پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Sunday 21 July 2019 - الأحد 16 ذو القعدة 1440 - يکشنبه 30 4 1398
 
 
 
 
  • قضاء و قدر  
  • 2012-02-29 10:15:32  
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • بسمه تعالی

    سوال: عقاید و کلام

    شیعہ علماء کی نظر عالم واقع (مقام ثبوت ) میں خداوند عالم کی قضاء و قدر کی ممانعت ( عدم تعلّق ) اور غیر ممکن ہونے کے بارے میں کیا ہے نہ کہ اجتماعی نظام (عالم تکلیف ) کے بارے میں؟ اسی طرح جناب عالی کی نظر شیخ مفید پر کیے جانے والے اعتراض کے بارے میں کیا ہے ؟ (بیشک قضاء و قدر کا تعلق اُن اوامر اور نواحی سے نہیں ہے کہ جن کے ذریعہ سے خداوند عالم اپنے بندوں کے لیے مختلف اعمال کو واجب یا حرام قرار دیتا ہے بلکہ یہ مسئلہ عالم ھستی کی واقعیت یا حقیقت اور انسان سے متعلق ہے کہ جہاں خود انسان ، اسکے فعل ، اسکی قدر و قیمت اور اسکی سرشت کو خداوند عالم نے خلق کیا ہے یہاں تک کہ انسان کے لیے اپنی خلقت کے مقصد ، اس کے سبب اور اس کے مفھوم کے واضح تصور کو پانا ممکن ہو جاتا ہے پس قضاء و قدر وجود نہیں رکھتا بلکہ انسان خود اپنی قضاء و قدر کو بناتا ہے ۔ لیکن اس کے مقابلے میں کچھ تاریخی ، سیاسی اور معاشی حقیقتیں پائی جاتی ہیں ۔ لیکن جب آپ انسانی حقیقتوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ گویا آپ نے انسان کو ہر قسم کے تحرک سے روک دیا ہو ، لیکن جب خدا وند عالم تم سے قضاء و قدر کے بارے میں بات کرتا ہے تو فرماتا ہے ( تم اپنی قضاء و قدر کو خود بناتے ہو ) ۔ ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ امر واقع (عالم ثبوت ) ہی قضاء و قدر ہے بلکہ یہ افراد ہیں جو مختلف امور کی وقوع پذیری کو خلق کرتے ہیں اور خاص حالات اور شرائط، ان میں تبدیلی لا سکتے ہیں ) ۔
     

    جواب :

    قضاء و قدر ایسے قوانین اور ضوابط ہیں کہ جن پر نظام ہستی میں رونما ہونے والے واقعات انحصار کرتے ہیں اور ان میں سے بعض قوانین انسان اور اس کے ارادہ سے تعلق رکھتے ہیں اور خود انسان کا با ارادہ ہونا انہی قوانین میں سے ہے ۔ لہذا خود انسان اپنی زندگی کی کیفیت اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ کے ذریعہ ان سے تعلقات اور روابط کو رقم کرتا ہے ۔ جو آیات انسان کے ارادہ سے متعلق قوانین کو بیان کرتی ہیں ان میں سے ایک آیت یہ ہے کہ : إِنَّ اللَّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد، 11) خداوندا وند عالم کسی قوم کے حالات کو تبدیل نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ لوگ خود اپنی حالت کو تبدیل نہ کرلیں ۔ ان حالات اور واقعات میں سے بعض تکوینی امور اور انسان کے اختیار ، ارادہ اور افعال سے خارج ہیں مثلا بارشیں ، سیلاب ، زلزلے ، جنگیں اور اموات وغیرہ کہ جو خدا کے ارادہ سے وجود میں آتے ہیں اور انکے واقع ہونے میں انسان کا ارادہ اور عمل ، اثر نہیں رکھتا ۔ ان حوادث کو روکنے یا ان سے بچنے کے لیے سوا ئے دعا ، خدا سے لو لگانے ، اس کی طرف توجہ کرنے اور پیغمبر اسلامﷺ اور آئمہ اطھار علیہم السلام سے درخواست کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے چونکہ خداوند عالم اپنی قضاء کو قدر کے ذریعہ سے دفع کرتا ہے ۔ جیسا کہ امیرالمؤمنین نے ارشاد فرمایا ہے : میں قضاء الہی سے قدر الہی کی طرف فرار کرتا ہوں ۔

     
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011