پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Thursday 13 December 2018 - الخميس 04 ربيع الثاني 1440 - پنج شنبه 22 9 1397
 
 
 
 
  • آذان و اقامت  
  • Sendtofriend
  •  
  •  
  • مسئلہ٢٠٥:عورت اور مرد دونوں کے لۓ مستحب ہے کہ پنجگانہ نماز کے لۓ آذان و اقامت کہے بلکہ اقامت کا ترک کرنا مناسب نہیں ہے لیکن پنجگانہ نماز کے علاوہ دوسری واجب نمازوں کے لۓ جیسے نماز آیات کے لۓ مستحب ہے پہلے تین مرتبہ الصلوٰة کہا جاۓ۔

    مسئلہ٢٠٦:اگر آذان و اقامت اس طرح کہے کہ غنا شمار ہو یعنی اس طرح ہو جاۓ جو آواز لہو لعب کے لۓ مخصوص ہو تو حرام ہے اور اگر غنا کی حد تک نہ پہنچے تو مکروہ ہے۔

    مسئلہ٢٠٧:پانچ نمازوں میں آذان ساقط ہو جاتی ہے اول جمعہ کے دن نماز عصر میں بنا بر قول مشہور، دوسرے عرفہ (٩/ذیحجہ )کی نماز عصر میں، تیسر ے عید قربان کی شب نماز عشاء میں اس شخص کے لۓ جو مشعر الحرام میں ہو، چوتھے مستحاضہ عورت کی نماز عصر اور عشاء میں بنا بر قول مشہور، پانچویں جو بول و براز کے روکنے پر قادر نہ ہو اسکی نماز عشاء میں یہی حکم ہے بنابر مشہور اس شخص کے لۓ جو پاخانہ روکنے پر قادر نہ ہو۔مذکورہ بالا پانچ صورتوں میں آذان اس وقت ساقط ہوتی ہے جب دوسری نماز پہلی نماز کے بعد بلا فاصلہ پڑھی جاۓ یا پھر بہت کم فاصلہ ہو لیکن نافلہ کی نماز کا فاصلہ ہو جانا سقوط کے لۓ مضر ہے۔جس وقت بھی ظہر وعصر یا مغرب و عشاء کی نماز یں ملا کر پڑھی جائیں تو دوسری نمازوں کے لۓ آذان ترک کرنے میں کوئ حرج نہیں ہے اور احادیث صحیحہ میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اسلام صلّی اﷲ علیہ و آلہ وسلّم نے دو نمازیں ملا کر پڑھیں اور دوسری نماز میں آذان نہیں کہی۔

    مسئلہ٢٠٨:اگر نماز جماعت پڑھنے کے لۓ آذان و اقامت کہی جاچکی ہے تو اس جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والا رجائً اپنی نماز کے لۓ آذان و اقامت کہہ سکتا ہے۔

    مسئلہ٢٠٩:اگر نماز جماعت پڑھنے کے لۓ کوئ مسجد میں جاۓ اور دیکھے کہ جماعت ختم ہو چکی ہے تو جب تک صفیں منتشر نہ ہو ئ ہوں تو اپنی نماز کے لۓ آذان و اقامت نہیں کہہ سکتا ہے۔

     
     
  • RelatedArticle
  •  
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011