پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Tuesday 11 December 2018 - الثلاثاء 02 ربيع الثاني 1440 - سه شنبه 20 9 1397
 
 
 
 
  • حضرت فاطمہ (س) کی شادی  
  • 2011-04-18 11:50:3  
  • CountVisit : 43   
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • یہ بات شروع سے ہی سب پر عیاں تھی کہ علی (ع) کے علاوہ کوئی دوسرا دختر رسول (ص) کا کفو و ہمتا نھیں ہے ۔ اس کے باوجودبھی بہت سے  ایسے لوگ، جو اپنے آپ کو پیغمبر (ص) سے نزدیک سمجھتے تھے اپنے دلوں میں دختر رسول (ص) سے شادی کی امید لگائے بیٹھے تھے ۔  
    مورخین نے لکھا ھے : جب سب لوگوں نے قسمت آزمائی کر لی تو حضرت علی (ع) سے کہنا شروع کر دیا : اے علی (ع) آپ دختر پیغمبر (ص) سے شادی کے لئے نسبت کیوں نہیں دیتے ۔ حضرت علی (ع) فرماتے تھے : میرے پاس ایسا کچھ بھی نھیں ھے جس کی بنا پر میں اس راہ میں قدم بڑھاؤں ۔ وہ لوگ کہتے تھے : پیغمبر (ص) تم سے کچھ نہیں مانگیں گے ۔
    آخر کار حضرت علی (ع) نے اس پیغام کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کیا ۔ اور ایک دن رسول اکرم (ص) کے بیت الشرف  میں تشریف لے گئے لیکن شرم و حیا کی وجہ سے آپ اپنا مقصد ظاھر نہیں کر پا رہے تھے ۔
    مورخین لکھتے ھیں کہ :آپ اسی طرح دو تین مرتبہ رسول اکرم (ص) کے گھر گئے لیکن اپنی بات نہ کہہ سکے۔ آخر کار تیسری مرتبہ پیغمبر اکرم (ص) نے پوچھ ہی لیا : اے علی کیا کوئی کام ھے ؟
    حضرت امیر (ع) نے جواب دیا : جی ، رسول اکرم (ص) نے فرمایا : شاید زھراء سے شادی کی نسبت لے کر آئے ھو ؟ حضرت علی (ع) نے جواب دیا، جی۔  چونکہ مشیت الٰھی بھی  یہی چاہ رہی تھی کہ یہ عظیم رشتہ برقرار ھو لھذا حضرت علی (ع) کے آنے سے پہلےہی  رسول اکرم (ص) کو وحی کے ذریعہ اس بات سے آگاہ کیا جا چکا تھا ۔ بہتر تھا کہ پیغمبر (ص) اس نسبت کا تذکرہ زھراء سے بھی کرتے لھذا آپ نے اپنی صاحب زادی سے فرمایا : آپ ، علی (ع) کو بہت اچھی طرح جانتیں ھیں ، وہ مجھ سے سب سے زیادہ نزدیک ھیں ، علی (ع) اسلام سابق خدمت گذاروں اور با فضیلت افراد میں سے ھیں، میں نے خدا سے یہ چاہا تھا کہ وہ تمھارے لئے بھترین شوھر کا انتخاب کرے ۔
    اور خدا نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں آپ کی شادی علی (ع) سے کر دوں آپ کی کیا رائے ھے ؟
    حضرت زھراء (س) خاموش رھیں ، پیغمبر اسلام (ص) نے آپ کی خاموشی کو آپ کی رضا مندی سمجھا اور خوشی کے ساتھ تکبیرکہتے ھوئے وھاں سے اٹھ کھڑے ھوئے ۔ پھر حضرت امیر (ع) کو شادی کی بشارت دی۔ حضرت فاطمہ زھرا (س) کا  مھر ۴۰ مثقال چاندی قرار پایا اور اصحاب کے  ایک مجمع میں خطبہ نکاح پڑھا دیا گیا ۔قابل غور بات یہ ھے کہ شادی کے وقت حضرت علی (ع) کے پاس ایک تلوار ، ایک ذرہ اور پانی بھرنے کے لئے ایک اونٹ کے علاوہ کچہ بھی نہیں تھا ، پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا : تلوار کو جھاد کے لئے رکھو ، اونٹ کو سفر اور پانی بھرنے کے لئے رکھو لیکن اپنی زرہ کو بیچ ڈالو تاکہ شادی کے وسائل خرید سکو ۔ رسول اکرم (ص) نے جناب سلمان فارسی سے کھا : اس زرہ کو بیچ دو جناب سلمان نے اس زرہ کو پانچ سو درھم میں بیچا ۔ پھر ایک بھیڑ ذبح کی گئ اور اس شادی کا ولیمہ ھوا ۔ جھیز کا وہ سامان جو دختر رسول اکرم (ص) کے گھر لایا گیا تھا ،اس میں چودہ چیزیں تھی ۔
    شھزادی عالم، زوجہ علی (ع)، فاطمہ زھراء (ع) کا بس یہی مختصر سا جہیز تھا ۔ رسول اکرم (ص) اپنے چند با وفا مھاجر اور انصار اصحاب کے ساتھ اس شادی کے جشن میں شریک تھے ۔ تکبیروں اور تہلیوں کی آوازوں سے مدینہ کی گلیوں اور کوچوں میں ایک خاص روحانیت پیدا ھو گئی تھی  اور دلوں میں سرور و مسرت کی لہریں موج زن تھیں ۔ پیغمبر اسلام (ص) اپنی صاحب زادی کا ہاتھ حضرت علی (ع) کے ھاتھوں میں دے کر اس مبارک جوڑے کے حق میں دعا کی اور انھیں خدا کے حوالے کر دیا ۔ اس طرح کائنات کے سب سے  بہتر جوڑے کی شادی کے مراسم نہایت سادگی سے انجام پائے ۔

     
    نام :
    Lastname :
    E-Mail :
     
    OpinionText :
    AvrRate :
    %0
    CountRate :
    0
    Rating :
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011