پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Wednesday 12 December 2018 - الأربعاء 03 ربيع الثاني 1440 - چهارشنبه 21 9 1397
 
 
 
 
  • حضرت فاطمہ(س) کا نظام عمل   
  • 2011-04-18 11:49:5  
  • CountVisit : 48   
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • حضرت فاطمہ زہرا نے شادی کے بعدجس نطام زندگی کا نمونہ پیش کیا وہطبقہ نسواں کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔  آپ گھر کا تما م کام اپنے ہاتھ سے کر تی تھیں۔ جھاڑو دینا، کھانا پکانا،  چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت کرنا۔یہ سب کام اور ایک اکیلی سیدہ لیکن نہ توکبھی تیوریوں پر بل پڑے اورنہ کبھی اپنے شوہر حضرت علی علیہ السّلام سے اپنے لیے کسی مددگار یا خادمہ کے انتظام کی فرمائش کی۔  ایک مرتبہ اپنے پدر بزرگوار حضرت رسولِ خدا سے ایک کنیز عطا کرنے کی خواہش کی تو رسول نے بجائے کنیز عطا کرنے کے وہ تسبیح تعلیم فرمائی جو تسبیح فاطمہ زہرا کے نام سے مشہورہے .۳۴ مرتبہ الله اکبر،33 مرتبہ الحمد الله اور 33 مرتبہ سبحان الله۔ حضرت فاطمہ اس تسبیح کی تعلیم سے اتنی خوش ہوئی کہ کنیز کی خواہش ترک کردی۔ بعد میں رسول نے بلاطلب ایک کنیز عطا فرمائی جو فضہ کے نام سے مشہور ہے۔  جناب سیّدہ اپنی کنیز فضہ کے ساتھ کنیز جیسابرتاؤ نہیں  کرتی تھیں بلکہ  اس سے ایک برابر کے دوست جیسا سلوک کرتی تھیں. وہ ایک دن گھر کا کام خود کرتیں اور ایک مدن فضہ سے کراتیں۔  اسلام کی تعلیم یقیناً یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں زندگی کے جہاد میں مشترک طور پر حصہ لیں اور کام کریں . بیکار نہ بیٹھیں مگر ان دونوں میں صنف کے اختلاف کے لحاظ سے تقسیم ُ عمل ہے . اس تقسیم کار کو علی علیہ السّلام اور فاطمہ نے مکمل طریقہ پر دُنیا کے سامنے پیش کر دیا۔  گھر سے باہر کے تمام کام اور اپنی قوت ُ بازو سے اپنے اور اپنے گھر والوں کی زندگی کے حرچ کاسامان مہیا کرنا علی علیہ السّلام کے ذمہ تھے اور گھر کے اندر کے تمام کام حضرت فاطمہ زہرا انجام دیتی تھیں۔

     
    نام :
    Lastname :
    E-Mail :
     
    OpinionText :
    AvrRate :
    %0
    CountRate :
    0
    Rating :
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011