحکم دیا کہ اس امرکی تحقےق کی جائے کہ آیاکوئی ان میں سے حاملہ تونہیں ہے اگرکوئی حاملہ ہو تواس کاحمل ضائع کردیاجائے ،کےونکہ وہ حضرت سرورکائنات صلعم کی پےشےن گوئی سے خائف تھا کہ آخری زمانہ میں مےرا ایک فرزند جس کانام مہدی ہوگا ۔
      کائنات عالم کے انقلاب کا ضامن ہوگا ۔ اوراسے یہ معلوم تھا کہ وہ فرزند امام حسن عسکر ی علیہ السلام کی اولاد سے ہوگا لہذا اس نے آپ کی تلاش اورآپ کے قتل کی پوری کوشش کی ۔تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۳۱ میں ہے کہ ۲۶۰ میں امام حسن عسکری کی شہادت کے بعد جب معتمد خلےفہٴ عباسی نے آپ کے قتل کرنے کے لئے آدمی بھےجے توآپ سرداب ( ۱) ” سرمن رائے “میں غائب ہوگئے بعض اکابرعلماٴ اہل سنت بھی اس امرمیں شےعوں کے ہم زبان ہیں ۔
      چنانچہ ملاجامی نے شواہدالنبوت میں امام عبدالوہاب شعرانی نے لواقع الانواروالےواقےت والجواہرمیں اورشیخ احمدمحی الدےن ابن عربی نے فتوحات مکہ میں اورخواجہ پارسانے فصل الخطاب میں اورعبدالحق محدث دہلوی نے رسالہٴ ا ئمہ طاہرین میں اورجمال الدےن محدث نے روضةالاحباب میں ،اورابوعبداللہ شامی صاحب کفاےةالطالب نے کتاب التبیان فی اخبارصاحب الزمان میں اورسبط ابن جوزی نے تذکرة خواص الامہ میں اورابن صباغ نورالدےن علی مالکی نے فصول المہمہ میں اورکمال الدےن ابن طلحہ ٴشافعی نے مطالب السؤل میں اورشاہ ولی اللہ نے فضل المبےن میں اورشیخ سلےمان حنفی نے ےنابع المودة میں اوربعض دیگرعلماٴ نے بھی اےساہی لکھا ہے اورجولوگ ان حضرت کے طول عمرمیں تعجب کرکب انکارکرتے ہیں ۔
      ان کویہ جواب دےتے ہیں کہ خدا کی قدرت سے کچھ بعےدنہیں ہے جس نے آدم کوبغیرماں باپ کے اورعیسی کوبغیرباپ کے پےداکیا ،تمام اہل اسلام نے حضرت خضرکواب تک زندہ ماناہوا ہے ،ادرےس بہشت میں اورحضرت عیسی آسمان پراب تک زندہ مانے جاتے ہیں اگرخدائے تعالی نے آل محمد میں سے ایک شخص کوعمرعنآیت کیاتوتعجب کیاہے ؟حالانکہ اہل اسلام کودجال کے موجود ہونے اورقرےب قیامت ظہورکرنے سے بھی انکارنہیں ہے ۔

    ( ۱ ) یہ سرداب ،مقام ”سرمن رائے“ میں واقع ہے جسے اصل میں سامراٴکہتے ہیں

    سامراٴکی آبادی بہت ہی قدےمی ہے اوردنیاکے قدےم ترین شہروں میں سے ایک ہے ، اس سام بن نوح نے آبادکیاتھا (معجم البلدان) اس کی اصل سام راہ تھی بعدمیں سامراٴہوگیا ، آب وہواکی عمدگی کی وجہ سے خلےفہ معتصم نے فوجی کےمپ بناکرآبادکیاتھا اوراسی کو دارالسلطنت بھی بنادیاتھا ، اس کی آبادی ۸ فرسخ لمبی تھی ، اسے اس نے نہآیت خوبصورت شہربنادیاتھا ۔ ا سی لئے اس کانام سرمن رائے رکھ دیاتھا یعنی وہ شہرجسے جوبھی دےکھے خوش ہوجائے ،عسکری اسی کاایک محلہ ہے جس میں امام علی نقی علیہ السلام نظربندتھے بعد میں انھوں نے دلےل بن ےعقوب نصرانی سے ایک مکان خرےدلیاتھا جس میں اب بھی آپ کامزارمقدس واقع ہے ۔

    سامراٴمیں ہمےشہ غےرشےعہ آبادی رہی ہے اس لئے اب تک وہاں شےعہ آباد نہیں ہیں وہاں کے جملہ خدام بھی غےرشےعہ ہیں ۔

    حضرت حجت علیہ السلام کے غائب ہونے کاسرداب وہیں ایک مسجدکے کنارے واقع ہے جوکہ حضرت امام علی نقی اورحضرت امام حسن عسکری کے مزاراقدس کے قرےب ہے ۱۲ منہ۔

    کتاب شواہدالنبوت کے ص ۶۸ میں ہے کہ خاندان نبوت کے گیارہوےں امام حسن عسکری ۲۶۰ میں زہرسے شہےدکردےئے گئے تھے ان کی وفات پران کے صاحبزادے محمد ملقب بہ مہدی شےعوں کے آخری امام ہوئے۔مولوی امیرعلی لکھتے ہیں کہ خاندان رسالت کے ان اماموں کے حالات نہآیت دردناک ہیں ۔ ظالم متوکل نے حضرت امام حسن عسکری کے والدماجد امام علی نقی کومدینہ سے سامرہ پکڑبلایاتھا ۔اوروہاں ان کی وفات تک ان کونظربندرکھا تھا ۔ (پھرزہرسے ہلاک کردیاتھا ) اسی طرح متوکل کے جانشےنوں نے بدگمانی اورحسدکے مارے حضرت امام حسن عسکری کوقےدرکھاتھا ،ان کے کمسن صاحبزادے محمدالمہدی جن کی عمراپنے والدکی وفات کے وقت پانچ سال کی تھی ۔ خوف کے مارے اپنے گھرکے قرےب ہی ایک غارمیں چھپ گئے اورغائے ہوگئے ۔الخ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامہ میں لکھا ہے کہ جس غارمیں امام مہدی کی غیبت بتائی جاتی ہے ۔
      اسے میں نے اپنی آنکھوں سے دےکھا ہے ۔(نورالابصارجلد ۱ ص ۱۵۲) علامہ ابن حجرمکی کاارشادہے، کہ امام مہدی سرداب میں غائب ہوے ہیں ۔” فلم ےعرف اےن ذھب “ پھرمعلوم نہیں کہاں تشریف لے گئے۔ (صواعق محرقہ ص ۱۲۴) ۔

     
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011