پايگاه اطلاع رساني دفتر آيت الله العظمي شاهرودي دام ظله
ArticleID PicAddress Subject Date
{ArticleID}
{Header}
{Subject}

{Comment}

 {StringDate}
Sunday 18 November 2018 - الأحد 08 ربيع الأول 1440 - يکشنبه 27 8 1397
 
 
 
 
Question :
QuestionCode :
  • QaID :  
  • 15950  
  • QDate :  
  • 2014-03-20  
  • ADate :  
  • 2014-07-13  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال : عید نوروز کس حد تک ایک اسلامی عید ہے ؟ اور اس ضمن میں وارد نصوص کی صحت کس حد تک صحیح ہیں ؟ پس اگر یہ صحیح نہیں ہیں تو کیا جائز ہے مسلم اس کو منائیں اور عید کی ماند منائیں ؟
     Answer :
    جواب: اسلامی عیدیں عیدالفطر اور عید الاضحی ہیں۔ عید نوروز کو اسلامی عید جانتے ہوے منانا صحیح نہیں ہے۔ لیکن اس روز خوشی منانے میں کویی حرج نہیں ہے۔
  • QaID :  
  • 14104  
  • QDate :  
  • 2013-03-08  
  • ADate :  
  • 2013-03-08  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: رجعت۔ سوال: رجعت کے بارے میں آپ کی کیا نظر ہے؟ کیا یہ اصول مذہب میں سے ہے؟
     Answer :
    جواب: جو چیز صحیح اور متوتر روایات سےسمجھ میں آتی ہے اس کی بنیاد پر رجعت اصول مذہب میں سے ہے، لیکن اس کی تفصیلات پر عقیدہ رکھنا واجب نہیں ہے۔ بہتر ہے کہ رجعت کے بارے میں آئمّہ علیہم السلام کی بعض روایات کی طرف اشارہ کیا جائے: حضرت امام باقر علیہ السلام نےسورۂ بقرہ کی 243 ویں آیت (ألم تر اِلی الذین خرجوا من دیارھم و ھم اُلوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثمّ أحیاھم) ‘‘ کیا آپ نے ان لوگوں کے حال پر نظر نہیں کی جو موت کے ڈر سے ہزاروں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکلے تھے ؟ اللہ نے ان سے فرمایا: مر جاؤ، پھر انہیں زندہ کر دیا، ’’ کے بارے میں فرمایا: ‘‘ یہ افراد شام کے ایک شہر کے رہنے والے تھے جس میں ستّر ہزار گھر تھے۔۔۔خدا نے انہیں ماردیا اورپھر دوبارہ زندہ کردیا۔ ان میں سے بعض افراد ،دوسروں کو دیکھ رہے تھے جو اللہ کی تسبیح کررہے تھے۔(کافی،جلد8، صفحہ198 ،اور بحارالانوار،جلد14،صفحہ360)۔ اسی طرح سے سورۂ بقرہ کی 259ویں آیت جو رجعت واقع ہونے کے ایک مقام کو بیان کررہی ہے: ( أو کالذی مرّ علی قریۃٍ وھی خاویۃ علی عروشھا قال اَنّی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا فأماتہ اللہ مائۃ عام ثمّ بعثہ ) ‘‘یا اس شخص کی طرح جس کا ایک ایسی بستی سے گزر ہوا جو اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی تھی تو اس نے کہا: اللہ اس (اجڑی ہوئی آبادی کو) مرنے کے بعد کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا؟ پس اللہ نے سو (١٠٠) برس تک اسے مردہ رکھا پھر اسے دوبارہ زندگی دی’’۔ اور اسی طرح امام علیہ السلام نے سورۂ عبس کی 22ویں آیت ( ثمّ اِذا شاءَ أنشرہ ) ‘‘پھر جب اللہ چاہے گا اسے اٹھا لے گا ’’ کی تفسیر میں فرمایا: رجعت کے وقت (زندہ کرے گا)۔ سورۂ انبیاء کی 95ویں آیت بھی رجعت پر دلالت کررہی ہے: ( و حرام علی قریۃٍ أھلکناھا أنّھم لایرجعون ) ‘‘اور جس بستی (کےمکینوں ) کو ہم نے ہلاک کیا ہے ان کے کے لیے ممکن نہیں کہ وہ (دوبارہ ) لوٹ کر آئیں’’۔ کیوں کہ کوئی بھی مسلمان قیامت کے دن تمام انسانوں ( چاہے وہ ہلاک ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں) کے پلٹنے کا منکر نہیں ہے، لہٰذا آیت میں ‘‘اس کے (مکینوں ) کے لیے ممکن نہیں کہ وہ (دوبارہ ) لوٹ کر آئیں’’ سے مراد، رجعت ہے۔ روایت میں آیا ہے کہ : ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے کہا: اہل سنت کا یہ خیال ہے کہ آیۂ ( یوم نحشر من کلّ امّۃٍ فوجا ) نمل/83 ترجمہ‘‘اور جس روز ہم ہر امت میں سے ایک ایک جماعت کو جمع کریں گے’’ میں خدا کی مراد، قیامت کا دن ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: تو کیا خداوندعالم قیامت کے دن ہر امّت میں سے ایک گروہ کو اُٹھائے گا اور دوسروں کو یوں ہی مردہ چھوڑ دے گا؟! نہیں، ایسا نہیں ہے، اور یہ گروہ یا جماعت کی اُٹھایا جانا ( قیامت سے پہلے) رجعت میں ہے۔ اسی طرح سے امام صادق علیہ السلام نےسورۂ غافر کی 11ویں آیت ( قالوا ربّنا أمتّنا اثنتین و أحییتنا اثنتین) ‘‘(کافر) کہتے ہیں، اے خدا تو نے ہمیں دو بار موت دی اور دو بار زندہ کیا’’ کے بارے میں فرمایا: یہ رجعت ہے۔( بحارالانوار،جلد53، صفحہ56، روایت36 )۔ اور اسی طرح سورۂ دخان کی 10ویں آیت ( فارتقب یوم تأتی السماء بدخان مبین ) ‘‘پس آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان نمایاں دھواں لے کر آئے گا’’ کے بارے مں امام نے فرمایا: یہ وہ دن ہوگا جب رجعت میں اُٹھائے جائینگے ۔(بحارالانوار،جلد53، صفحہ57، روایت35، باب29 )۔ امام رضاعلیہ السلام نے بھی مامون کے سوال ‘‘ رجعت کے بارے میں آپ کی نظر، کیا ہے؟’’ کے جواب مں فرمایا: ‘‘ رجعت حق ہے اور گذشتہ امّتوں میں رہی ہے۔۔۔’’۔( بحارالانوار،جلد25، صفحہ135، روایت6، باب4 )۔ سورۂ بقرہ کی تیسری آیت (الذین یؤمنون بالغیب) ‘‘جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں ’’ کی تفسیر میں، آیا ہے کہ غیب سے مراد، اُٹھایا جانا اور حضرت صاحب الزمان( عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ) کے زمانے مں رجعت ہے۔( بحارالانوار،جلد24، صفحہ351، روایت69)۔ ایسی روایات جن میں رجعت، سے متعلق ، آیات سے استدلال کیا گیا ہے، بہت زیادہ ہیں ۔( بحارالانوار،جلد53،باب28 اور29)۔
  • QaID :  
  • 14103  
  • QDate :  
  • 2013-03-08  
  • ADate :  
  • 2013-03-08  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: مومنین کے نزدیک عاشورہ کے دن عزاداری کا تقدّس۔ سوال:کسی شخص نے یہ کہا ہے کہ :‘‘ عراق میں بعض لوگ، عاشورہ کے دن جشن مناتے اور شراب پیتے ہیں اور بعض لوگ شبِ عاشورہ سردی سے بچنے کے لیے شراب پیتے ہیں۔’’ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
     Answer :
    جواب: عراق اور دوسرے ملکوں میں شیعہ، روزِ عاشورہ کو غم و اندوہ اور گریہ و زاری کا دن سمجھتے ہیں اور عزاداری برپا کرتے ہیں۔ اگر کوئی عام دنوں میں شراب پیتا ہو تو وہ بھی عاشورہ کے دن امام حسین علیہ السلام کے غم اور اُن کے احترام میں نہیں پیتا، اس دن جشن منانا اور اس دن کی وجہ سے شراب پینا تو بہت دور کی بات ہے۔ نہیں ہرگز بھی ایسا نہیں ہے اور یہ بات حقیقت نہیں رکھتی۔ ہاں بعض سیاہ دل لوگ، ممکن ہے اپنی عادت کی بنا پر اس دن بھی پیتے ہوں، لیکن اس دن جشن منانے کے عنوان سے نہیں۔ اور یہ چیز ان ملینوں عزادروں اور مومنین سے تعلق نہیں رکھتی جو سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے مصائب کا غم منارہے ہوتے ہیں۔
  • QaID :  
  • 14099  
  • QDate :  
  • 2013-03-07  
  • ADate :  
  • 2013-03-07  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: اسلام میں جمہوریت۔ سوال: کیا اسلام میں جمہوریت کا تصوّر پایا جاتا ہے؟ جمہوریت کیا چیز ہے؟ اور کیا کسی غیر اسلامی مغربی پارلمنٹ کی درخواست یا لوگوں سے کچھ چاہنا جائز ہے؟
     Answer :
    جواب: جمہوریت اپنے مغربی معنیٰ میں اگر عوام کی حکومت عوام پر ہو ( اس معنیٰ میں کہ تمام امور لوگوں کے ووٹ اور ان کی مرضی پرمنحصرہوں یہاں تک کہ قانون سازی اور اسی طرح سے لوگوں کو کردار کی آزادی، حتیٰ سرعام اور بغیر کسی پابندی کے حرام کاموں کے ارتکاب وغیرہ کی آزادی بھی ہو، بلکہ حکومت اس قسم کی فردی آزادی کی حمایت کرے)تو اسلام کی نگاہ میں اس قسم کی جمہوریت قابل قبول نہیں ہے۔ لیکن اگر جمہوریت کے معنیٰ حق کی پرستش اور اسلامی دائرے میں رہتے ہوئے لوگوں کے حقوق،رائے، مسلک اور آزادی کا احترام ہوتو، تو یہ وہی چیز ہے جس کی طرف اسلام دعوت دیتا ہے۔ لیکن یہ آج کی اصطلاحی جمہوریت کے معنیٰ نہیں ہیں، بلکہ دنیائے غرب کا ہدف پہلے والے معنیٰ ہیں۔ غیر اسلامی پارلمنٹ کی درخواست جائز نہیں ہے، کیوں کہ اسلام کی جانب سے ایسی پارلمنٹ کو قانون سازی کا حق نہیں دیا گیا ہے۔دوسرے یہ کہ غیر مسلم کی مسلمان پر ولایت اور سرپرستی جائز نہیں ہے۔( ولن یجعل اللہ للکافرینَ علی المؤمنین سبیلا)۔ نساء/141‘‘اور اللہ ہرگز کافروں کو مومنوں پر غالب نہیں آنے دے گا’’۔ روایت میں آیا ہے کہ( اِنّ الاسلام یعلو و لا یُعلیٰ علیہ)۔ من لا یحضر الفقیہ،334/4۔‘‘ اسلام ہر دین سے افضل ہے اور کوئی دین و مذہب اس پر برتری نہیں رکھتا’’۔
  • QaID :  
  • 14098  
  • QDate :  
  • 2013-03-07  
  • ADate :  
  • 2013-03-07  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: شیخیہ۔ سوال: شیخ احمد احسائی کے بارے میں آپ کی نظر شریف کیا ہے؟
     Answer :
    جواب: احسائی کے نظریات بے ربط و نامعقول اور انحراف میں مبتلا کرنے والے ہیں ۔ وہ کہتا ہے: روح کا ہورقلیائی جسم میں پلٹنا معاد یا قیامت ہے، اس مادّی جسم کی طرف پلٹنا نہیں۔ہورقلیائی سے اس کی مراد ایک ایسی چیز ہے جو بدن مثالی سے پہلے برزخی رہی ہے۔اگر اس کی اس بات کی تأویل نہ کی جائے تو یہ ایک مصدقہ اور یقینی مسئلہ یعنی معاد یا قیامت کی مخالفت کرتی ہے۔ جو چیز قرآن و سنّت سے ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ معاد اسی مادی اور طبیعی جسم کے ساتھ واقع ہوگی کسی اور چیز کے ساتھ نہیں۔ اس طرح کے قابل تأویل الفاظ اس کی باتوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ اس کی دین داری کی کمزوری کو بیان کرنے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کا راستہ اور مسلک، ‘‘شیخیہ’’ اور ‘‘بابیہ’’ کے بنیادی عقائد کے لیے اساس قرار پایا ہے۔ اس کے شاگردوں میں سے سید کاظم رشتی ہے،جو محمد علی باب جوکہ بابیہ کا بانی ہے، اس کا استاد ہے۔محمد علی باب رشتی کی افکار سے متأثر ہے، اور رشتی، احسائی کے افکار سے متأثر تھا۔ کسی موضوع کے بارے میں زبان نہ کھولنا، اس بات سے بہت بہتر ہے کہ انسان اس بارے میں جاہلانہ اور غلط انداز میں بحث کرے، اس طرح کہ وہ خود بھی گمراہ ہوجائے اور دوسروں کو بھی گمراہ کردے۔
  • QaID :  
  • 14093  
  • QDate :  
  • 2013-03-06  
  • ADate :  
  • 2013-03-06  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: تصوّف۔ سوال: تصوّف کیا ہے؟ کیا اسے قبول کرنا جائز ہے؟ کیا ہمارے علماء میں سے کوئی اس مذہب یا اس سے منسوب رہا ہے؟
     Answer :
    جواب: مذہب توّنف کو قبول کرنا جائز نہیں ہے۔ ہمارے علماء میں سے کوئی اس مذہب کا پیروکار نہیں ہے اور اگر کی کی طرف اس کی نسبت دی گئی ہے تو اس نسبت کا صحیح ہونا ثابت نہیں ہوا ہے۔تصوّف، اہلِ بیت علیہم السلام کے راستے سے انحرافی اور بھٹکا ہوا راستہ ہے۔بلکہ بعض صوفیوں کی گفتار اور انکا کردار اسلامی اعتقادات اور احکام الٰہی سے مخالفت بھی رکھتا ہے۔
  • QaID :  
  • 14092  
  • QDate :  
  • 2013-03-06  
  • ADate :  
  • 2013-03-06  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: دینی اور اخلاقی اقدار کا نسبی نہ ہونا۔ سوال: درج ذیل عقیدے کے بارے میں آپ کی نظر کیا ہے؟ ‘‘ معنوی یا غیر مادّی اقدار مطلق یا بغیر کسی حدود کے نہیں ہیں بلکہ ان اقدار کے لیے خاص حدود اور دائرے پائے جاتے ہیں کہ جو اس دنیا میں انسان کی واقعیت کی بہ نسبت اس کی مادّی اور طبیعی ضروریات سے اُبھرتی ہیں ’’۔ وہ شخص شرعی استثنائات مثلاً بعض مواقع جیسے مصلحت کے وقت جھوٹ کے جائز ہونے اور بعض صورتوں میں سچّائی کے حرام ہونے کو ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے: ‘‘ اخلاقی اقدار کی بنیاد پر، حتیٰ مختلف ادیان میں، نسبتیں پائی جاتی ہیں اور اسی وجہ سے علمائے اصول نے کہا ہے: ‘‘کوئی ایسا عام نہیں ہے جس کے لیے تخصیص نہ پائی جائے’’۔(ما من عام الّا و قد خصّ)
     Answer :
    جواب: اگر دینی اقدار سے مراد اخلاقی اقدار ہوں تو یہ اقدار بغیر کسی قید و شرط کے مطلق ہیں، کیوں کہ یہ عقلائی امور میں سے ہیں۔ یعنی عقلاء اس بات پر متفق ہیں اور عقل نظری اس کا حکم دیتی ہے۔ نتیجتاً اخلاقی اقدار مثلاً ظلم کی قباحت اور اس کی برائی اور عدل کا نیک اور حسن ہونا، کسی بھی دور اور زمانے میں تبدیل نہیں ہوتا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ بعض اوقات ان اقدار کے مفہوم اور مصداق کے درمیان تطبیق میں اختلاف پایا جائے۔ جہاں پرجھوٹ نقصان دہ ہو وہاں پر ظلم کی برائی اور دوسروں کو نقصان پہنچانے پر صادق آتا ہے، اور جہاں جھوٹ بولنے میں مصلحت پائی جائے وہاں احسان اور نیکی جیسے عناوین کے ساتھ ہم آہنگی اور سازگاری پیدا کرلیتا ہے، جو عقل کے نزدیک بھی پسندیدہ ہے۔ اسی طرح سے صداقت وسچّائی اور اسی جیسی چیزیں بھی ہیں۔ لیکن اگر دینی اقدار سے مراد خدا کے احکام یا شرعی احکام ہیں، تو یہ بھی مطلق ہیں، کیوں کہ یہ حقیقی مصلحتوں اور مفاسد یا نقصانات کے تابع ہیں۔کبھی یہ ممکن ہے کہ یہ اقدار، موضوع کے عنوانِ ثانوی میں تبدیل ہونے کی وجہ سے، بدل جائیں، جس کے ذیل میں حکم بھی تبدیل ہوجائےگا، لیکن یہ چیز شرعی حکم کے اطلاق اور اس کے نسبی نہ ہونے کو ختم نہیں کرسکتی۔ اصولیوں کے اس قول ‘‘کوئی ایسا عام نہیں ہے جس کے لیے تخصیص نہ پائی جائے’’(ما من عام الّا و قد خصّ) ۔ کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دینی اقدار سے تعلق نہیں رکھتا، کیوں کہ دینی اقدار واقعی اور حقیقی امور ہیں لیکن جس چیز کو علماء نے ذکر کیا ہے وہ لفظ اور حقیقت اور واقعیت کی حکایت یا اسے بیان کرنے کی طرف پلٹ رہا ہے اور ان کے اس قول ‘‘ اکثر عام مفاہیم کے لے تخصیص پائی جاتی ہے’’ کا لازمی مطلب اقدار کی نسبیت نہیں ہے۔بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ بات کرنے والا یا متکلم اکثر اوقات پہلے عمومی بات کرتا ہے اور پھر (کسی دلیل کی بنیاد پر) خود اس عمومی بات کے لیے تخصیص یا استثناء کو ذکر کرتا ہے، اس ببیاد پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کا اصل مقصد وہ عام مفہوم نہیں تھا (بلکہ اس کی گفتگو کا اصل موضوع مستثناء تھا )۔
  • QaID :  
  • 14085  
  • QDate :  
  • 2013-03-05  
  • ADate :  
  • 2013-03-05  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: اسلام کی نگاہ میں دنیاوی امور کو انجام دینا۔ سوال: امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی کتاب ‘‘آداب معنوی نماز’’ کی دوسری جلد میں آیا ہے: ‘‘ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ خاتم الانبیاء پیغمبر ہاشمی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی دعوت کے دو پہلو ہیں: دنیاوی پہلو اور اُخروی پہلو۔ اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات صاحب شریعت کے لیے ایک فخر ہے اور اس کی نبوت کے لیے کمال ہے۔ پس ایسے لوگ دین شناس نہیں ہیں اور رسالت کے اہداف و مقاصد اور آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی دعوت سے غافل ہیں کیوں کہ دنیا کی طرف دعوت دینا اہداف پیغمبری سے خارج ہے اور دنیا کی طرف مائل ہونے کے لیے حسّ شہوت اور غضب، اور ظاہری اور باطنی شیطان کافی ہے اور انبیاء کی جانب سے دنیا کی طرف رجحان کو اُبھارنے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ شہوت اور غضب کو پیدا کرنے کے لیے قرآن اور نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء اس لیے مبعوث ہوئے ہیں تاکہ لوگوں کو دنیا کی طرف جانے سے روکیں اور شہوت و غصّہ کی آزادی اور چھوٹ کو محدود اور مقیّد کریں اور لوگوں کو انکی شہوانی اور غضبانی قوت کی سرکشی اور بغاوت سےروکنے کی طرف دعوت دیں۔ انبیاء بعض چیزوں سے فائدہ اٹھانے اور ان کے استعمال کو محدود کرتے ہیں اور غافل انسان یہ گمان کرتا ہے کہ وہ حضرات لوگوں کو دنیا کی طرف بلا رہے ہیں۔ وہ بے راہ روی کے راستوں کو بند کرتے ہیں وہ سرکشی اور بغاوت کی حیوانی خصلت کو قابو کرتے ہیں نہ یہ کہ ان برائیوں کی طرف دعوت دیتے ہیں، کیوں کہ شریعت کی طرف دعوت کی روح اور حقیقت، مباح اور حلال چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کاروبار اور آمدنی کو معیّن کرنا ہے اور سرکش نفسانی رجحانات کو روکنا ہے مثلاً کھانا اس چیز کو ،جو مباح ہے اور اس چیز (حرام غذا) کو کھانے سے روکنا جس کی طرف انسانی نفس مائل ہورہا ہے، یا نکاح کرنا شرائط و ضوابط کے ساتھ۔ ہاں انبیاء مطلقاً اور پوری طرح سےان کاموں یا امور کےمخالف اور منکر نہیں ہیں کیوں کہ یہ کائنات کے نظام کامل کی مخالفت اور اس سے مقابلہ ہے۔(آداب معنوی نماز،صفحہ97)۔ ایسے علماء جو اسلام کو دین و دنیا دونوں کا مکتب جانتے ہیں، ذکر کی گئی فکر کو منتہی بہ رہبانیت اور بے حرکتی جانتے ہیں، دنیاوی زندگی میں جمود اور جدید ٹیکنولوجی اور تہذیب سے مسلمانوں کی دقیانوسیّت اور پیچھے رہ جانا جانتے ہیں۔خاص طور پر شرعی احکام اور اسلامی مفاہیم میں ایسی چیزیں ملتی ہیں جو انسان کو دین اور دنیا (دنیا و آخرت) دونوں کی طرف بلاتی ہیں، آپ کی نظر اس مسئلہ سے متعلق کیا ہے؟
     Answer :
    جواب: صحیح نظر ایک تیسری نظر ہے، میری کوشش ہوگی کہ اس مسئلہ سے متعلق اجمالی طور پر اخبار اور روایات کی روشنی میں ان دو نظریات کی درمیانی راہ بیان کروں۔ ایسی روایات جو زراعت اور کاشتکاری، حیوانات کی پرورش اور تجارت کی طرف ترغیب دلاتی ہیں اور وہ روایات جو نکاح کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور اسی طرح معصوم علیہ السلام کا فرمان کہ: ‘‘ جو آخرت کو دنیا کے لیے اور دنیا کو آخرت کے لیے ترک کرتا ہے، ہم میں سے نہیں ہے’’۔ اور اسی طرح ‘‘ اپنی دنیا کے لیے اس طرح کام کرو کہ جیسے دنیا میں ہمیشہ رہو گے اور اپنی آخرت کے لیے ایسے کام کرو جیسے کل تم مرجاؤ گے’’ اور شیخ صدوق علیہ الرحمۃ نے حضرت امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے روایت بیان کی ہے ‘‘ ہر آن خداوندعالم زیادہ سونے والے، بے کار،بے نظم اور باطل پسند بندے کو دشمن رکھتا ہے’’ اور روایت عبدالاعلیٰ ‘‘ خدا سے دنیا میں عافیت اور بے نیازی، اور آخرت میں بخشش اور جنّت طلب کرو’’(وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ19،حدیث2،باب7مقدمات تجارت)۔ احمدبن محمد بن ابی نصرکے صحیفہ میں آیا ہےکہ:کوفہ میں میرے حالات زندگی مجھ پر تنگ اور بحرانی ہوگئے تو طلب معاش کے لیے بغداد کا ارادہ کیا، اس پہاڑ جیسے اقدام نے رزق و روزی کے دروازے لوگوں کے لیے کھولے۔پس امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘ اگر شہر سے نکلنے کا ارادہ کیا ہے تو نکل جاؤ، کیوں کہ اس سال کوفہ میں قحط ہےاور لوگوں کے لیے طلب معاش کے لیے شہر سے باہر نکلنے کے علاوہ چارہ نہیں ہے، لہٰذا طلب رزق کو ترک نہ کرو’’۔ اور سکونی کی معتبر روایت‘‘ مال و ثروت اور سرمایہ (بے نیازی) پرہیز گاری کے لیے بہترین مدد ہے’’۔ عمر بن یزید کی امام صادق علیہ السلام سے روایت کہ :‘‘ یقیناً میں ایسی حاجت کو طلب کرنے کے لیے جسے میرا خدا پورا فرمائے ، سواروں کی طرح تیزی سے آگے بڑھتا ہوں اور میں آگے نہیں بڑھتا سوائے اس کے، کہ میں خدا کی بارگاہ میں یہ عرض کروں کہ وہ مجھے حلال رزق کو طلب کرتے دیکھے، کیا تم نے خدائے عزّوجلّ کے اس فرمان کو نہیں سناکہ: (فاِذا قضَیتَ الصَّلاۃَ فانتشروا في الأرضِ وابتغُو مِن فضلِ اللہ) سورۃ جمعہ/10،ترجمہ‘‘ پھر جب نماز ختم ہو جائے تو (اپنے کاموں کی طرف) زمین میں بکھر جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو’’۔ اور روایت حسنہ جو خالد نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے کہ: ‘‘ جب تم لوگ صبح سویرے نماز سے فارغ ہوجاؤ تو فوراً رزق و روزی کی تلاش میں نکلو اور خدا سے رزق حلال طلب کرو، تاکہ وہ بھی جلدہی تمہیں تمہارا رزق دےاور حلال رزق کی تلاش میں تمہاری مدد فرمائے’’۔ اور اس روایت کا ظاہر حلال رزق طلب کرنے کا حکم ہے اور صرف حرام سے باز رہنے کی نہی، نہیں ہے۔ اسی طرح سے دیگر روایات بھی ہیں جو فقہ کے مختلف ابواب میں ذکر ہوئی ہیں، خاص طور پر ابواب نکاح و طلاق میں ، کہ جن میں ان دونوں چیزوں کا حکم اور ان کی طرف ترغیب دلائی گئی ہے۔ لیکن تیسری نظر یہ ہے کہ: اسلام انسان کو دنیا اور آخرت دونوں کی طرف دعوت دیتا ہے، لیکن دنیا کو ہدف اور مقصد نہیں جانتا بلکہ آخرت کے لیے مقدمہ کے عنوان سے پہچانتا ہے۔ درجِ ذیل روایت اس بات پر گواہ ہے: ‘‘دنیا آخرت کے لیے پُل(گذرگاہ) ہے’’، ‘‘ دنیا آخرت کی کھیتی ہے’’ اور ابن ابی یعفور کی صحیح روایت کہ جس میں ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ : خدا کی قسم ہم دنیا کے پیچھے دوڑرہے ہیں، ہمیں یہ پسند ہے کہ اسے حاصل کرلیں۔امام علیہ السلام نے فرمایا: تم دنیا حاصل کرکے کیا کرنا چاہتے ہو؟، عرض کیا: اپنے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ نیکی کروں، صلہ رحم کروں،صدقہ دوں اور حج و عمرہ بجالاؤں۔اس مقام پر امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ‘‘یہ سب طلب دنیا نہیں ہیں بلکہ یہ طلب آخرت ہے’’۔(وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ19، حدیث3،باب مقدمات تجارت)۔ ایسے شواہد بھی پائے جاتے ہیں جو دنیا کو آخرت کے مقدمے کے عنوان سے نہیں بلکہ خود دنیا کو ہی نیک شمار کرتے ہیں: ( ھو أنشأکُم مِن الأرض ِو استعمرکم فیھا) ھود/61۔ ترجمہ: اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تمہیں آباد کیا۔ اور امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ: ‘‘جو بھی اپنے مال کے لیے اپنی جان دے بیٹھے، وہ شہید ہے’’۔(وسائل الشیعہ،جلد11،صفحہ93،روایت14،باب46)۔ فضیل اعور کی روایت: میں معاذ بن کثیر کے ساتھ تھا کہ اس نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: اب، جبکہ میری زندگی کی حالت بہتر ہوگئی ہے، کیا میں تجارت کو ترک کردوں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا : اگر تم نے ایسا کیا تو تمہاری کم عقلی یا اسی جیسی کوئی چیز ہوگی۔ (وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ6، حدیث3،باب مقدمات تجارت)۔ ہشام ابن احمر کی روایت: حضرت ابوالحسن علیہ السلام نے مصادف سے فرمایا: ‘‘ دن کے آغاز میں، اپنی عزّت اور سربلندی یعنی (تجارت کے لیے) بازار کی طرف جاؤ’’ (وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ4، حدیث10،بابِ اوّل مقدمات تجارت)۔ فضیل بن یسار کی روایت: میں نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: میں چاہتا ہوں کہ تجارت کو ترک کردوں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: ایسا کام نہ کرو اور اپنے گھر کے دروازے کو کھولو اور اپنی بساط کو بچھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے روزی طلب کرو’’(وسائل الشیعہ،جلد2،صفحہ8، حدیث11،باب 2مقدمات تجارت)۔ علی بن عقبہ کی روایت: امام صادق علیہ السلام نے ایک خدمت گزار سے فرمایا:‘‘ اے خدا کے بندے اپنی عزت کی حفاظت کرو’’۔عرض کیا: میں آپ پر قربان، عزّت کیا چیز ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا:‘‘ کاروبار(تجارت) کے لیے بازار جانا اور اپنے نفس کا احترام کرنا سرفرازی ہے’’۔ اور ایک دوسرے خدمت گزار سے فرمایا:‘‘ کیوں صبح کو اپنی عزّت کی طرف نہیں جاتے؟’’ عرض کیا: میں تشیع جنازہ میں شرکت کے لیے جانا چاہتا ہوں۔تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:‘‘ پس شام کے وقت کو اپنی عزت کے لیے ترک نہ کرنا’’(وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ5، حدیث13،بابِ اوّل مقدمات تجارت)۔ اسباط بن سالم کی روایت : ایک دن امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا۔ معاذ جو کپڑا فروخت کرنے کا کام کرتا تھا اس سے آپ نے دریافت کیا تو اس نے آپ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیاکہ تجارت کو ترک کرچکا ہوں۔آپ علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘ تجارت کو ترک کرنا شیطان کا کام ہے۔ جو بھی تجارت کو ترک کرے اس نے اپنی ایک تہائی عقل کو ہاتھ سے جانے دیا ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے شام سے آنے والے قافلہ سے سامان خریدا اور تجارت کی اور اس سے حاصل ہونے والے منافع سے اپنا قرض ادا کیا’’ (وسائل الشیعہ،جلد12،صفحہ8، حدیث10،باب 2مقدمات تجارت)۔ اگرچہ اس روایت کا دوسرا حصّہ اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ تجارت دوسرے نیک کاموں کے لیے مقدمہ ہے(جیسے قرض ادا کرنے،نکاح کے اخراجات پورا کرنے اور انفاق وغیرہ) ، لیکن اس روایت کا پہلا حصہ گذشتہ رویات کی طرح سے ہے جو اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ خود تجارت کرنے کا حکم ہوا ہے، اس بنیاد پر تجارت دوسرے پسندیدہ کاموں کے لیے مقدمہ ہونے کے پہلو سے بھی خدا کے احکاًم مںً شامل ہے اور خود تجارت میں بھی مطلوب اور پسندیدہ ہونے کا گوشہ پایا جاتا ہے۔ مثلاً حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت کا اقرار جو خود ہی ایک مطلوبہ امر ہے، اور ساتھ ہی ساتھ عبادات کے قبوًل ہونے کی شرط بھی ہے۔ یا نماز ظہر کی طرح سے ہے جو خود واجب ہے اور نماز عصر کے صحیح ہونے کا مقدمہ بھی ہے( یعنی جب تک نماز ظہر نہ پڑھی جائے نماز عصر پڑھنا بے کار ہے)۔
  • QaID :  
  • 14080  
  • QDate :  
  • 2013-03-04  
  • ADate :  
  • 2013-03-04  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: دعاؤں کے ذریعے سے شفا طلب کرنا۔ سوال: سورۃ قیامت کی 26 ویں اور 27 ویں آیات کی تفسیر کیا ہے؟(کلّا اِذا بلغت التراقی*و قیل من راق) ‘‘ (کیا تم اس دنیا میں ہمیشہ رہو گے ؟) ہرگز نہیں ! جب جان حلق تک پہنچ جائے گی۔ اور کہا جائے گا: کون ہے (بچانے والا)معالج؟’’ کیا یہ صحیح ہے کہ بعض روایات میں، بیمار کی شفا کے لیے یا آفت کو ٹالنے کے لیے یا ضرر اور نقصان کو دفع کرنے کے لیے، بعض دعاؤں کا پڑھنا یا انہیں تعویض کے طور پر اپنے ساتھ رکھنا مستحب شمار کیا گیا ہے؟ جب کہ بعض دوسری روایات میں بیماری کے وقت طبیب سے رابطہ کرنےاور علاج کے لیے طبیعی طریقوں اور دوا لینے کی تاکید ہوئی ہے۔ کس طرح سے ہم ان دونوں قسموں کی روایات کو جمع کرسکتے ہیں؟
     Answer :
    جواب : لفظ راق کے معنیٰ کسی ایسی چیز کے ہیں جو بیمار کو بیماری سے نجات دلائے، چاہے دوا کے ذریعے یا دعا کے ذریعے، لہٰذا دونوں کو اپنے اندر شامل کیے ہوئے ہے۔ جیسا کہ امام باقر علیہ السلام کی حدیث میں بھی نقل ہوا ہے۔(تفسیر برہان، جلد4، صفحہ408)۔ اس بنا پر علاج معالجہ کے لیے طبیب یا ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ، شفا حاصل کرنے کے لیے دعائیں پڑھنے کے ساتھ منافات نہیں رکھتا۔ کیوں کہ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، بیماری کو معیّن کرنا اور اس کا علاج طبیب کا کام ہے اور شفا عطا کرنا اور دوا کو مؤثر بنانا خدا وندمتعال کا کام ہے۔ لہٰذا علاج کے دو مراحل ہیں: پہلا یہ کہ علاج کا مرحلہ طے کیا جائے اور طبیعی اسباب سے فائدہ اُٹھایا جائے اور دوسرا مرحلہ شفا کا ہے جو خدا کا کام ہے، اس طرح کہ خداوند عالم طبیعی عوامل اور موجودات میں بیماری سے علاج کے لیے اثر پیدا کرتا ہے۔اور دعائیں اور اسی جیسی دوسری چیزیں دوسرے مرحلے میں مؤثر ہوتی ہیں، اس طریقے سے کہ انسان دعا کرتا ہے اور اللہ شفا کو اس دوا میں قرار دے دیتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ خدا، بعض اوقات دعاؤں اور اسی طرح دوسری چیزوں کو شفا کے لیے عامل قرار دے، جیسا کہ اثر کو دوا میں قرار دیتا ہے دعا میں بھی اثر پیدا کردے، لیکن ایسا ہمیشہ اور استقلالی طور پر عطا نہیں ہوتا۔ لیکن مجموعی طور پر مختلف امور اور کاموں کے واقع ہونے سے متعلق خدا کا ارادہ یہ ہے کہ یہ عام طریقوں سے اور عوامل اور اسباب کے ذریعے سے انجام پائیں۔ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام بیمار ہوگئے تو انہوں نے کہا: ‘‘ جس نے مجھے بیماری میں مبتلا کیا ہے وہی مجھے شفا بھی دے گا’’ اور وہ طبیب کے پاس نہیں گئے۔ ان پر وحی نازل ہوئی: ‘‘ اے موسیٰ! کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے توکّل کے ذریعے میری حکمت کو باطل کردو؟ پس وہ کون ہے کہ جس نے مختلف اشیاء میں، دواؤں کی حقیقت اور اس کے اثر کو قرار دیا ہے؟۔’’
  • QaID :  
  • 14077  
  • QDate :  
  • 2013-03-03  
  • ADate :  
  • 2013-03-03  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: فقہاء عقائد کے امین بھی ہیں۔ سوال: کیا جامع الشرائط عادل فقہاء جو فتوےاور تقلید کے لیے فقہ آل محمد علیہم السلام کے امانت دار ہیں، عقائد کے بھی امین ہیں؟ کیا یہ صحیح ہے کہ ان میں سے بعض کے بارے میں کہا جائے(العیاذباللہ) کہ یہ حضرات لوگوں کی حمایت اور ان کی طرفداری ختم ہونے کے خوف سے، لوگوں کی مرضی یا ان کے تمایلات کا خیال رکھتے ہوئے اظہار نظر کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات لوگوں کو راضی کرنے کے لیے خرافات کی بھی تائید کردیتے ہیں؟
     Answer :
    جواب: بے شک، فقہاء لوگوں کے عقائد کے بھی امین ہیں۔ لوگوں کی مرضی کا خیال رکھنا اگر ان فقہاء کی شرعی ذمہ داریوں کے خلاف ہوتو ان کے جامع الشرائط مجتہد ہونے سے تضاد رکھتا ہے۔ اور جب تک یہ حضرات عادل ہیں اس وقت تک یہ فرض ہی نہیں کیا جاسکتا کہ لوگوں کی مرضی کا خیال رکھتے ہوئے اپنی شرعی ذمہ داری کے خلاف عمل کریں گے، کیوں کہ ان کی عدالت انہیں اس کام سے روکتی ہے۔جب فرض یہ کیا گیا ہے کہ جامع الشرائط فقہاء کے فتوے دینا اس معنیٰ میں ہے کہ وہ حضرات اس بات پر محتاط ہیں کہ حتیٰ ان کا ضمیر لاشعوری میں بھی نفسانی خواہشات میں مبتلا نہ ہو اور نتیجے میں لوگ گناہ کے مرتکب نہ ہوں، تو اس بات کا امکان باقی نہیں رہتا۔ جیسا کہ پہلے زمانے کے ایک عالم نے ایسے کنوئیں کے پانی کے بارے میں حکم شرعی کو استنباط کرتے وقت کہ جس میں مردہ حیوان گرگیا تھا، پہلے اپنے گھر کے کنوئیں کو بھرا اور پھر حکم شرعی کو جاننے کے لیے استنباط کا عمل انجام دیا تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے گھر کے کنوئیں کو بچانے کے خاطر لا شعوری طور پر انہیں، ایسے کنوئیں کے پانی کی پاکیزگی کے حکم کی طرف لے جائے۔
  • QaID :  
  • 14076  
  • QDate :  
  • 2013-03-03  
  • ADate :  
  • 2013-03-03  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:آیۂ ( سئل سائل بعذاب واقع ) کا شان نزول۔ سوال۔ بعض لوگ قدیم اہل سنت مفسرین کی پیروی کرتے ہوئے، یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آیۂ ‘‘سئل سائل بعذاب واقع* للکافرین لیس لہ دافع* من اللہ ذی المعارج ’’( معارج/1سے3) ترجمہ: ایک سوال کرنے والے نے عذاب کا سوال کیا جو واقع ہونے ہی والا ہے۔کفار کے لیے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے۔ عروج کے مالک اللہ کی طرف سے ہے۔ مکی ہے اور ہرگز بھی قبول نہیں کرتے کہ سائل نضر بن حارث تھاکہ جس نے غدیر کے دن امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت کے اعلان کے بعد پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے عذاب طلب کیا تھا۔ جیسا کہ اس بات پر شیعہ اور بہت سے سنی مفسرین کا اجماع ہے۔میرا سوال یہ ہے کہ، ایسے شخص کی حیثیت جو آئمہ علیہم السلام کی بہت سی صحیح السند روایات کا انکار کرتا ہے، کیا ہے؟ اور کیا اہل بیت علیہم السلام کی روایات کا انکار کرنا اللہ تعالیٰ کے فرمان کو ردّ کرنے کی طرح ہے؟
     Answer :
    جواب: شیعہ اور بہت سے مفسرین عامّہ جیسے ثعلبی نے اپنی تفسیر میں، قرطبی، حاکم حسکانی اور دیگر نے مشترکہ طور پر روایت کی ہے کہ یہ آیت واقعۂ غدیر کے بعدنعمان بن حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔جیسا کہ مجمع البیان اور تفسیر المیزان میں آیا ہے۔ لیکن مفسرین عامہ میں سے ایک نے کہا ہے: سوال کرنے والا مکہ میں نضر بن حارث تھا اور بدر کے دن اس پر عذاب نازل ہوا۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ نزول آیت کے مصداق کے بارے میں تحریف واقع ہوئی ہے۔اور پورے کا پورا سورہ مکی نہیں ہے۔ اس بات کی تائید اس طرح ہوتی ہے کہ حارث کا نام ذکر کیا ہے اور نعمان کو نضر سے تبدیل کردیا گیا ہے۔ حتیٰ کوئی اس بات کا قائل بھی ہے کہ یہ آیت کسی دوسرے شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود حارث کا نام بھی اس کے قول میں موجود ہے۔بعض اہل سنت مفسرین نے کہا ہے کہ سائل نضر بن حارث تھا اور واقعہ غدیر کے بعد کا ہے۔ لیکن یہ بات بھی تحریف شدہ ہے کیوں کہ نضر بن حارث بدر کے روز امیرالمومنین علیہ السلام کے ہاتھ سے مارا گیا تھا۔ شاید سائل اس کا بیٹا جابر رہا ہو اور بعید نہیں ہے کہ ایک سے زیادہ واقعات رونما ہوئے ہوں(الغدیر،جلد1،صفحہ239،285سے 315،بیروت کی اشاعت)۔ بہ ہر حال اس آیت کا مفسر اہل علم و معرفت اور خاص طور پر شیعہ ہونے کا دعویدار ہوتو ضروری ہے کہ وہ اس واقعہ کو نقل کرے اور اس فضیلت کو بھی روشن کرے۔ لیکن اس بارے میں اہل بیت علیہم السلام کی رویات کو نقل نہ کرنا، اہل بیت کے انکار کے معنیٰ میں نہیں ہے کہ ایک طرح سے خداوندمتعال کے انکار کاسبب بنے، اور نتیجے میں شرک کی حدود میں شمار ہو۔ لیکن اگر روایت متواتر ہو یا معلوم الصدور ہو اور اس کی دلالت بھی تامّ اور کامل ہو تو اس صورت میں، ایسی روایت کو ردّ کرنا اہل بیت علیہم السلام کو ردّ کرنا شمار ہوگا۔
  • QaID :  
  • 14067  
  • QDate :  
  • 2013-03-02  
  • ADate :  
  • 2013-03-02  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: صراط کا مجسم ہونا۔ سوال: ایسے شخص کے بارے میں شارع مقدس کی کیا نظر ہے جو صراط کو ایک راز یا مرموز چیز جانتا ہے؟ وہ کہتا ہے: لفظ صراط کسی مادّی چیز کو بیان نہیں کرتا۔ قرآن میں صراط اس راستے یا طریقے سے تعبیر ہے جو انسان اچھے یا برے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے طی کرتا ہے۔ اسی لیے جہاں بھی قیامت میں صراط کی نزاکت یا باریکی کی بات کی جاتی ہے، دراصل اس باریکی کے لیے کنایہ کے طور پر ہے جو سیدھے راستے اور انحرافی راستے کو معیّن کرنے کے درمیان پایا جاتا ہے۔البتہ صراط کے حقیقی وجود اور ظاہری جسم رکھنے سے متعلق معصومین علیہم السلام کے بہت سے اقوال پائے جاتے ہیں۔
     Answer :
    جواب: لغت میں صراط راستے کے معنیٰ میں ہے اور اس لیے اس کا نام صراط رکھا گیا کہ یہ ثواب الٰہی کی طرف لے جاتا ہے۔امیرالمومنین اور آئمہ علیہم السلام کوبھی صراط کے نام سے یاد کیا گیا ہے، کیوں کہ ان ہستیوں کہ معرفت اور ان سے تمسک کرنا خدا تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت ہے کہ ‘‘ میں اللہ کا سیدھا راستہ اور اس کی نہ ٹوٹنے والی مضبوط رسی ہوں’’ (انا صراط اللہ المستقیم و عروتہ التی لاانفصام لھا) بحارالانوار، جلد8،صفحہ70۔ اگر قیامت میں صراط، میزان عدل، جنّت و جہنّم، اور اعمال کے حساب و کتاب کے وجود کی حقیقی شناخت ہمارے لیے ممکن نہ ہوتو ہم پر واجب ہے کہ کم سے کم اجمالی صورت میں ان چیزوں پر عقیدہ رکھیں۔لیکن جو بات روایات سے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ صراط کوئی راز یا اشارہ نہیں ہے بلکہ ایک مجسّم حقیقت اور جہنم کے اوپر ایک پُل ہے۔کچھ لوگ بجلی کی سی سرعت کے ساتھ، ایک گروہ تیزی سے دوڑتا ہوا اور بعض لوگ گرتے پڑتے اس پر سے گزریں گے۔لیکن بعض لوگ اس سے لٹک جائیں گے اور جہنّم انہیں اپنی طرف کھینچ لے گا (بحارالانوار،جلد8،صفحہ64)۔ شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے: ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ صراط حق ہے اور وہ جہنم کے اوپر ایک پُل ہے اور ہر ایک انسان اس پر سے گذرے گا۔‘‘ و اِن منکم اِلّا واردھا کان علیَ اللہ حتماً مقضیا ’’ (مریم/71) ترجمہ: اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہو گا جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ حتمی فیصلہ آپ کے رب کے ذمے ہے۔ صراط ایک دوسرے معنیٰ میں ،خدا کی حجّتوں کا نام ہے۔ جس نے بھی خدا کی ان حجتوں کو اس دنیا میں پہچانا اور ان کی پیروی کی، خداوند متعال اسے قیامت کے دن صراط پر سے گذرنے کی اجازت عطا فرمائے گا۔ شیخ صدوق علیہ الرحمۃ کے قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ صراط ایک مجسم اور ظاہری حقیقت ہےاور وہ جہنم کے اوپر ایک پُل ہے۔اگرچہ اس کے دوسرے معنیٰ بھی ہیں۔
  • QaID :  
  • 14066  
  • QDate :  
  • 2013-03-02  
  • ADate :  
  • 2013-03-02  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: غزواۃ میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی شرکت۔ سوال: میں نے کتابوں میں تلاش کیا ہے لیکن میں نے کہیں نہیں دیکھا کہ حضرت سلمان نے پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ غزواۃ میں جنگجو یا مجاہد کے عنوان سے شرکت کی ہو۔ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔
     Answer :
    جواب: جیسا کہ بحارالانوار میں ذکر کی گئی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ، حضرت سلمان محمدی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ان افراد میں شامل تھے جو رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ جنگوں اور غزواۃ میں شرکت کیا کرتے تھے اور آپ ہی تھے کہ جنہوں نے جنگ خندق میں آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کو مدینہ منورہ کے اطراف میں خندق کھودنے کا مشورہ دیا تھا( بحارالانوار، جلد20، صفحہ417)۔ اسی طرح آپ، سن آٹھ ہجری میں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ طائف گئے۔ اور پیغمبر کی خدمت میں عرض کیا: میرے خیال میں ضروری ہے کہ دشمن کے قلعہ کے سامنے منجنیق نصب کیجیئے( بحارالانوار، جلد21، صفحہ168)۔ روایت اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ سلمان رضی اللہ عنہ کا چھوڑہ ہوا ترکہ، ایک تکیہ، ایک تلوار اور ایک مٹی کا پیالہ تھا(بحارالانوار، جلد72، صفحہ54)۔ اس بنا پر روایات کے مجموعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت سلمان نے جنگوں میں شرکت کی اور جنگ بھی کی ہے۔ آپ اور دوسرے مخلص صحابہ کے ناموں کے ذکر نہ ہونے کی وجہ، اکثر اوقات یہ رہی ہے کہ دیگر افراد سے متعلق روایات، خدا کی راہ میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی شجاعت ، آپ کی جاں نثاری اورجنگوں میں آپ کی بہادری، سےمتعلق روایات کے سامنے ماند پڑجاتی ہیں۔ اس بنیاد پر، بہت سی جنگوں میں حضرت امام علی علیہ السلام اور آپ کی شجاعت کا ذکر ملتا ہے اور دوسرے واقعات رہ جاتے ہیں۔ سفینۃ البحار میں بھی اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سلمان رضوان اللہ علیہ تمام جنگوں میں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ شریک رہے ہیں۔
  • QaID :  
  • 14065  
  • QDate :  
  • 2013-03-02  
  • ADate :  
  • 2013-03-02  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا حضرت فاطمہ علیہا السلام کی خدمت میں حاضر ہونا۔ سوال: بعض روایات کہتی ہیں کہ: جب سلمان محمدی رضی اللہ عنہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تشریف فرماں ہوتی تھیں لیکن جب ابوذر رضی اللہ عنہ اور دوسرے اصحاب آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو آپ علیہا السلام پردے کے پیچھے تشریف لے جاتی تھیں۔ اس مسئلہ کا کیا راز یا حقیقت ہے؟
     Answer :
    جواب: ہم نے ایسی روایات کہ جن کی طرف سوال میں اشارہ کیا گیا ہے، نہیں دیکھی ہیں۔ لیکن بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حرےت سلمان رضی اللہ عنہ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، آپ علیہا السلام سے گفتگو کیا کرتے اور آپ کا حال احوال دریافت کیا کرتے تھے۔ یہ ممکن ہے کہ ایسا جناب سلمان کے خاص مرتبےکی وجہ سے ہو، جیسا کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے: سلمان منّا اہل البیت۔ روایت میں آیا ہے کہ ایمان کے دس درجہ ہیں اور سلمان ایمان کے نویں درجہ پر فائز ہیں۔ سلمان ایسی بزرگ ہستی کے مالک تھے جو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے اوصیاء اور خاص دوستوں میں سے تھی اور آپ علیہ السلام کے حق کا دفاع کرنے والوں میں سے تھے۔ اس کے علاوہ ضعیف العمرصحابی کے ساتھ، گذشتہ انبیاء کے اوصیاءمیں سے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کے پاس اسم اعظم کا علم بھی تھا۔
  • QaID :  
  • 14057  
  • QDate :  
  • 2013-02-28  
  • ADate :  
  • 2013-02-28  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: امام زمانہ علیہ السلام کی معرفت کا ضروری ہونا۔ سوال: بعض لوگ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ، یہ حدیث ‘‘ جو بھی مرجائے اور اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے وہ جہالت کی موت مرا ہے’’ اس حدیث کی سند اعتراض سے خالی نہیں ہے، آپ کی نظر اس بارے میں کیا ہے؟
     Answer :
    جواب۔ یہ حدیث شیعہ اور سنی دونوں کے نزدیک متواتر حدیثوں میں سے ہے، اور اس کی سندیں صحیح ہے۔ان ہی میں سے ایک سند کے ساتھ یہ حدیث ہے جسے مرحوم کلینی نے اصول کافی کی دوسری جلد میں باب دعائم الاسلام کی چھٹی حدیث کومحمد بن یحییٰ سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے صفوان سے، انہوں نے عیسیٰ بن سری ابی یسع سے روایت کی ہے۔یہ سند صحیح اور روایت طویل ہے، رجوع فرمائیں(اصول کافی جلد1،صفحہ371،376،377،378،اور اصول کافی جلد2،صفحہ20،21، اور بحارالانوار جلد8،صفحہ12،168،362،368، اور مستدرک جلد18،صفحہ174،177،183،187)
  • QaID :  
  • 14055  
  • QDate :  
  • 2013-02-28  
  • ADate :  
  • 2013-02-28  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:شعائر حُسینی علیہ السلام ۔ سوال: شعائر حسینی علیہ السلام کے بارے میں آپ کی کیا نظر ہے ؟ اور ان لوگوں کے جواب میں آپ کیا فرماتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ عزاداری اور شعائر حسینی ، آئمہ علیہم السلام کے زمانے میں نہیں تھی لہٰذا آج مشروعیت نہیں رکھتی۔
     Answer :
    جواب: حق یہ ہے کہ یہ شعائر حسینی اور عزاداری ،شعائر الٰہی کے روشن اور واضح مصادیق میں سے ہیں ، اس بنیاد پر خدا وند عالم کا یہ فرمان،ان چیزوں کو شامل کیے ہوئے ہے: (وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ‌ )﴿الحج‏، 32﴾(جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔) اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ یہ عزاداری آئمہ علیہم السلام کی تاریخ میں ذکر نہیں ہوئی ہے، اس سے متعلق یہ ضروری ہے کہ کہا جائے : 1۔ کہیں کہیں ایسا بھی ہوا ہے کہ بعض چیزیں جو تاریخ میں واقع ہوئی ہیں لیکن وہ بعض وجوہات کی وجہ سے تاریخ میں نقل نہیں ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر مؤرخ ہر قسم کے واقعات کو لکھنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا تھا یا کسی محدودیت یا پابندی کی وجہ سے اور رابطہ قائم کرنے میں پائی جانے والی سختیوں کی وجہ سے کسی واقعے یا حادثے کی خبر ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں پہنچتی تھی یا بہت دیر میں پہنچتی تھی۔لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ ایک جگہ پر عزاداری برپا ہوتی رہی ہو لیکن ایک دوسری سرزمین کے رہنے والوں کو اس کی خبر نہ ہو اور چونکہ ہم زمانے کے لحاظ سے ان سے بہت دور ہیں اس لیے ہمارے لیے عدم اطلاع کا امکان بہت قوی ہے۔ مثلاً تاریخ اسلام میں ایسے شواہدنہیں پائے جاتے جو اس بات پر حاکی ہوں کہ پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے غنائم جنگی کے علاوہ کسی اور سے خمس لیا ہو۔ تو کیا یہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ خمس صرف غنائم جنگی سے تعلق رکھتا ہے؟ یا کم سے کم یہ احتمال ممکن ہے کہ اس زمانے میں غنائم جنگی کے علاوہ دوسری چیزیں بھی تھیں کہ جو خمس سے متعلق تھیں۔ لیکن اس بات کا امکان کہ چونکہ خمس کو صرف اہل بیت علیہم السلام کے لیے خرچ کیا جاسکتا تھا اس لیے آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے بزرگی دکھاتے ہوئے اسے لینے سے صرف نظر فرمایا، زکوٰۃ کے برخلاف کہ جسے امّت کے تمام افراد پر خرچ کرنا ہوتا تھا، غیر قابل قبول ہے۔ کیوں کہ غنائم جنگی کا خمس اور غیر غنائم جنگی کا خمس اس حیثیت سے کہ دونوں ہی اہل بیت علیہم السلام سے متعلق تھے، مشترک ہے۔ نتیجہ یہ کہ آئمہ علیہم السلام کے زمانے میں شعائر حسینی علیہ السلام اور عزاداری کے وجود کا انکار صحیح نہیں ہے کیوں کہ تمام حوادث اور واقعات تاریخ کے صفحات میں ذکر نہیں ہوئے ہیں۔ 2۔ اگر یہ فرض بھی کیا جائے کہ آئمہ کے زمانے میں یہ شعائر حسینی اور عزاداری نہیں تھی تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرات اس زمانے میں سخت تقیّہ کے عالم میں تھے اور علی الاعلان اس قسم کی مجالس یا عزاداری کا برپا کرنا ممکن نہیں تھا اور مخفی یا پوشیدہ انداز میں یہ مجالس برپا ہوتی رہی ہیں مثلاً عباسی خلفاء کے دور میں چونکہ خون خواہی امام حسین علیہ السلام (مقاتل الطالبین اور مناقب ابن شہر آشوب)کے نام پر بعض تحریکیں عباسی حکومت کے خلاف پائی جاتی تھیں، لہٰذا حکومت ، تختہ اُلٹنے کے خوف سے آئمہ علیہم السلام اور ان کے شیعوں پر انتہائی سختی روا رکھے ہوئے تھی یہاں تک کہ سیدالشُہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضۂ مبارک کو گرادینے کی حد تک پہنچ چکے تھے۔(بحار الانوار،جلد نمبر45 ،صفحہ 390 سے 400 تک) ۔ پس دشمنوں کی جانب سے شدید دباؤ، عزاداری حسینی علیہ السلام کے ظاہر اور آشکار ہونے کے لیے مانع رہا ہے۔ اس مسئلہ سے متعلق تحقیق یہ ہے کہ آئمہ علیہم السلام کی جانب سے ایسی بہت سی روایات جو مجالس عزائے حسینی علیہ السلام اور ان مجالس میں مرثیے، سلام اور نوحے وغیرہ پڑھنے کی ترغیب دلاتی ہیں یا ان کی جانب مائل کرتی ہیں اور ہر وہ کام کرنے سے متعلق جو ان حضرات کی تعلیمات کو زندہ کرنے کا سبب بنتی ہیں، بیان اور نقل ہوئی ہیں۔(بحارالانوار،جلدنمبر44،صفحہ نمبر278)۔ مثال کے طور پر دو روایات کی طرف توجہ فرمائیں: 1۔ معتبرہ سدیر: میں نے امام صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا کہ جس نے اپنے باپ کی موت کے غم میں اپنے لباس کو چاک کیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ‘‘ یقیناً ( امام حسین ابن علی علیہماالسلام کی مصیبت پر زنانِ بنی ہاشم نے) لباس پارہ کیے اور اپنے چہروں پر طمانچے مارے، تم لوگ بھی اس قسم کی مصیبتوں پر لباس چاک کرو اور اپنے منہ پرطمانچے مارو۔’’(تہذیب الاحکام، جلد اول،صفحہ نمبر325،حدیث نمبر 1207) 2۔ اسی طرح وہ روایت جو کہتی ہے ‘‘بنی ہاشم کی خواتین نے سیاہ اور پشمی لباس پہنے اور امام سجاد علیہ السلام نے ان کی عزاداری میں کھانا کھلایا(نذر امام حسین علیہ السلام) تقسیم کی۔’’(بحارالانوار،جلد نمبر45،صفحہ نمبر188) اہم نکتہ یہ ہے کہ، امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کی شکل و صورت مختلف زمانوں اور مختلف مقامات پر مختلف اور جدا رہی ہے لیکن سب ہی لوگ عزاداری سیدالشہداء علیہ السلام کو برپا کرنے میں شریک اور متفق ہیں۔ آخر میں تمام مؤمنین سے میری گذارش ہے کہ اپنی طاقت اور توانائی کے مطابق شعائر حسینی علیہ السلام اور عزاداری کو قائم اور برپا کرنے کی کوشش فرمائیں اور تمام مؤمنین کو اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ ایک بند انگشت کے برابر بھی اس کام میں پیچھے نہ رہیں، ورنہ واقعہ کربلا بھلا دیا جائے گا بلکہ اس کا انکاربھی کردیا جائے گا،جیسا کہ واقعہ غدیر کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، جبکہ پیغمبرصلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم، خداوند متعال کے حکم سے حضرت امام علی علیہ السلام کی امامت اور ان کی امارت کو پہنچانے اور اسے ابلاغ کرنے پر مأمور تھے، کم سے کم ساٹھ ہزار صحابی حاضر اور شاہد تھے اور انہوں نے یہ امر قبول بھی کیا اور امام علی علیہ السلام پر امیرالمؤمنین ہونے کے عنوان سے سلام بھی بھیجا۔ لیکن ان میں سے بہت سارے شاہد اور گواہ ، عمل سے اس کے منکر ہوگئے۔ آج بھی سیدالشہداء علیہ السلام کے قیام کا، مخالفین حق کی جانب سے انکار اور اس کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ جس نے اسلام کے تنومند درخت کو جٹ سے اُکھاڑ پینکھنے کا ارادہ کیا ہوا ہے، اس نے اس درخت کی شاخوں کو کاٹنا شروع کردیا ہے۔ اور اللہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار برا مانیں۔(واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون) سورہ صف/ 8۔
  • QaID :  
  • 14054  
  • QDate :  
  • 2013-02-28  
  • ADate :  
  • 2013-02-28  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: نت نئے اور عجیب و غریب طریقوں سے عزاداری کرنا۔ سوال:ایک شخص امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت سے واپس آیا تو اس نے بتایا کہ : ‘‘ چند روز پہلے ایران میں عاشورہ کے دن ایک ماتمی انجمن کا جلوس جانوروں کی شباہت کے ساتھ نکالا گیا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ لوگ کسی بھی طریقے سے چاہیں عزاداری کریں اور جانوروں کہ طرح گھٹنیوں یا سینے کے بل جلوس کا راستہ طے کریں، یہ لوگ کل جانوروں کی آوازیں یا ان ہی جیسی چیزوں کے ساتھ عزاداری کے عنوان سے جلوس نکالیں گے جو لوگوں کو حیرت میں ڈال دے۔’’ میری آپ سے گذارش ہے کہ اس واقعے کی حقیقت سے آگاہ فرمائیں، کیا مشہد میں ایسا ہوا ہے؟
     Answer :
    جواب: اس شخص نے، یہ واقعہ بُرے انداز میں اور پیچ و خم کے ساتھ آپ کے سامنے بیان کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومنین کے بعض گروہ جو دور افتادہ علاقوں سے امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے لیے آتے ہیں کبھی ان لوگوں کا آنا ایام عزاء (ماہ محرم و صفر) کے زمانے میں بھی ہوتا ہے۔ جب وہ صحن شریف رضوی یا اس کے نزدیک پہنچتے ہیں تو وہ لوگ امام سے محبت اور زیارت کے شوق کی وجہ سے جوش میں آکر زمین پر گرجاتے ہیں اور اس عظیم نعمت اور زیارت کی توفیق حاصل ہونے پر اللہ تعالیٰ کے حضورسجدہ کرتے ہیں۔ کیوں کہ زیارت ایسے ظاہر کا نام ہے کہ جس کی روح طلب و چاہت ہے۔ ان کی محبوب ہستی نے ان کو اپنی جانب طلب کیا اور ان کو دیدار کی اجازت دی ہے۔ اور نتیجے میں وہ شدّت شوق، محبت اور انکساری سے اپنے چہروں کو خاک پر رکھ دیتے ہیں اور اسی حالت میں مرقد مطہر کی جانب کھنچے چلے جاتے ہیں۔یہ وہی مقام ہے کہ جہاں عقل اس عشق و محبت کے مظاہرے کے آگے ہاتھ باندھے مبہوت اور حیرت زدہ رہ جاتی ہے۔ جب محب کو اس کا محبوب ملاقات کے لیے بلاتا ہے تو اس کے قدموں میں کھڑا رہنے کی طاقت نہیں رہتی تو، شوق ملاقات کی شدّت سے زمین پر گر جاتا ہے اور سینہ کے بل اپنے محبوب کی سمت بڑھتا ہے۔ یہ حالت محبت کے مظاہر میں سے ایک مظہر اور شوق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ ان لوگوں کی یہ کیفیت جب تک مستحب شرعی کی مطلوبیت اور مستحب زیارت کی ایک قسم شمار نہ ہو، تو مانع نہیں رکھتی۔ بلکہ ایک عام بات ہے جو ایک ایسے محب سے ظاہر ہوئی ہے جو اپنے محبوب کی زیارت کو جارہا ہے۔ جیسا کہ اس مقدس روضہ کے در و دیوار کو چومنا ہے۔ و ما حبّ الدیار شغفن قلبی و لکن حبّ من سکن الدیار (اس دیار کی محبت نے میرا دل نہیں چرایا، بلکہ اس دیار کے رہنے والے کی محبت نے مجھے دل فریفتہ کردیا ہے)۔ ایسا ممکن ہے کہ مومنین کے اس عمل کو اہل بیت علیہم السلام سے محبت کا اظہار اور ان کی یاد منانے کے عنوان سے جانا جائے تو یہ مستحب شرعی کا عنوان بھی حاصل کرسکے۔ بہ ہر حال، یہ حزن اور عزا کا اظہار نہیں ہوتا اور اس کا عزاداری اور شعائر حسینی علیہ السلام سے کو ئی تعلق نہیں ہے اور اس کا مقصد ہرگز بھی عزاداری نہیں ہے۔
  • QaID :  
  • 14053  
  • QDate :  
  • 2013-02-28  
  • ADate :  
  • 2013-02-28  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال: جناب عالی کی نظر ایسی عزاداری کے بارے میں کیا ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے، جیسے اپنے چہرے پر زور زور سے طمانچے مارنا، اپنے سر پر ہاتھ مارنا یا شدید اور اونچی آواز سے گریہ و زاری کرنا وغیرہ ؟
     Answer :
    جواب:شعائر حسینی علیہ السلام یا عزاداری کو برپا کرنا، خدا وند متعال کے نزدیک پسندیدہ اور نیک عمل ہے اور شعائر الٰہی میں سے ہے، (وَ مَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ‌ )﴿الحج‏، 32﴾(جو شعائر الٰہی کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔)۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ شدید گریہ کرنا یا سر و صورت کو پیٹنا،کسی شخص کو نقصان پہنچائے، اگرچہ خون نکلنے یا سرخ اور نیل پڑجانے کا سبب بنے۔ اور بدن کو پیٹنے کے حرام ہونے پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی، مگر یہ کہ خود کشی یا کسی عضو کے ناقص ہونے یا بعض حواس کے باقی نہ رہنے کا سبب بنے۔
  • QaID :  
  • 13845  
  • QDate :  
  • 2012-12-29  
  • ADate :  
  • 2013-07-10  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    I want to ask that can a Sayyid Shia girl marry a non Sayyid Shia boy is it allowed.
     Answer :
    بسمہ تعالی۔ شیعہ سید لڑکی، شیعہ غیر سید لڑکے سے شادی کرسکتی ہے۔
  • QaID :  
  • 13456  
  • QDate :  
  • 2012-10-21  
  • ADate :  
  • 2013-02-04  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    بسمﷲ الرحمن الرحیم بعد از سلام آپکے خدمت میں سوال پیش کرتا ہوں کے جب رسولﷲ﴿ص﴾ معراج پر گیے تو خدوند کریم نے رسولﷲ﴿ص﴾ کے ساتھ کس طرح خطاب کیا وہی سے یا کسی کے لہجے میں احدایث کی روشنی میں باتیں شکرایہ ﷲحافظ
     Answer :
    وعلیکم السلام ۔جواب: روایات میں منقول ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین کی آواز میں گفتگو کی۔
  • QaID :  
  • 12073  
  • QDate :  
  • 2012-06-18  
  • ADate :  
  • 2012-06-18  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:غیر شیعہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنا۔ سوال۔ بعض اسلامی ممالک کے مدارس اور اسکولوں کی موجودہ حالت کہ جن کا مختلف مضامین مثلاً عقائد تفسیراور تاریخ وغیرہ کا تعلیمی نصاب شیعہ نظریات سے اختلاف رکھتا ہے ،اس بارے میں آپ کا نظریہ کیا ہے ؟اس بات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کہ بعض پڑوسی ممالک میں والدین بعض رسوم و رواج اور بعض تعلیمی اور تمدّنی مسائل کی وجہ سے اپنے بچوں کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔
     Answer :
    جواب۔ جب بھی اس طرح کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنا ،طالب علم کے عقائد فاسد ہونے کا سبب بنے ،تو ایسے مدارس اور اسکولوں میں جانا جائز نہیں ہے اور یہ باپ کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو ایسے مدارس سے نکال لے۔لیکن صرف اس صورت میں جائز ہے کہ باپ اس بات کی صلاحیت رکھتا ہو کہ فاسد عقائد اور باطل شبہات کو اپنے بچوں کے ذہن سے نکال سکے۔
  • QaID :  
  • 12058  
  • QDate :  
  • 2012-06-17  
  • ADate :  
  • 2012-06-17  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:سنّی مذاہب کے مطابق عمل۔ سوال۔ ہم نے یہ سنا ہے کہ بعض افراد علم اور شیعہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن سنی مذاہب کے احکام پر عمل کے جائز ہونے کے قائل ہیں ،اس بارے میں آپ کی نظر کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔ تقیّہ کی صورت کے علاوہ ،اُن کے مذاہب کے مطابق عمل جائز نہیں ہے ۔ اور پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: " میری امّت بہت جلد ستّر اور کچھ فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی ان میں سے ایک فرقہ اہلِ نجات ہے اور بقیہ دوزخ کی آگ میں ہیں ۔"اور فرقۂ ناجیہ وہ ہے کہ جس میں اہلِ بیت علیہم السلام ہیں ۔
  • QaID :  
  • 12057  
  • QDate :  
  • 2012-06-17  
  • ADate :  
  • 2012-06-17  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:خطبۂ تطنجیہ۔ سوال۔کیا جو کچھ "حافظ برسی " نے اپنی کتاب "مشارق انوارالیقین" میں خطبۃ الافتخار(التطنجیہ) کے بارے میں ذکر کیا ہے ،امام علیہ السلام کی جانب سے ثابت ہے ؟کیوں کہ میں نے بعض ایسے افراد کو دیکھا ہے جو اس خطبہ میں پائے جانے والے فرامین کا انکار کرتے ہیں ،اگرچہ میں اس پورے خطبہ کی تصدیق کرتا ہوں۔
     Answer :
    جواب۔ ہمارے نذدیک یہ خطبہ صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں ہوا ہے اورصرف مشارق الانوار میں اس کا ذکر اس کے اعتبار پر دلالت نہیں کرتا۔
  • QaID :  
  • 12050  
  • QDate :  
  • 2012-06-15  
  • ADate :  
  • 2012-06-15  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:کتابِ سلیم ابن قیس سوال۔کتابِ سلیم ابن قیس کے بارے میں جنابِ عالی کی تفصیلی نظر کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔سلیم ابن قیس ،ایک بلند مرتبہ،گرانقدر اور قابلِ اعتماد(ثقہ) انسان تھے۔ان کے مقام کے لیے ،"برقی" کی اس بات پر گواہی کہ وہ اولیاء اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بزرگ اصحاب میں سے تھے ،کافی ہے اس طرح سے علّامہ حلّی ؒ نے بھی ان کی عدالت کا حکم دیا ہے ۔کتابِ غیبت میں نعمانی کے قول کی بنیاد پر ،کتابِ سلیم اصولِ معتبر میں سے بلکہ ان میں سے سب سے بڑےاصول ہیں ، اس کا سارا محتویٰ صحیح ہے اور یا معصوم علیہ السلام سے یا ایسے شخص سے ہے جس کی روایت کی تصدیق اور اسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ،صادر ہوا ہے ۔وسائل الشیعہ کے مؤلف نے کتاب کے اختتام میں کہا ہے کہ : کتاب سلیم قابل اعتماد کتابوں میں سے ہے کہ جس کے قرائن اس کے ثبوت پر قائم ہیں اور یہ کتاب مؤلفین سے تواتر کی حدّ تک پہنچی ہے، یا ہم یہ جانتے ہیں کہ اس کتاب کی نسبت اس کے مؤلفین کی طرف صحیح ہے ،اس طرح سے کہ اس میں کسی قسم کا شک باقی نہیں رہتا ۔ البتہ اس کتاب کے بعض نسخوں میں ،دو مطالب پائے جاتے ہیں : ۱۔یہ کہ آئمہ ،تیرہ ہیں ،البتہ اس نسخہ میں غلطیاں موجود ہیں ۔صاحبِ وسائل نے فرمایا ہے : "کتاب سلیم میں سے جو نسخہ ہم تک پہنچا ہے اس میں کسی قسم کا فساد نہیں پایا جاتا اور شاید جعل کیا گیا فاسد نسخہ اس کے علاوہ ہو ۔اور اسی وجہ سے وہ نسخہ مشہور نہیں ہوا اور ہم تک نہیں پہنچا۔" اور شاید مراد یہ ہو کہ آئمہ علیہم السلام پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ ملا کر تیرہ عدد ہیں ،جیسا کہ دوسرے نسخوں میں ہے کہ آئمہ فرزندانِ اسماعیل میں سے ہیں اور پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ تیرہ عدد ہیں ۔ ۲۔اس کتاب میں محمد ابن ابی بکر کی اپنے باپ کو ان کی موت کے وقت نصیحت ،شامل ہے جبکہ ان کی عمر تین سال سے بھی کم تھی۔لیکن یہ چیز بھی اس کتاب کو خدشہ دار نہیں کرتی ،کیوں کہ ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نسخہ مخدوش ہے لیکن دوسرے نسخے اس طرح کے مطالب اور باتوں سے خالی ہیں ۔ بعض بزرگ رجالی علماء نے (میرزا نے رجالِ کبیر میں ) کہا ہے :جو کچھ ہم تک پہنچا ہے (کتابِ سلیم میں سے) اس بات کو بیان کررہا ہے کہ محمد ابن ابی بکر نے اپنے باپ کی موت کے وقت نصیحت کی ،اور یہ چیز ممکن ہے اور اس کتاب کے جعلی ہونے کے حکم پر دلالت نہیں کررہی۔اسی طرح سے " تفرشی " نے کتابِ"نقد الرجال" کے حاشیہ میں کہا ہے :سلیم کی احادیث میں سے زیادہ تر ،شیعہ اور سنی کتابوں میں دوسرے طریقوں سے بھی روایت ہوئی ہیں ،اور یہ بات خود اس کتاب کی صحت پر دلالت کررہی ہے ۔
  • QaID :  
  • 12025  
  • QDate :  
  • 2012-06-12  
  • ADate :  
  • 2012-06-12  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع:آئمّہ علیہم السلام کے حرموں کی تعمیرِ نو اور تزئین و آرائش۔ سوال۔کتابِ"عروۃ الوثقیٰ" کی فصلِ مکروہات میں آیا ہے کہ :"۔۔۔ساتواں:انبیاء،اوصیاء اور صالحین وغیرہ کے مقبروں کے علاوہ دوسری قبروں کے پرانے اور بوسیدہ ہونے کے بعد ان کی تعمیر نو یا جدید تعمیرات۔ نواں : ذکر کی گئی قبروں کے علاوہ دوسری قبروں پر عمارت تعمیر کرنا ۔دسواں :ذکر کی گئی قبروں کے علاوہ دوسری قبروں کو مسجد قرار دینا۔گیارہواں :انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کی قبروں کے علاوہ دوسری قبروں کے پاس رہنا۔ انبیاء ،اوصیاء اور صالحین کی قبروں کو مستثنیٰ قرار دینے کی کیا وجہ ہے ؟ اور آپ کی نظر ان قبروں کی موجودہ تزئین و آرائش کے بارے میں کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کی قبر وں کے استثنائی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کراہت کے دلائل مطلق ہیں اور اطلاق ،تقیید کی قابلیت رکھتا ہے، جس چیز نے آئمہ علیہم السلام کی قبروں کی تعمیر کے مکروہ ہونے کی نسبت قید لگائی ہے ،وہ یہ عبارت ہے : الف)ان قبروں کو بنانا اور ان کی تعمیرِنو،شعائر دینی کی تعظیم اور دینی مظاہر کی یاد تازہ کرنا شمار ہوتا ہے ،اس بنا پر یا تو سرے سے مکروہ ہی نہیں ہے ،یا اس کام میں ایسی خوبی اور حسن پایا جا تا ہے جو کراہت پر غلبہ رکھتا ہے ۔ ب)ان قبروں کی تعظیم اور انہیں تازہ رکھنا،مسلمانوں کے کردار اور عمل کی تاریخ (سیرۂ متشرعہ) میں خود آئمہ علیہم السلام کی زمانے تک پہنچتا ہے لہٰذا اگریہ عمل مکروہ ہوتا تو لازمی طور پر خود آئمہ علیہم السلام اس عمل سے مسلمانوں کو روکتے ۔ ج)جو "ابو عامر" واعظ شیرازی نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے (اور انہوں نے اپنے آباؤ اجدادسے ) کہ ((رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے علی علیہ السلام سے سے فرمایا: اے ابالحسن !بے شک خداوند متعال نے تمہاری اور تمہارے بیٹے کی قبر کو جنّت کی زمین کا ٹکڑا اور جنت کے صحنوں میں سے ایک صحن قرار دیا ہے ۔خدا نے پاک ،نیک اور منتخَب دلوں کو تمہارا مشتاق قرار دیا ہے ۔وہ تمہارے راستہ میں سختیوں اور مصیبتوں کو قبول کرتے ہیں اور خدا کی قربت اور اس کے رسول کی محبت کے لیے تمہاری قبروں کو آباد کرتے ہیں اور کثرت کے ساتھ تمہاری زیارت کے لیے آتے ہیں ۔اے علی! وہ میری شفاعت کے خاص مستحق ہیں اور حوض کوثر پر وارد ہوں گے ۔وہ لوگ جنّت میں میرے زائر ہونگے اور وہاں پر میرے ہمسائے ہیں۔ یا علی! جس نے بھی تمہاری اور تمہارے فرزند کی قبر وں کو آباد کیا ،اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے بیت المقدس بنانے میں سلیمان بن داؤد کی مدد کی ہو۔جو بھی تمہارے مزاروں کی زیارت کرے وہ واجب حج کے بعد ستّر حج کا ثواب پائے گا اور وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہوجائے گا جس دن پیدا ہوا تھا ۔ لہٰذا اے علی!تمہارے لیے اور تمہارے دوستوں کے لیے ایسی نعمتوں کی خوش خبری ہے کہ جنہیں اس سے پہلے نہ کسی نے یکھا اور نہ کسی نے سنااور نہ ہی کسی کے دل میں ان نعمتوں کا خیال آیا۔ لیکن ذلیل و خوار اور پست لوگ ، تمہارے زائروں کوتمہاری زیارت کی وجہ سے بُرا بھلا کہیں گےجس طرح سے زنا کار کی اس کے گناہ کی وجہ سے سرزنش کی جاتی ہے ۔وہ لوگ میری امّت کے بد ترین لوگ ہیں کہ جو میری شفاعت تک نہیں پاسکیں گےاور حوض کوثر تک نہیں پہنچ پائیں گے))۔(تہذیب، جلد نمبر ۶،صفحہ نمبر۱۰۷،حدیث نمبر ۱۸۹)۔ لیکن مقبرہ کو مسجد قرار دینا اگر مسجد کے متعارف معنیٰ میں ہوتو ہاں کراہت رکھتا ہے بلکہ حرام کہا جاسکتا ہے ۔کیوں کہ اس کا نتیجہ نبش ِقبر ہے۔ لیکن اگر قبر کے نذدیک یا قبر پر نماز پڑھنے کے معنیٰ میں ہے تو لازمی طور پر یہ کہنا پڑے گا: ۱۔کراہت پر دلیل وہ روایت ہے کہ جس کی سند کے سلسلے میں "ابو الجارود " پایا جاتا ہے کہ جس پر آئمہ علیہم السلام نے لعنت کی ہے اگر چہ یہ کہا گیا ہے کہ نقلِ روایت میں سچا ہے ۔ ۲۔یہ ممکن ہے کہ وہ روایت جو کراہت کو بیان کررہی ہے اس کی مراد دوسری قبریں ہوں اور اولیاء کی قبروں کو شامل نہ کرتی ہو۔ ۳۔ ( لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَسْجِداً )﴿الكهف‏، 21﴾ ( ہم ان کے غار پر ضرور ایک مسجد بناتے ہیں)۔، یہ آیت ،روایت کے اطلاق پر(اگر اس کے وجود کو فرض بھی کیا جائے)قید لگاتی ہے اور اس سے اولیائ حق کی قبروں پر نماز پڑھنے کا رجحان اور تمایل سمجھ میں آتا ہے ۔ اور ہم اس حکم کو جو اصحاب کہف کے زمانے کی شریعت سے متعلق ہے ،اسے اپنی شریعت میں باقی سمجھتے ہیں ۔ اس سے بڑھ کر ،یہ آیت اصحاب کہف پر ناظر ہے اور یقیناً آئمہ علیہم السلام ان سے افضل ہیں ۔ان سب باتوں پر اس روایت کا اضافہ کریں کہ جو آئمہ علیہم السلام کے مزاروں اور حرموں میں ان کی زیارت کے بعد نماز کے مستحب ہونے سے متعلق وارد ہوئی ہیں ۔ آئمہ علیہم السلام کی قبروں کے جوار میں قیام کرنے سے متعلق یہ کہ :اگر ہم یہ قبول کرلیں کہ مکروہ ہونے سے متعلق روایات آئمہ علیہم السلام کی قبروں کو بھی شامل کیے ہوئے ہے،تو اس صورت میں بھی ان روایات کا اطلاق ،اجماع اور سیرۃ کے ذریعہ مُقیّد ہوجاتا ہے درجِ ذیل مطالب میں سے ہر ایک مطلب ، ہمارے اس دعوے پر گواہ ہے : حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا حضرت حمزہ سید الشہداء علیہ السلام(پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے چچا ) کے روضہ پر قیام کرنا، اور اسی طرح سے امّ المصائب حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام کا اپنے بھائی کے روضہ پر یہ فرمانا:"آپ کے پاس رُکنے کو انتخاب کروں گی چاہے درندے میرا گوشت کھا جائیں لیکن میں کیا کروں کہ مجھے یہاں رکنے کی اجازت نہیں دیتے"۔ اور اسی طرح سے وہ روایت جو عید الاضحیٰ کی رات حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ کے کے نذدیک شب بیداری کرنے کے ثواب اور اس کی فضیلت پر دلالت کررہی ہے ۔ اس طریقہ سے ابن مردویہ نے انس بن مالک اور بریدہ سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی : ( فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْکَرَ فِيهَا اسْمُهُ )﴿النور، 36﴾ ((ہدایت پانے والے ) ایسے گھروں میں ہیں جن کی تعظیم کا اللہ نے اذن دیا ہے اور ان میں اس کا نام لینے کا بھی)۔ ناگاہ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا:یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ،ان گھروں جیسے گھر کہاں ہیں ؟ حضرت نے فرمایا: انبیاء کے گھر۔ ابوبکر نے سوال کیا: کیا یہ گھر( علی و فاطمہ علیہما السلام کا گھر)بھی انہی گھروں میں سے ہے ؟ آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: اِنہی گھروں میں سےبا فضیلت ترین گھر ہے۔ لیکن ہم آئمہ علیہم السلام کے مزاروں اور حرموں کی تزئین و آرائش کی کراہت پر کوئی دلیل نہیں رکھتے چونکہ زینت سے منع کرنا ،مساجد سے مخصوص ہے ۔اور آئمہ علیہم السلام کے روضوں کو سجانا اچھا عمل ہے کیوں کہ یہ عمل ان حضرات سے محبت اور ان کی طرف توجہ کی علامت ہے اور یہ چیز پسندیدہ ہے ۔
  • QaID :  
  • 12018  
  • QDate :  
  • 2012-06-11  
  • ADate :  
  • 2012-06-11  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: خطبۃ البیان۔ سوال۔"خطبۃ البیان " جو امیرالمؤمنین علیہ السلام سے منسوب ہے ،اس کے بارے میں جنابعالی کی کیا رائے ہے ؟ بعض افراد نے اس خطبہ کے تجزیہ اور تحلیل سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حضرت مہدی عجّل اللہ فرجہ الشریف کا ظہور نذدیک ہے ۔ برائے مہر بانی اس خطبہ سے متعلق عملی،عقلی اور عبارتی لحاظ سے اپنی نظر بیان فرمائیں۔
     Answer :
    جواب۔یہ خطبہ سند کے لحاظ سے معتبر نہیں ہے اور قابل اعتبار اسناد کے ساتھ بھی ہم تک نہیں پہنچا ہے ۔نہج البلاغہ اور دوسری معتبر کتابوں میں بھی نہیں آیا ہے ۔متن اور عبارت کے لحاظ سے بھی آشفتہ اور بے ربط ہے ایسی تعبیروں ،الفاظ اور مفاہیم پر مشتمل ہے جو امام علیہ السلام کی جانب سے صادر ہونے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
  • QaID :  
  • 11994  
  • QDate :  
  • 2012-06-07  
  • ADate :  
  • 2012-06-07  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے زمانے میں شیعہ مذہب کا وجود میں آنا۔ سوال۔بعض نشستوں میں وہابی، شیعوں سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو شیعہ مذہب کی ضدّ پر مبنی ہوتی ہیں۔مثلاًیہ کہ :"شیعہ مذہب امام صادق علیہ السلام کے زمانے میں وجود میں آیا اور رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے زمانے میں نہیں"۔ہم یہ جواب دیتے ہیں کہ :"آپ کے مذاہب کے آئمہ(آئمۂ اربعہ)،سب امام صادق علیہ السلام کی بارگاہ کے شاگرد ہیں ۔" وہ کہتے ہیں :"ہم اس سنتِ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم جس میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہ ہوئی ہو ،عمل کرتے ہیں ،لیکن آپ لوگ جو کچھ آپ کے امام کہتے ہیں ،اس پر عمل کرتے ہیں ،مثلاً آپ کی نماز کسالت آور(سُستی پیدا کرنے والی) ہے اور آپ کا وضو سُبک اور آسان ہے ۔آپ مٹی (خاک شفا) پر سجدہ کو کہاں سے لائے،جبکہ پیغمبر کے زمانے میں خاکِ شفا نہیں تھی۔بہت سی احادیث ہیں کہ علی علیہ السلام ،ابوبکر ، عمر اور عثمان کے زمانے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا تھا "۔ ہم حضرت عالی کے حضور ان شبہات کے جوابات کے طالب ہیں ۔
     Answer :
    جواب۔بہت سارے دانشمند حضرات نے ،امام صادق علیہ السلام کے حضور ،مذاہب اربعہ کے آئمہ اور علماء کی شاگردی کو بیان کیا ہے ۔ابو حنیفہ کا یہ قال مشہور ہے :" اگر وہ دو سال(کہ جب امام صادق علیہ السلام کی خدات میں تھا) نہ ہوتے تو نعمان(ابوحنیفہ) ہلاک ہوجاتا ۔ " کمال الدین محمد بن طلحہ الشافعی اپنی کتاب " مطالب السؤال"میں کہتا ہے :"بزرگوں اور رہنماؤں کا ایک ایسا گروہ تھا جو امام صادق علیہ السلام سے حدیث نقل کرتا تھا اور ان کے علم سے بہرہ مند ہوتا تھا ،ان میں سے یحییٰ بن سعیدانصاری،ابن جریح ،مالک بن انس (مالکی مذہب کے امام)،سفیان ثوری،ابن عیینہ،ابو حنیفہ(حنفی مذہب کے امام) شعبۃ بن حجاج،ایوب سجستانی اور دوسرے بہت سے ہیں۔ قرمانی صفحہ نمبر۱۱۲ پر کہتے ہیں :" امام صادق علیہ السلام حدیث میں امام اور رئیس(صدراور سربراہ)تھےاور ان سے یحییٰ بن سعید،ابن جریح ، مالک بن انس،سفیان ثوری،ابن عیینہ،ابو حنیفہ ،شعبہ اور ایوب سجستانی نے روایت کی ہے ۔"اور یہ حضرات ،عامّہ (اہل سنت) کے نذدیک بزرگ فقہاء اور مذاہب کے رہنما ہیں ۔" یہ جو کہا جاتا ہے کہ عامّہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی سنت پر عمل کرتے ہیں کہ جس میں ہرگز بھی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے ،صحیح نہیں ہے ۔کیوں کہ ان کے مذاہب کے آئمہ نے اجتہاد کیا ہے اوروہ رائے،استحسان،قیاس اور مصالح مُرسلہ پر عمل کرتے ہیں ۔اور یہ چیز ہمیں بتاتی ہے کہ مکمل طور پر سنت نبوی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ان تک نہیں پہنچی ہے بلکہ اس میں سے بہت ساری ضایع ہوگئی ہے اور اس کے آثار باقی نہیں ہیں ۔پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے، تمام احکامات اور دنیا اور آخرت سے متعلق قیامت تک کے لیے جس چیز کی بھی لوگوں کو ضرورت تھی،بیان فرمادیا، جبکہ ہم صحاح ستّہ اور ان کی دوسری کتابوں میں ،سوائے مختصر سنن نبوی کے کچھ بھی نہیں پاتے۔اسی وجہ سے مجبوراً انہیں قیاس اور استحسان کی طرف رُخ کرنا پڑتا ہے کیوں کہ ان کے ہاں اجتہاد کا باب ،سنن اور اخبار کے ضایع ہونے کہ وجہ سے بند ہوچکا ہے ۔(چونکہ خلفاء نے خاص طور پر عمر نے احادیث کی تدوین پر پابندی لگادی تھی اس لیے عامّہ کے ہاں سنت نبوی ضایع ہوگئی)۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ احکام اور سنت ،جو پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے بیان فرمائی کہاں چلی گئی ہے ؟ کیا اس کو اصحاب کے پاس امانت رکھوا دیا ہے؟اور جبکہ یہ روشن ہوچکا کہ بعض احکام اور سنن ضایع ہوچکی ہیں ۔ لیکن ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے تمام علوم اور امّت کے لیے ضروری شرعی احکام کو امام علی علیہ السلام کے پاس امانت رکھوایا ہے ۔وہ امام جس کے بارے میں قرآن نے (وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ‌)﴿الرعد، 43﴾(اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے ۔)تعبیر کیا ہے ۔ علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ : "پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے علم کے ہزار باب مجھے سکھائے کہ جن سے دوسرے ہزار باب کُھلتے ہیں ۔" حاکم نے مستدرک کی تیسری جلد کے صفحہ نمبر ۱۲۶پر صحیح سند کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اپنی زندگی میں فرماتے تھے : " خدا کی قسم ،میں بھائی ،دوست،چچا کا بیٹا اور پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے علم کا وارث ہوں ۔لہٰذا کون ہے جو ان کی نسبت ،مجھ سے زیادہ حق دار ہے ؟" شیعہ اور سنی دونوں نے روایت کی ہے کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا:"اَنا مدینۃُ العِلمِ و علیٌ بٰابُھا" میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ کیوں کہ ان علوم اور احکام کو اہل بیت علیہم السلام نے ارث میں حاصل کیا ہے تو انہوں نے اس بات پر بنا رکھی کہ زمانے کے گذرنے کے ساتھ ساتھ انہیں بیان اور روشن کریں ۔اسی وجہ سے فقہی ،روائی اور سنن پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے مراکز شیعوں کے پاس زیادہ اور وسیع رہے ہیں ۔یہ سنت نبوی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور قو ل امام پر عمل کے صحیح معنیٰ ہیں ۔ عامّہ کے لیے اجتہاد کا دروازہ ،چاروں آئمہ کے زمانے تک کُھلا تھا ، لیکن اس کے بعد بند ہوگیا اور امّتی چاہے دانشمند ہوں یا نادان ،ان آئمہ کے مُقلّد ہوگئے ۔وہ آئمہ جنہوں نے پیغمبر کا زمانہ درک نہیں کیا اور مختصر سنن نبوی کے علاوہ کچھ بھی ان تک نہیں پہنچا ،اور نتیجہ میں قیاس اور استحسان کی طرف چلے گئے۔ لیکن امامیہ (شیعہ) قیامت تک کے لیے اجتہاد کا دروازہ کھلا رہنے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔اور اجتہاد کو ،کتاب خدا (قرآن) ،سنت نبوی،اجماع اور عقل سے شرعی حکم کا استنباط ،جانتے ہیں ،اس طرح سے کہ ذکر کیے گئے منابع اور مأخذ سے تمام پیش آنے والے جدید مسائل سے متعلق حکم کا استنباط ممکن ہے ۔ لیکن علمای عامّہ ، جہان میں رونما ہونے والے واقعات کی نسبت حیران اور سرگردان ہیں ،کیوں کہ ان کے لیے سنت نبوی سے احکام کو استنباط کرنا ممکن نہیں ہے،چوں کہ جو چیز ان کے ہاتھ میں ہے وہ محدود اور مختصر ہے ۔اسی بنا پر وہ اپنے چار آئمہ کی پیروی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رکھتے ،اور انہوں نے آج کے زمانے کی ضرورت کے مسائل کو نہیں چھیڑا ہے ۔ دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے سے متعلق ( کہ جسے وہ حضرات کسالت اور سستی کی نماز سے یاد کرتے ہیں ) بہت ساری روایات عامّہ کی کتابوں میں پائی جاتی ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم بغیر کسی اضطرار اور خوف کے بہت سارے مواقع پر دو نمازوں (مثلاً ظہر و عصر اور مغرب و عشاء) کو اکٹھا یا ایک ساتھ پڑھا کرتے تھے،اور یہ چیز (پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا عمل) ایک ساتھ اور الگ الگ(وقت کے فاصلہ کے ساتھ پڑھنے)کے درمیان اختیار پر دلالت کررہی ہے۔اگرچہ وقت کے فاصلہ کے ساتھ پڑھنا ،افضل ہے ،کیوں کہ اس صورت میں نماز اپنی فضیلت کے وقت پڑھی جاتی ہے۔ مٹی پر سجدہ کرنے سے متعلق مسئلہ میں ایسا اس لیے ہے کہ امامیہ سجدہ کو زمین اورزمین سے اگنے والی چیزوں(جو کھانے اور پہننے والی نہ ہوں) پر صحیح اور اس کے علاوہ پر باطل جانتے ہیں ،اور اسی طرح سے سجدہ کی جگہ کے پاک ہونے کو معتبر جانتے ہیں ۔ عامّہ کی وہ روایات جو اس بات پر دلالت کررہی ہیں : پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا وہ فرمان کہ : خداوندعالم نے زمین کو میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک کرنے والی چیز قرار دیا ہے ۔ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم گرم سنگ ریزوں پر سجدہ کرتے تھے اور اپنی عبا کو (ان کی گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے ) ان پر نہیں ڈالتے تھے۔ ابن اثیر نے جامع الاصول کی جلد نمبر ۶میں صفحہ نمبر ۲۵۶ پر ابی سعید خدری سے روایت کی ہے کہ اس نماز میں جو پیغمبر لوگوں کے ساتھ ادا کرتے تھے مٹی کا نشان آپ کی پیشانی اور ناک پر نظر آتا تھا ۔اور یہ نشان مٹی پرسجدہ کرنے پر دلالت کررہا ہے ۔چونکہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم یہ فرماتے تھے :" صلّوا کما رأیتموني اُصلّي "اسی طرح نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بعض شیعہ حضرات ،امام حسین علیہ السلام کی قبر کی مٹی یا تربت کوسجدہ کے لیے انتخاب کرتے ہیں ،ایسا اس لیے ہے کہ یہ مٹی ( خاک شفا) ،طاہر ،شریف اور مقدس ہے ۔عامّہ سے بہت سی روایات پائی جاتی ہیں کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے کربلا کی مٹی کو ایک شیشی میں ڈال کر ، امّ سلمہ کے پاس امانت رکھوایا تھا اور انہیں حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر دی تھی۔یہ مٹی امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے دن سرخ ہوگئی تھی ۔(محب الدین طبری نے "ذخائر العقبی " کے صفحہ نمبر ۱۴۸ پر ذکر کیا ہے کہ احمد بن ضحاک نےعلی علیہ السلام سے نقل کیا کہ :میں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انکی آنکھوں کو (انہیں ) روتا دیکھا ۔میں نے عرض کیا کہ : کیا کسی نے آپ پر ظلم کیا ہے ؟ کیوں آپ کی آنکھوں سے اشک جاری ہیں ؟ آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا:ابھی جبرئیل میرے پاس تھے اور مجھ سے کہہ رہے تھے کہ حسین علیہ السلام کو شطّ فرات کے کنارے قتل کردیا جائے گا ۔اس کے بعد کہا : کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی قتل گاہ کی مٹی آپ کو دوں ؟ میں نے کہا :ہاں۔پھر جبرئیل نے ہاتھ اُٹھایا اور ایک مُٹھی خاک مجھے دی ،اس کے بعد میرے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے)۔ اس لے علاوہ یہ مٹی ہمارے لیے خدا کے راستہ میں دینِ اسلام کو زندہ کرنے کے لیے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو یاد دلاتی ہے ۔ لہٰذا جو بھی اس پاک مٹی پر سجدہ کرتا ہے تو یہ اسے یاد دلاتی ہے کہ وہ لازمی طور پر شائستہ اور خالص اعمال و کردار رکھتا ہو۔ اور اس بات کے لیے تیار رہے کہ اپنی جان اور ہر وہ چیز جو اس کے لیے قیمتی ہے،خدا کے راستہ میں پیش کردے،اور اس طرح سے خدا کے لیے خضوع اور خشوع اور زیادہ ہوجاتا ہے ۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی جانب سے خلفاء کی مخالفت نہ کرنے سے متعلق مسئلہ میں،اگر مراد یہ ہے کہ امام ان کو قبول کرتے تھے اور ان کی تائید کرتے تھے ،انہوں نےان کے مقابلہ میں دلیل قائم نہیں کی ،کیوں کہ خلافت کے لیے کہ خود کو ان سے زیادہ برحق اور برتر نہیں جانتے تھے تو یہ ایک ایسے مسئلہ کا انکار ہے جو پوری طرح سے آشکار اور واضح ہے۔کیوں کہ تاریخ ،روایات اور سیرتوں نے امام کی بہت ساری مخالفتیں ،احتجاجات،ناراضگی کے اظہار، ان کی پیروی سے امام کا انکار اور پہلوتہی اور اسی طریقہ سے جو ظلم و ستم آپ پر کیے گئے اور آپ کا حق غصب کیا گیا ،ان سب پر راضی نہ ہونے کے بارے میں لکھا ہے اس بات کی مزید وضاحت کے لیے کتاب " المراجعات " کے صفحہ ۲۸۳ سے ۲۹۰اور اسی طرح سے نہج البلاغہ کے تیسرے خطبہ (شقشقیہ کے نام سے مشہور)،اسی طرح سے مہاجر اور انصار خواتین کے سامنے مسجد نبوی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم میں حضرت زہرا علیہا السلام کے خطبہ اور اسی طریقہ سے امام علی علیہ السلام کے خلفاء سے احتجاج کو مرحوم طبرسی کی کتاب"احتجاج" میں ملاحظہ فرمائیں ۔ حضرت علی علیہ السلام خود کو وصی پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم، ان کا جانشین،امیرالمؤمنین اور غدیر کے دن صاحب بیعت جانتے تھے ۔شیعہ روایات کے علاوہ عامّہ کی کتابوں میں متواتر روایات ،اس مسئلہ پر دلالت کررہی ہیں۔ اور اگر حضرت علی علیہ السلام کی جانب سے عدم ِمخالفت سے مراد یہ ہے کہ آپ نے مخالفین کے ساتھ جنگ نہیں کی اور اپنے حق کو طاقت سے حاصل نہیں کیا ،توہاں یہ بات صحیح ہے ۔
  • QaID :  
  • 11981  
  • QDate :  
  • 2012-06-06  
  • ADate :  
  • 2012-06-06  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع : آئمہ کو سلام کرنا۔ سوال۔ اس بات پر کونسی قطعی دلیل پائی جاتی ہے کہ ،معصومین علیہم السلام ہمارے کلام کو سنتے ہیں اور ہمارے سلام کا جواب دیتے ہیں ؟ (مثلاً ہم نماز میں پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سلام بھیجتے ہیں یا مختلف زیارتوں میں آئمہ پر سلام بھیجتے ہیں اور دوسری باتوں کو ان کی خدمت میں عرض کرتے ہیں ،اگر ان کی طرف سے جواب نہیں دیا جاتا تو پھر انہیں سلام کرنا کیسے صحیح ہے)۔
     Answer :
    جواب۔ وسائل الشیعہ کی دسویں جلد،چوتھے باب ،صفحہ نمبر۲۶۳،پہلی حدیث میں پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے روایت اس مضمون کے ساتھ آئی ہے :( بے شک ،میری رحلت کے بعد ،بہت فاصلہ سے بھی سلام مجھ تک پہنچے گا اور میں اسے نذدیک سے سنوں گا۔)اس صورت میں ،یہ بات بعید ہے کہ وہ سلام کا جواب نہ دیں (جب وہ خود فرمارہے ہیں کہ ہم سنتے ہیں ) اور خاص طور پر آنحضرت نے ہمیں سلام کے جواب کا حکم فرمایا ہے ۔حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے وقت ان کے حرم میں داخل ہونے کی اجازت مانگتے ہوئے ہم عرض کرتے ہیں :"امام علیہ السلام ہماری جگہ کو دیکھتے ہیں ، ہمارے کلام کو سنتے ہیں اور ہمارے سلام کا جواب دیتے ہیں "۔(یرون مقامی و یسمعون کلامی و یردّون سلامی)۔ وسائل الشیعہ کی دسویں جلد ، صفحہ نمبر ۲۴۶،پانچویں حدیث ،مزار سے متعلق ابواب کے چوتھے باب میں امیرالمؤمنین علیہ السلام سے آیا ہے کہ : " جو شخص بھی اس زمین کے کسی کونے سے بھی مجھ پر سلام بھیجتا ہے ،وہ مجھ تک پہنچتا ہے اور جو بھی میری قبر کے پاس مجھے سلام کرے گا ، میں اسے سنوں گا"۔( من سلّم علیّ فی شیء من الارض ابلغتہ و من سلّم علیّ عند القبر سمعتہ)۔ عُدّۃ الداعی میں آیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام ،امام حسین علیہ السلام کے سر کے نذدیک یہ کہتے تھے : " اے ابا عبداللہ ،میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ میرے مقام کو دیکھتے ہیں ،میرے کلام کو سنتے ہیں اور بے شک آپ خدا کی بارگاہ میں زندہ اور اس کی نعمتوں سے بہرہ مندہیں۔۔۔"۔(عُدۃالدّاعی،ابن فہد حلّی،مفاتیح الجنان ،امام حسین علیہ السلام کے حرم کے اعمال میں دعا نمبر ۱۶،صفحہ نمبر۵۵۲)۔ جامع الاحادیث میں ہے کہ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: " بے شک ،ایک فرشتہ نے خدا سے عرض کی کہ اسے لوگوں کے کلام کو سننے کی صلاحیت اور خصوصیت عطا فرما،تو اسے خدا نے عطا فرمادی،اس وقت سے قیامت تک وہ فرشتہ کھڑا ہے ،اور مومنین میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو کہے، صلّی اللہ علیہ و آلہٖ اور وہ فرشتہ نہ کہے،و علیک السلام ۔اور اس کے بعد کہے: اے رسول خدا،فلاں شخص آپ پر سلام بھیج رہا ہے ،اس کے بعد پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم فرماتے ہیں: وعلیہ السلام"۔(جامع الاحادیث ،جلد نمبر ۱۵،صفحہ نمبر۴۲،دوسرا باب ،زیارۃ النبی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی کیفیت ،ح۱۱،امالی طوسی سے)۔ جعفریات ، علی علیہ السلام سے استناد کرتے ہوئے،کہتے ہیں: "رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: چار چیزوں کو خدا نے واسطہ اور شفیع قرار دیا ہے : جنّت،جہنم،حورالعین اور وہ فرشتہ جو میری قبر کے پاس میرے سر کے نذدیک ہے ۔پھر جب بھی میری امّت میں سے کوئی بندہ یہ کہتا ہے : اللھمّ زوّجنی من الحور العین،تو حورالعین کہتی ہے :خدایا مجھے ،اسے عنایت فرما۔اور جب بھی کہتا ہے :اے میرے خدا مجھے آتش جہنم سے رہائی عطا فرما،تو آتش جہنم کہتی ہے : خدایااسے مجھ سے رہائی عطا فرما۔جب بھی کہتا ہے : اے خدا میں تجھ سے جنّت کا طالب ہوں ،تو جنت کہتی ہے :اے خدا مجھے ،اسے عطا کردے ۔اور جب بھی کہتا ہے : اللھمّ صلّی علی محمد و آل محمد،میرے سر کے نذدیک فرشتہ یہ کہتا ہے :اے محمد صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ،فلاں ابن فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے ،اس کے بعد میں کہوں گا : صلّی اللہ علیہ کما صلّی علیّ۔خدا اس پر درود بھیجے جس طرح سے اس نے مجھ پر درود بھیجا ہے "۔(جامع الاحادیث،حدیث نمبر ۲۳)۔
  • QaID :  
  • 11969  
  • QDate :  
  • 2012-06-04  
  • ADate :  
  • 2012-06-04  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: آئمّہ علیہم السلام کے معجزات اور کرامات۔ سوال۔آپ کی نظر مبارک آئمہ علیہم السلام کے معجزات اور کرامات کے بارے میں کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔اس بارے میں دو نظریات پائے جاتے ہیں : ۱۔ امام علیہ السلام خدا کو پکارتے (دعا کرتے) ہیں اور خداوندعالم ان کی دعا کو مستجاب کرتا ہے اور جو چیز معجزہ یا غیر معمولی کام ہوتا ہے اسے متحقق کرتا ہے۔ ۲۔ پیغمبرصلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور امام علیہ السلام خود اس کرامت یا معجزہ کو خدا کی اجازت اور ارادہ سے انجام دیتے ہیں ، مثلاً امام خود بیمار کو شفا دیتے ہیں ۔ایسا اس وجہ سے ہے کہ خدا تعالیٰ نےانہیں یہ قدرت اور توانائی بخشی ہے۔ اگرچہ یہ دونوں نظریات ممکن اور محتمل ہیں لیکن ظاہر آیات کی روشنی میں اس قسم کی کرامات اور معجزات خود پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی طرف نسبت دیئے گئے ہیں : ( وَ إِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ کَهَيْئَةِ الطَّيْرِ۔۔۔)﴿المائدة، 110﴾ (اور جب تم نے مٹی سے پرندے کے شکل کی ایک چیز بنائی۔۔۔)۔ ( وَ مَا نَقَمُوا إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ )﴿التوبة، 74﴾ (انہیں اس بات پر غصہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان (مسلمانوں ) کو دولت سے مالا مال کر دیا ہے )۔ لہٰذا جس طرح سے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ،امام علیہ السلام اور دوسرے افراد کا کردار،خدا کے اذن اور اس کی قدرت سے ،اختیار کے ساتھ ہے ،پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور امام علیہ السلام کی کرامات بھی ان کے ہاتھ اور اختیار سے ہے لیکن یہاں پر بھی خدا کا اذن ،اس کی قدرت اور مشیت سے انجام پاتا ہے ۔
  • QaID :  
  • 11958  
  • QDate :  
  • 2012-06-03  
  • ADate :  
  • 2012-06-03  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    موضوع: اہلِ بیت علیہم السلام سے توسّل۔ سوال۔مشہور یہ ہے کہ ،شیعہ بھائی ،آئمہ علیہم السلام اور صالحین سے توسّل کے قائل ہیں ۔بعض اہلِ سنت بھی یہ کہتے ہیں :شیعہ بھائی اس مسئلہ میں بعض روایات اور اسی طرح سے آیۂ کریمہ ( وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ ) ﴿المائدة، 35﴾ (اور اس کی طرف(قربت کا)ذریعہ تلاش کرو)۔کی طرف استناد کرتے ہیں ۔اہل سنت نے "وسیلہ" کی تفسیر عمل صالح سے کی ہے ،جبکہ شیعہ، آئمہ علیہم السلام اور صالحین سے اس کی تفسیر کرتے ہیں ۔لیکن نہج البلاغہ میں جو بہت سے شیعہ بھائیوں کے نذدیک خاص اہمیت کی حامل اور موردِ اعتماد ہے ،اس کتاب میں ہم نے دیکھا ہے کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے بھی وسیلہ کی عمل صالح سے تفسیر کی ہے ۔میرا سوال شیعہ تفسیر اور علی علیہ السلام کی تفسیر میں پائے جانے والے اختلاف اور تناقض کے بارے میں ہے ۔ نہج البلاغہ کی پہلی جلد،صفحہ نمبر ۲۰۵، خطبہ نمبر ۱۱۰میں : (إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَوَسَّلَ بِهِ الْمُتَوَسِّلُونَ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى الْإِيمَانُ بِهِ وَ بِرَسُولِهِ وَ الْجِهَادُ۔۔۔۔) ترجمہ: (یقیناً بہترین چیز جس کے ذریعہ اہل توسل خدا تک توسل کرسکتے ہیں وہ خدا اور اس کے نبی ﷺ پر ایمان اور خدا کی راہ میں جہاد (جو اسلام کی بلند چوٹی ہے ) اور خدا کی وحدانیت کا اقرار (کہ جو انسان کے لیے فطری ہے ) اور نماز قائم کرنے کے ذریعہ سے (جو اسلام کا آئین ہے) ہے)۔کہ جسے من لا یحضر الفقیہ نے بھی پہلی جلد ،صفحہ نمبر۲۰۵،نے بھی ذکر کیا ہے ۔
     Answer :
    جواب۔ وسیلہ ،ایک کلّی (وسیع) مفہوم ہے کہ جس کے بہت سے مصداق پائے جاتے ہیں ۔انہی میں سے ایک اپنی شرائط کے ساتھ عمل ِصالح (نیک عمل) ہے۔ اس کے دوسرے مصادیق میں سے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور اہلِ بیت علیہم السلام سے توسل ہے ۔لہٰذا جس طرح سے نیک عمل ،کامیابی اور نجات کی طرف ایک راستہ ہے اسی طرح سے اہل بیت سے تمسک بھی نجات کا راستہ ہے ۔اپنی شرائط کے ساتھ نیک عمل کا ذکر ،قرآن اور روایات کی بہت سی دلیلوں کی بنیاد پر ہے کہ جواس بات پر دلالت کررہی ہیں کہ نجات اور کامیابی کا سبب نیک عمل اور صحیح اسلام کی طرف تمسک کرنے میں ہی منحصر ہے ۔اور صحیح اسلام کی شرائط میں سے عترت واہل بیت کی ولایت سے تمسک کرنا ہے۔کہ جس کا تقاضا یہ حدیث متواتر کررہی ہے : (میں ،تمہارے درمیان دو گرانقدر اور قیمتی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ،اگر تم نے ان دونوں سے تمسک کیا تو میرے بعد ہرگز بھی گمراہ نہیں ہوگے (اور وہ دونوں چیزیں ) خدا کی کتاب اور میری عترت ،یعنی میرے اہل بیت ہیں )۔( انّی مخلف (تارکٌ) فیکم الثقلین ما ان تمسکتم بھما لن تضلّوا بعدی ابداً کتاب اللہ و عترتی اھل بیتی)۔ یہ حدیث ِ شریف اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ قرآن اور اہل بیت سے تمسک نہ کرنا گمراہی کا سبب ہے ۔ اسی طرح سے اہل سنت کے نذدیک ،صحیح احادیث تواتر کی صورت میں پائی جاتی ہیں، مثلاً:(یقیناً ،اہل بیت نوح کی کشتی کی طرح ہیں ،جو بھی اس میں سوار ہوا، اس نے نجات پائی ،اور جس نے بھی اس سے منہ پھیرا وہ غرق ہوا ۔ ( انّ اہل البیت کسفینۃ نوح من رکبھا نجا ومن تخلّف عنھا غرق)۔ اور اسی طرح سے ،(یقیناً علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے)۔(انّ علیاً مع الحق والحق مع علی)۔ بے شک "وسیلہ" کی تفسیر پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور اہل بیت علیہم السلام کے ذریعہ سے کرنے پر ،اہل سنت اور شیعہ حضرات کی بہت سی معتبر حدیثیں دلالت کررہی ہیں کہ جن سب کا ذکر یہاں ممکن نہیں ہے ۔اورہم ان میں سے کچھ حدیثوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں ،جو اہل سنت کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ۔ ۱۔ وہ روایات جو حافظ ابو نعیم اصفہانی نے کتابِ " نزول القرآن فی علی علیہ السلام" میں ذکر کی ہیں ۔ ۲۔ وہ روایات جو حافظ ابو بکر شیرازی ،کتابِ "ما نزل من القرآن فی علی علیہ السلام " میں لے کر آئے ہیں۔ ۳۔امام احمد ثعلبی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ آیۂ شریفہ میں "وسیلہ " سے مراد پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی عترت ہے۔ ۴۔ ابن ابی الحدید نے نہج البلاغہ کی شرح میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا طولانی خطبہ نقل کیا ہے کہ آپ علیہا سلام نے فرمایا: " میں اس خدا کی حمد و ثناء کرتی ہوں جو اپنی بڑائی اور نور کی وجہ سے ،اس چیز کی شائستگی اور لیاقت رکھتا ہے کہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اس سے توسّل کریں اور ہم اس کی مخلوق کے درمیان ، اس کا وسیلہ ہیں "۔( و احمد اللہ الّذی لعظمتہ و نوری ینبغی من فی السمٰوات و الارض الیہ الوسیلہ و نحن وسیلتہ فی خلقہ)۔ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم،آئمّہ علیہم السلام اور صالحین سے ان کی زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد توسل کے صحیح اور جائز ہونے میں شک نہیں ہے ، جیسا کہ صحیح بخاری ،کتاب الفضائل،باب مناقب علی بن ابی طالب،صفحہ ۲۵ پرعمر سے نقل ہوا ہے کہ بارش طلب کرنے کی دعا میں حضرت عباس(پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے چچا )سے متوسّل ہوئے: " اے خدا ،ہم تیرے نبی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے واسطہ سے تیری طرف متوسّل ہوتے تھے ،اور تو ہمیں پانی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے چچا کے واسطہ سے توسّل کرتے ہیں لہٰذا ہمیں پانی عطا فرما۔۔۔" (اللھمّ انّا کنا نتوسّل الیک بنبیّک فتسقینا و انا نتوسل الیک بعمّ نبینا فاسقنا۔۔۔)۔ اسی طرح سے ،پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی حیات اور ان کی رحلت کے بعد ان سے توسل کرنے کے صحیح اور مشروع ہونے پر یہ آیت اپنے اطلاق کے تقاضہ کے ساتھ دلالت کررہی ہے : ( وَ لَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّاباً رَحِيماً )﴿النساء، 64﴾ (اور جب یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھتے تھے تو اگر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا پاتے)۔ اور اسی طریقہ سے اس مسئلہ پر طول تاریخ میں مسلمانوں کی سیرت ،پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ،آئمّہ علیہم السلام اور صالحین کی قبروں سے توسل کرنے پر دلالت کررہی ہے ۔ اہلِ بیت علیہم السلام اور خدای تبارک و تعالیٰ کے چاہنے والوں سے توسل کی مشروعیت کو درک کرنے اور سمجھنے کے لیے بہت سی احادیث کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے ،مثلاً کتابِ" التاج الجامع للصحابۃ الستّہ" ،پہلی جلد،صفحہ نمبر ۳۱۸،نمازِ استسقاء کے بیان میں احادیث کو ذکر کرنے کے بعد ،اس بارے میں آیا ہے : " خدا سے اس کے دوستوں اور چاہنے والوں کےذریعہ توسّل کرنا جائز ہے "(یجوز التوسّل الی اللہ باحبابہ)۔ اس طرح سے توسّل کے بارے میں اہل سنت کی احادیث میں سے درج ذیل موارد کی طرف رجوع کیجئے : ۱۔ احقاق الحق ،چوتھا حصّہ،صفحہ نمبر ۹۱، نواں حصہ ،صفحہ نمبر۱۰۴ اور ۱۰۵ ،اسی طرح سے چوتھی جلد،صفحہ نمبر۴۸۷ سے ۴۸۹ تک،اور نویں جلد ،صفحہ نمبر ۱۹۳۔ ۲۔ الفضائل الخمسہ فی الصحاح الستہ،پہلی جلد،صفحہ نمبر ۱۷۰۔ لیکن "وسیلہ " کی تفسیر میں اہل بیت علیہم السلام کو بیان کرنے سے متعلق ،شیعہ کُتب میں بہت سی احادیث ملتی ہیں کہ جن میں سے ہم بعض کی طرف اشارہ کررہے ہیں : ۱۔ علی بن ابراہیم قمّیؒ نے آیۂ ( وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ ) ﴿المائدة، 35﴾ کی تفسیر میں کہا ہے : یعنی امام کے واسطہ سے خدا کی قربۃ تلاش کرو۔(تقربوا الیہ بالامام)۔ ۲۔ تفسیرِ برہان میں (بحرانیؒ ) نے ابن شہر آشوب (مازندرانیؒ ) سے ذکر کیا ہے : امیر المؤمنین علیہ السلام نے خدا کے فرمان،( وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ) کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : میں اس تک رسائی کا وسیلہ ہوں ۔(انا وسیلتہ ) ۔ اور اسی طرح سے دوسری بہت سی روایات میں بھی بیان ہوا ہے ۔ یہ بات قابل اعتراض نہیں ہے کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور آئمہ علیہم السلام کے علاوہ بھی وسیلہ موجود ہو،مثال کے طور پر نیک عمل اپنی شرائط کے ساتھ ،کیوں کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم ،امام علیہ السلام یا عترت رسول علیہم السلام وسیلہ کے مصادیق میں سے ہیں ۔ بلکہ جس طریقہ سے ہم نے وسیلہ کے معنیٰ کیے ہیں کہ قرآن و عترت سے تمسک کرنا صحیح اسلام تک پہنچنے کی شرط ہے لہٰذا نیک عمل قرآن اور عترت سے تمسک کے ساتھ ہی ہے۔ لیکن جو چیز امام علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمائی ہے ،مصادیق کو ذکر کرنے کے عنوان سے ہے اور باب حصر سے نہیں ہے (کہ اسی ایک معنیٰ میں منحصر ہو) اوراہل سنت کی بعض تفاسیر میں اہلِ بیت کو اس عنوان سے ذکر نہ کرنا ،ان بہت سی دوسری آیات کی طرح سے ہے کہ جو اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں ،اور ان کے مفسرین نے مختلف وجوہات کی بنا پر اس سے چشم پوشی کی ہے ۔
  • QaID :  
  • 11933  
  • QDate :  
  • 2012-05-31  
  • ADate :  
  • 2012-05-31  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔آپ کی نظر ایسے شخص کے بارے میں جو " شفاعت "کے متعلق درجِ ذیل نظریہ رکھتا ہے ،کیا ہے ؟ (شفاعت کہاں سے وجود میں آتی ہے ؟شفاعت لوگوں کے درمیان ذاتی حالات کا نتیجہ ہے ۔ہم شفاعت کو اسی ذاتی حالت (ایک شخص کے لیے یہ حالت دوسرے شخص کے نذدیک ایک خاص اہمیت کاسبب بنتی ہے )سےحاصل کرتے ہیں۔اسی لیے جب ایک ایسا شخص جو ایک خاص مقام اور ذاتی حالت کا مالک ہے ،ایک ایسے شخص کے پاس آتا ہے جو ایک خاص مقام اور مرتبہ پر فائز ہے ، تو پہلے شخص کی ذاتی حیثیت جو دوسرے کے نذدیک پائی جاتی ہے ،دوسرے شخص پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کی نظر کو تبدیل کردیتی ہے ۔ لیکن خداوندعالم کے لیے یہ بات معنیٰ نہیں رکھتی ۔خداتو کسی سے بھی ذاتی تعلقات نہیں رکھتا،کیوں کہ سب چیزیں اس کی مخلوق ہیں ۔اسی لیے یہ بات معنیٰ نہیں رکھتی کہ کوئی اس کے نذدیک دوسرے سے زیادہ مقرب ہو۔ اے انسان یہ تمہاری شان ہے، کہ تمہارا ایک بیٹا زیادہ خوبصورت ،ایک بیٹا زیادہ با فضیلت اور ایک اور بیٹا زیادہ رحم دل اور مہربان ہے۔تو یہ کہتے ہو کہ یہ بیٹا میرے زیادہ نذدیک ہے اور میری زیادہ خدمت کرتا ہے اور مجھ پر زیادہ مہربان ہیں ۔لیکن خدایٔ اعلم،افضل، اقویٰ کی نسبت سب برابر ہیں ۔ وہ خداوند متعال کی ذات ہے جس نے اسے اس درجہ کی زیبائی ،طاقت ،اور علم عطا کیا ہے ۔لہٰذا اگر اس نے کسی کو شفیع قرار دیا ہے تو اپنے اختیار اور ارادہ سے دیا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ اسے ذاتی شفاعت کی قدرت دی ہو۔ یعنی اگر تم یہ کہو کہ اے رسول ِ خدا ،اے امیرالمؤمنین،اے فاطمہ،میری شفاعت کیجیئے ،تو صحیح ہے ،لیکن جب تک خدا ،ان حضرات کو شفیع قرار نہ دے تو نہ پیغمبر نہ امیرالمؤمنین اور نہ ہی فاطمہ شفاعت پر قادر ہوسکتے ہیں ۔لہٰذا جب بھی یہ حضرات شفاعت کرتے ہیں تو یہ شفاعت انکے ذاتی حالات سے وجود میں نہیں آتی ہے ۔ یہ بات کہ فلاں شخص میرے نذدیک ہے ،میرا دوست ہے ،اس نے میرے لیے نذر کی ہے ،یا قربانی کی ہے ،یہ وہ کام ہیں جو ہم اپنے خیال میں انبیاء اور اولیاء کے لیے انجام دیتے ہیں ،اس کا شفاعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ آج ہم حضرت عباس علیہ السلام کے لیے قربانی کریں اور کل قیامت کے دن ہم ان سے کہیں کہ فلاں موضوع کے بارے میں سختی نہ کریں اور درگذر سے کام لیں ۔نہیں اس کی اساس اور بنیاد نہیں پائی جاتی ،(لاَ يَشْفَعُونَ إِلاَّ لِمَنِ ارْتَضَى)﴿الأنبياء، 28﴾ (اوروہ کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے مگر یہ کہ خدا اس کو پسند کرے)۔ جب خدا یہ چاہتا ہے کہ کسی کو بخش دے تو وہ،نبی اور امام پر کرم کرتا ہےاور انہیں شفاعت کرنے کا اختیار دیتا ہے ۔اس بنیاد پر یہ حضرات مخلوقات کے لیے خدا ی عزوجلّ تک پہنچنے کا واسطہ نہیں ہیں ،کیوں کہ خدا واسطہ کا محتاج نہیں ہےہمارا یہ سمجھنا کہ ہم خدا سے بات کرنے کے قدرت نہیں رکھتے اور اس سے بات کہنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ایسی بات ہے جو عرفا اور فلاسفہ سے نقل ہوئی ہے ۔انبیاء اور اولیای بر حق کی پوری کوشش اور مقصد یہ تھا کہ انسانوں کی ہدایت کریں ،اور یہ حضرات خدا اور خلقِ خدا کے درمیا ن واسطہ ہیں (خلق ِ خدا اور خدا کے درمیان واسطہ نہیں ہیں ) اور لوگوں کے لیے ، حامل وحی اور شریعت الٰہی ہیں۔
     Answer :
    جواب۔جب ہم نے قرآنی آیات ،اور متواتر اور متضافر(وہ روایت جو خبر غیر متواتر کا حصّہ ہے جو خود ہی واسطہ کے ساقط ہونے کے باوجود(واسطہ موجود ہونے کی صورت میں )عقلی علم کے لیے فائدہ مند ہے)روایات کی بنیاد پر ،انبیاء ،اوصیاء ،اولیاء اور بعض مؤمنین کے لیے مقامِ شفاعت کو قبول کرلیاتو یہ ضروری ہے کہ ہم یہ بھی تسلیم کریں کہ خداوند تبارک و تعالیٰ،اپنے بعض بندوں کو ان کی خصوصیات اور فضائل کی وجہ سے پسند کرتا ہے اورانہیں شفاعت کرنے کا اَعلیٰ درجہ عنایت فرماتا ہے ، ( وَ لَسَوْفَ يُعْطِيکَ رَبُّکَ فَتَرْضَى‌)﴿الضحى‏، 5﴾ (اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا (شفاعت کا حق )عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔) اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم خدا اور مخلوقات کے درمیان واسطہ ہیں ،جیسا کہ خداوندعالم نے فرمایا ہے : ( وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ )﴿المائدة، 35﴾ (اور خدا کی بارگاہ میں واسطہ اور شفیع تلاش کرو)۔ اس نبیاد پر صرف نماز اور اسی جیسی دوسری چیزیں وسیلہ نہیں ہیں بلکہ معصومین علیہم السلام بھی واسطہ ہیں ۔ جیسے جب حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے ان سے درخواست کی کہ ( قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا )﴿يوسف‏، 97﴾ (ان لوگوں نے کہا بابا جان اب آپ ہمارے گناہوں کے لئے استغفار کریں)۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ خدا کے نذدیک مجھے واسطہ قرار دینے کی ضرورت نہیں ہےاور تم لوگ براہِ راست خدا سے استغفار کرو،بلکہ انہوں نے درخواست قبول کرلی اور کہا: ( قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَکُمْ ) ﴿يوسف‏، 98﴾ (میں عنقریب تمہارے حق میں استغفار کروں گا)۔ چونکہ اس بات میں شک نہیں ہے کہ چودہ معصومین علیہم السلام، تمام انبیاء اور اولیاء کی نسبت خدا کےزیادہ نذدیک ہیں ،تو لازمی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آیۂ (وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ ) میں" الوسیلہ " سے مراد خاص طور پر یہ بزرگ ہستیاں ہیں ،کیوں کہ خدا وندعالم قرآن کریم میں ارشاد فرمارہا ہے : ( أُولٰئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ) ﴿الإسراء، 57﴾ (جن کو یہ پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب تک رسائی کے لیے وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ ان میں کون زیادہ قریب ہوجائے)۔ان شواہد کی روشنی میں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء کے لیے شفاعت کرنا ممکن ہے ،کیوں کہ خدا نے یہ مقام انہیں عطا فرمایا ہے ۔خدا نے اپنے بندوں کے درمیان اپنے آپ سے نذدیکی اور دوری کے لحاظ سے فرق نہیں رکھا ہے لیکن صرف اور صرف نیک اعمال ، خدا سے شدید محبت،کثرت ِعبادت،خوف ِخدا اور انہی جیسی خصوصیات کے ذریعہ سے ۔ جو بات قابلِ ذکر ہے وہ یہ ہے کہ شافعین کی شفاعت ہر ایک کو میسّر نہیں ہوگی بلکہ صرف وہ لوگ جو اپنے بعض اعمال،فضائل اور خصوصیات مثلاً ناپسندیدہ کاموں پر ندامت اور پشیمانی،خدا کی طرف پلٹنے اور خدا اور اس کے اولیاء سے قرب حاصل کرنے کی کوشش وغیرہ ،کی وجہ سے یہ صلاحیت رکھتے ہوں گے کہ اس نجات عطا کرنے والی فرصت اور موقع سے فائدہ اُٹھا سکیں،صرف انہیں ہی شفاعت نصیب ہوگی ۔اسی وجہ سے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اور آئمہ علیہم السلام کی زیارت،ان حضرات کو عبادت کا ثواب ہدیہ کرنا،ان کے راستہ پر چلنا اور ان کے پیروی کرنا،اہلِ بیت علیہم السلام سے اخلاص اور محبت رکھنا وغیرہ، ان کوششوں میں شامل ہیں جو ان کی شفاعت حاصل کرنے کی شائستگی اور صلاحیت پیدا کرتی ہیں ۔ یہ بات صحیح ہے کہ خدا کی نسبت اس کی تمام مخلوقات ،اس لحاظ سے کہ اس کی مخلوق ہیں ،برابر ہیں ،کیوں کہ خالق اور مخلوق کے درمیان دوسرا کوئی اور رابطہ مثلاًرشتہ داری وغیرہ نہیں پایا جاتا ،لیکن خود خدا نے بعض افراد کو بعض پر برتری عنایت فرمائی ہے،جیسے انسانوں میں بعض خاص فضائل مثلاً کمال ِعقل کے لحاظ سے،فضیلت عطا کی ہے ۔( إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَ نُوحاً وَ آلَ إِبْرَاهِيمَ وَ آلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ‌)﴿آل‏عمران‏، 33﴾ (بے شک اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام عالمین پر برگزیدہ فرمایا ہے)۔ شیعہ اور سنی روایتوں میں آیا ہے کہ عام انسانوں کے مقابلہ میں انبیاء ،اوصیاء اور آئمہ علیہم السلام کی منزلت اور درجات ،غیر قابل ِ تردید،بلند و برتر اور عالی تر ہے ۔لہٰذا نتیجہ میں سب کی برابری ممکن نہیں ہے کیوں کہ خدا نے خود ہی بعض کو بعض پر فضیلت اور برتری عطا فرمائی ہے اور کچھ لوگوں کو دوسروں سے زیادہ پسند فرماتا اور دوست رکھتا ہے ۔ یہ بات روشن اور واضح ہے کہ مؤمن اور کافر،مطیع اور گناہگاراس کے نذدیک برابر نہیں ہیں ۔اسی وجہ سے ان افراد کو جو اس کے نذدیک برتر، عزیز تراور عالی تر ہیں، انہیں عالی درجات اور مقامات ،من جملہ مقامِ شفاعت ،عطا فرماتا ہے ۔ کیوں کہ وہ "ارحم الراحمین "ہے لہٰذا گناہ گاروں کی عفو و بخشش کو پسند کرتا ہے اور انکی توبہ اور ندامت کے اظہار کی وجہ سے ان سے درگذر فرماتا ہے ،اسی طریقہ سے (ان کی شائستگی اور صلاحیت کی وجہ سے ) شافعین کی شفاعت کے ذریعہ انہیں بخش دیتا ہے ۔ لیکن یہ کہ خدا واسطہ کا محتاج نہیں ہے اور اس کے تمام بندے اس سے گفتگو اور اس کی طرف توجہ کی نعمت سے بہرہ مند ہیں ،صحیح ہے لیکن بعض حکمتوں اور مصلحتوں کی وجہ سے (انہی میں سے اپنے برگزیدہ بندوں کے مقام اور منزلت کو ظاہر کرنے کے لیے ) اس نے اپنے بعض بندوں کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان واسطہ قرار دیا ہے ۔اور حکم دیا ہے کہ اُس کی عظیم بارگاہ کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ،ان بزرگ ہستیوں کے ذریعہ سے مانگیں ، ( وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ )﴿المائدة، 35﴾ (اور خدا کی بارگاہ میں واسطہ اور شفیع تلاش کرو)۔ اس بنیاد پر جس طرح سے یہ حضرات خدا کے دستور اور احکام کو بیان کرنے کے لیے خدا اور لوگوں کے درمیں واسطہ ہیں ،اس طرح سے اس کی رحمت ،مغفرت اور لطف حاصل کرنے کے لیے بھی لوگوں اور خدا کے درمیان واسطہ ہیں ۔ شفاعت کے مسئلہ کو ثابت کرنا ،اس کی کیفیت اور اس کے شرائط کے متعلق بحث ، تفصیلی ہے کہ جس کی گنجائش یہاں پر نہیں ہے ۔
  • QaID :  
  • 11921  
  • QDate :  
  • 2012-05-29  
  • ADate :  
  • 2012-05-29  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔اس عقیدہ کے بارے میں شارع ِ مقدس کی رائے کیا ہے ؟ (قرآنی آیات کا ظاہر ،نبی اور معصومین کے لیے علم ذاتی کی حتیٰ تبعیت اور پیروی کی شکل میں بھی نفی کرتا ہے ۔اس معنیٰ میں کہ خداوندعالم نے اپنی قدرت سے پیغمبر کی ذات میں ،علم غیب کو قرار دیا ہو،جس طرح سے دوسرے تمام ملکا ت اور کمالات انہیں عطا فرمائے ہیں ۔بلکہ پیغمبر کے علم غیب رکھنے سے مراد یہ ہے کہ انہی خاص موارد اور مواقع پر علم غیب رکھنا ہے کہ جہاں پیغمبر کو اس کی ضرورت ہو اور وحی کےذریعہ اسے عطا کیا جائے)۔
     Answer :
    جواب ۔ ظاہر ِ آیات یہ ہے کہ علمِ غیب خداوندتبارک و تعالیٰ سے مخصوص ہے لیکن کسی بھی رسول اور امام کے لیے جب خدا کی مرضی ہو تو اس علم کو ظاہر کردیتا ہے ۔ لہٰذا جس طرح سے خداوند عالم ذاتاً یا بالذات ،عالم غیب ہے پیغمبر اور آئمّہ بالعرض ،غیب سے آگاہی حاصل کرتے ہیں ،لیکن یہ کہ کیا تمام علوم غیبی کو جانتے ہیں ،ثابت نہیں ہے ،بلکہ اس کا برعکس سمجھ میں آتا ہے کیوں کہ روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خداوندعالم نے ان علوم میں سے بعض کو اپنے آپ سے مخصوص قرار دیا ہے اور کسی کو بھی اس سے مطلع نہیں کرتا۔ لیکن کیوں کہ پیغمبر اور آئمہ اشرف المخلوقات ہیں اس فضیلت اور ان حضرات کے عالی مرتبہ کی وجہ سے ،خداوندعالم اکثر علوم غیبی کو ان کے اختیار میں قرار دیتا ہے :( قُلْ کَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً بَيْنِي وَ بَيْنَکُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ‌)﴿الرعد، 43﴾( کہہ دیجئے : میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے اللہ اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے کافی ہیں)۔ صحیح تفاسیرِ اور روایاتِ متضافر کی مطابق جس کے پاس کتاب کا علم ہے ،اس سے مراد حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام ہیں ۔ آپ کی عظمت اور وسیع علم اس وقت پوری طرح سے ظاہر ہوتا ہے جب اس کا موازنہ آصف ابن برخیا سے کیا جائے ۔آصف نے صرف علم الکتاب میں سے کچھ حصّہ سے فائدہ اٹھایا تھا تو وہ اس سے ایک حیرت انگیز کام یعنی تخت بلقیس کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر کرنے میں کامیاب ہوسکے ۔ جبکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام ،اس آیت کی تعبیر کی بنیاد پر ،تمام علم الکتاب کو رکھتے ہیں ۔ آئمّہ علیہم السلام کا علم غیب رکھنا صرف ان مقامات تک محدود نہیں ہے جب انہیں اس کی ضرورت ہو یا وہ کسی مشکل میں مبتلا ہو ں اور کس طرح سے محدود ہوسکتا ہے جبکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے لوگوں کے درمیان یہ اعلان کیا :( سلونی قبل ان تفقدونی)جو بھی چاہتے ہو مجھ سے پوچھو،اس سے پہلے کہ میں تمہارے درمیان نہ رہوں ۔ آپ کا یہ جملہ کیا بے انتہا علم جو اس سمندر کی طرح ہے جس میں مسلسل جوش ہو اور اس میں ٹھہراؤ نہ آئے ،اس پر دلالت نہیں کررہا؟
  • QaID :  
  • 11912  
  • QDate :  
  • 2012-05-28  
  • ADate :  
  • 2012-05-28  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔کتاب شریف کافی (جلد نمبر ۱/کتاب الحجۃ،باب:أن الآئمۃلم یفعلوا شیئاً و لا یفعلون اِلّا بعد اللہ)میں آیا ہے کہ آئمّہ علیہم السلام کتابِ" مختوم یا خواتیم " کو ایک دوسرے سے ارث میں لیتے ہیں ۔ہر ایک امام اس کتاب کو کھولتا ہے اور جو کچھ اس سے متعلق اس کتاب میں لکھا ہے ،اس سے آگاہی حاصل کرتا ہے ۔ امام حسین علیہ السلام نے اسے کھولا اور اس میں دیکھا کہ لکھا ہے ، جنگ کرو، قتل کرو اور قتل ہوجاؤ اور ایک گروہ کو شہادت کے لیے اپنے ساتھ لے کر باہر نکلو کہ جو ہرگز بھی تمہارے ساتھ کے علاوہ شہادت کی منزلت پر نہیں پہنچ سکتا ،اور آپ امام علیہ السلام نے ایسا ہی کیا (اور روز عاشورہ واقعۂ کربلا وجود میں آیا)۔ حضرت زین العابدین علیہ السلام نے اسے کھولا ،دیکھا کہ اس میں لکھا ہے،خاموشی اختیار کرو اور سر کو جھکائے رکھو۔ امام باقر علیہ السلام نے اس کی پانچویں مہر کو کھولا ،دیکھا کہ اس میں ہے کہ کتاب خدا کی تفسیر بیان کرو ،اپنے والد کی امامت کی تصدیق کرو اور امامت کی میراث کو اپنے فرزند کو دو۔۔۔۔ اس بنا پر یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ہر امام کے فیصلے اور اپنی ذمّہ داری کا تعیّن کرنا اپنی امامت کے زمانے کے شرائط ،ضروریات اور مصلحتوں کے لحاظ سے تھا ؟ بلکہ ہر امام کی سیرۃ پہلے سے معیّن تھی اور اس میں ان حضرات کا عمل دخل اور خلّاقیت نہیں تھی ۔ان سب چیزوں کے ساتھ تاریخ ِ آئمّہ علیہم السلام کی تحلیل اور سیرۃ آئمّہ سے نظریات کا اخذ کرنا اور اسلامی مفکّرین کا مختلف افکار کو حاصل کرنا کیا حیثیت رکھتا ہے ؟
     Answer :
    جواب: جو چیز روایات سے روشن ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر امام کے لیے خدا کی طرف سے ایک کتاب اور عہد ہے کہ جس میں اس امام کے لیے اجمالی طور پر ،سیاست ،طریقۂ کار اور حکمت عملی کو بیان کیا گیا ہے ۔لہٰذا یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کتاب میں تمام خصوصیات ،حالات اور مواضع شامل ہیں ،شاید کلّی اصولوں کو امام کے لیے معیّن کیا گیا ہواور امام ان اصولوں کو مصادیق اور حالات اور شرائط سے تطبیق دینے میں مخیّر اور صاحب ِ اختیار ہوں ،ا س احتمال کی بنیاد پر اندیشمندوں کا تحلیل کرنا اس بات پر ناظر ہے کہ آئمہ علیہم السلام نے کونسے راستہ کا انتخاب کیا اور کونسا منہج اپنایا۔ جیسا کہ خود آئمہ علیہم السلام کی جانب سے کی گئی توجیہ اور تعلیل سے جو انہوں نے اپنے کردار اور طریقہ کے انتخاب کے بارے میں کی ہے یہ بات روشن ہے۔مثال کے طور پر جو کچھ امام حسن علیہ السلام کی صلح کے متعلق،امام رضا علیہ السلام کے ولایت عہدی کو قبول کرنے کے بارے میں اور یا امام حسین علیہ السلام کا وہ کلام جس میں آپ نے فرمایا :" میں نے اپنے جدّ کی امّت کی اصلاح کے خاطر قیام کیا ہے "بیان ہوا ہے ۔ اور پھر اگر یہ فرض بھی کیا جائے کہ ان امور سے متعلق جزئیات اور تفصیلات اور ان کے اعمال لکھے ہوئے بھی ہوں اور خدا وندعالم کی جانب سے مکلّف بھی ہوں تو بھی صاحبان ِ نظر کی تجزیہ اور تحلیلات اسی حکمت الٰہی کی طرف معطوف ہیں اور یہ کہ خدا وندعالم نے کس دلیل اور حکمت کی بنیاد پر آئمہ علیہم السلام کو اس مقام اور اس سے متعلق امور کا حکم دیا ہے ۔ اس بنا پر یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اندیشمند حضرات اور دانشور ،سیرۃ معصومین علیہم السلام کی حقیقی وجوہات اور حکمت و مصلحت تک پہنچ پائے ہیں بلکہ ان کی تحلیلات اور تجزیہ اس سمجھ بوجھ کی بنیاد پر ہے جو ممکن ہے کبھی واقعیت اور حقیقت کے مطابق ہو اور کبھی اس کے مطابق نہ ہو۔ اصولی طور پر یہ کہنا درست ہے کہ جب آئمہ علیہم السلام کو ئی کام انجام دیتے ہیں اور کوئی طریقہ یا روش اپناتے ہیں ،اس کے باوجود کہ ہم ان کے افعال کی تعلیل اور تفسیر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ،ضروری ہے کہ تعبّداً اسے قبول کریں ۔جس طرح سے ہم بعض عبادی احکام کی علّت کو نہیں جانتے لیکن اس کی شریعت کو قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ،کیوں کہ مجموعی طور پر ہم یہ جانتے ہیں کہ اس حکم کے پیچھے ایک مصلحت اور حکمت پوشیدہ ہے لیکن ہم اس سے آگاہی نہیں رکھتے ۔مثلاً ہم نماز مغرب کے تین رکعتی ہونےاور نماز عشاء کے چار رکعتی ہونے کے فلسفہ کو نہیں جانتے ،لیکن محض اس لیے کہ ہم نہیں جانتے اسے ترک نہیں کرتے ۔
  • QaID :  
  • 11837  
  • QDate :  
  • 2012-05-19  
  • ADate :  
  • 2012-05-19  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ہمارے اساتذہ میں سے بعض افراد کہ جن میں شیخ۔۔۔ بھی شامل ہیں یہ کہتے ہیں کہ معصومین علیہم السلام کے لیے ولایت شرعی ثابت ہے ۔ ان ہی اساتذہ میں سے کچھ افراد سے مناقشہ میں ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہ افراد اس ولایت کے جو خداوند عالم نے آیۂ إِنَّمَا وَلِيُّکُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَ هُمْ رَاکِعُونَ‌ ﴿المائدة، 55﴾ (تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں)۔میں معصومین علیہم السلام کو عطا کی ہے ،اس کے قائل نہیں ہیں ۔ اس آیت اور اسی جیسی دوسری آیا ت کی بنیاد پر ، جو امام علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں ،آئمّہ علیہم السلام حاکم ، ولی امریا سلطان اور مسلمانوں کے حاکم ہیں ۔اور اسی وجہ سے ان کے حکم کی اطاعت ضروری و قطعی اور واجب العمل ہے ،اور یہ وہی چیز ہے جسے امام خمینیؒ نے اپنی کتاب"تہذیب الاصول" میں رسول اعظم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے تین فرائض میں سے دوسرے فریضہ کے عنوان سے شمار کیا ہے ،اور وہ تبلیغ وحی اور رسالت کے بعد حکومت کو پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی ذمّہ داری جانتے ہیں ۔ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے تمام اوامر جب تک کہ ان میں تشریع کے لیے وحی نہ پائی جائے ،اسی طرح سے ہیں۔ اس بات سے ہمیں سمجھ میں آتا ہے کہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم شریعت کو وضع یا رفع کرنے کا اختیار نہیں رکھتے اور یقیناً یہ سب کام شارع مقدّس (جلّ و علا ) کی جانب سے ہیں ۔ لیکن رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے اوامر اور احکامات ،اوامر ِ حکومتی ہیں کہ جو معصوم کے لیے اور ضرورت کے وقت ،ان کو قبول کرنا یا نسخ کرنا ممکن ہے ۔( تہذیب الاصول،جلد۲،صفحہ۴۸۱ سے ۴۸۳،تشریع قاعدۂ لاضرر،آیت اللہ سبحانی کے توسط سے امام خمینیؒ کے دروس کی تقریرات میں ہے) ،(اعلم ان للنبی الاکرم،مقامات ثلاثۃ؛ الاول:النبوۃ والرسالۃ۔۔۔،الثانی:الحکومۃ والسلطنۃ۔۔۔،الثالث:مقام القضاء وفصل الخصومۃ)۔ لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ دانش مند حضرات کا ایک گروہ ،معصوم علیہ السلام کے لیے ولایت تشریعی کو ثابت یا ردّ کرتا ہے ۔لہٰذا کیا معصوم استقلالی یا غیر استقلالی طور پر حکم شرعی کو بنانے یا جاری حکم کو منسوخ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں ؟ جنابِ عالی اس بات کو ردّ کرنے کے لیے کیا فرماتے ہیں ؟
     Answer :
    جواب۔ جو کچھ بھی رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے وہ خداوند عالم کے حکم کو کشف کرتا ہے جس طرح سے آیت میں ہے : وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى‌ ﴿النجم‏، 3﴾ إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْيٌ يُوحَى‌ ﴿النجم‏، 4﴾ (وہ خواہش سے نہیں بولتا۔ یہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو (اس پر) نازل کی جاتی ہے)۔ لہٰذا کبھی رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا قول گذشتہ حکم کے لیے ناسخ ہے اس معنیٰ میں کہ حکم ِ سابق ،معیّن زمانے کے لیے محدود تھا (خاص وقت سے متعلق تھا )اور رسول صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا یہ دوسرا قول حکم خدا کو کشف کررہا ہے ۔یہ مسئلہ دوسرے معصومین کے لیے بھی اسی طرح سے ہے لہٰذا ان کے قول پر عمل کرنا واجب ہے ،جس طریقہ سے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے قول کو قبول کرنا واجب ہے اور جیسا کہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا فرمان احکام گذشتہ کے لیے ناسخ ہے ،عمومات کے لیے مخصّص اور اطلاقات کے لیے مقید ہے ،امام کا حکم بھی ،اس طرح سے ہے ۔
  • QaID :  
  • 11815  
  • QDate :  
  • 2012-05-16  
  • ADate :  
  • 2012-05-16  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ مندرجۂ ذیل خیالات کے بارے میں آپ کی نظر مبارک کیا ہے؟ "میں ولایت تکوینی کا قائل نہیں ہوں کیوں کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ پورا قرآن ولایت تکوینی کے وجود نہ رکھنے پر دلالت کررہا ہے ،قرآن اس بات پر تاکید کررہا ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کسی چیز کے مالک نہیں ہیں مگر یہ کہ خدا نے عارضی طور ان کے اختیار میں دی ہو،یعنی وہ ارادہ کرتا ہے کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم اس چیز میں تصرف کریں تو وہ کرتے ہیں ۔ لہٰذا ،انبیاء اس چیز کا اختیار نہیں رکھتے کہ لوگ جس چیز کا بھی ان سے مطالبہ کریں تو وہ اسے پورا کریں کیوں کہ اگر وہ ولایت تکوینی کے مالک ہوتے تو ہر لمحہ اس بات کا امکان موجود تھا کہ کہ وہ لوگوں کے مطالبات کو مان لیں اور ان پر عمل کریں ۔لیکن ولایت تکوینی نہ ہی ان کی شان کے مطابق ہے اور نہ ہی ان کے اختیار میں ،کیونکہ خدای واحد ہی وہ خدا ہے جو نظام ہستی کو چلانے میں ،صاحب ِ ولایت خالقیت اور فعلیت (توحید خالقیت اور توحید افعالی) ہےاور اس کی کسی بھی مخلوق ،نظام ہستی کو چلانے میں حصّہ دار نہیں ہے ۔ اب اگر ہم اس بات کو قبول کرلیں کہ انبیاء کسی بھی مقام پر اور کسی بھی وقت(یہاں تک کہ دشمنوں سے مقابلہ کے وقت اور مقام اعجاز میں مخالفین کی للکار اور چیلنج کے وقت) ولایت تکوینی کا استعمال نہیں کرسکتے ،مگر یہ کہ خدا کا اذن اور اجازت رکھتے ہوں ،لہٰذا ایسی ولایت جو صاحب ِ ولایت کے لیے حتیٰ انفرادی ضرر کو دور کرنے کے لیے اور خطرات کے مقابلہ میں حمایت کرنے میں بھی کام نہ آئے اور اس کا استعمال نہ کرسکے ،تو ایسی ولایت کس کام کی؟"
     Answer :
    جواب۔ولایت تکوینی کا قائل اس بات کا دعویدارنہیں ہے کہ انبیاء اور آئمّہ علیہم السلام نظام ہستی میں ،خدا کی مشیت ، اس کے ارادہ سے علیحدہ اور استقلالی طور پر اور اپنی ذاتی قدرت کے ذریعہ ،تصرف کرتےہیں ۔جہاں پر بھی قرآن میں کوئی آیت اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ یہ حضرات کسی چیز میں تصرف نہیں کرتے تو اس سے مراد یہ ہے کہ خدا کے ارادہ ،اس کی مرضی اور اس کی قدرت کے علاوہ ،تصرف کا حق نہیں رکھتے ۔لیکن خدا کی عطا کی ہوئی وہ قدرت جو اس نے ان حضرات کے وجود میں رکھی ہے (خدا کے ارادہ سے نہ کہ مستقل طور پر ) کائنات میں تصرف کرنے میں اس قدرت کا استعمال میں، کوئی مانع اوررکاوٹ نہیں پائی جاتی ۔اور یہ سب اس طرح سے ہے کہ جب یہ ہستیاں ،کسی چیز سے کہتی ہیں کہ وجود میں آجا ،تو وہ چیز خدا کے ارادہ سے وجود میں آجاتی ہے ۔ کون ہے جو یہ کہتا ہے کہ خدا وند متعال نظام ہستی کو بغیر واسطہ اور اسباب اور انسانی تدبیر کے چلارہا ہے ؟ جبکہ وہ خود فرمارہا ہے :فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْراً ﴿النازعات‏، 5﴾(پھر امر کی تدبیر کرنے والوں کی قسم)۔ حق بات یہ ہے کہ خدا وند عالم نے علیت کے نظام علیت کو، نظام ہستی میں بہت سی چیزوں کے وجود میں آنے یا جاری ہونے کے لیے وسیلہ قرار دیا ہے ،اسی وجہ سے خدا وند عالم یہ نہیں چاہتا کہ کاموں کو ان کے اسباب کے علاوہ انجام دے ۔(ابی اللہ أن یجری الامور اِلّا بأسبابھا )۔ قرآنی آیات ،روایات اور تاریخی واقعات سے متعلق تحقیقات انجام دینے والے افراد معجزات اور غیر معمولی واقعات کی ایسی بہت سی مثالیں پاتے ہیں کہ جو انبیاء اور اوصیاء کے ہاتھوں اور ان کی قدرت اور ارادہ سے (البتہ خدا کے ارادہ اور مشیت کے راستہ اور سیدھ میں ) رونما ہوئی ہیں ۔اور ان سب امور کا انجام پانا اس طریقہ سے ہے کہ دوسرے افراد ان کاموں کو انجام دینے پر قادر نہیں دے ہیں ، جیسا کہ مُردوں کو زندہ کرنا ،نابینا اور برص میں مبتلا افراد کو شفا دینے کی نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلامکی طرف دی گئی ہے ، وَ تُبْرِئُ الْأَکْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَ إِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَى بِإِذْنِي﴿المائدة، 110﴾(اور تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو ہماری اجازت سے صحتیاب کر دیتے تھے اور ہماری اجازت سے مردوں کو زندہ کر لیا کرتے تھے۔۔۔)۔اور اسی طرح سے مُلک ِسبا کی ملکہ بلقیس کے تخت کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں لانےکی نسبت آصف ابن برخیا کی طرف دی گئی ہے ، أَنَا آتِيکَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْکَ طَرْفُکَ ﴿النمل‏، 40﴾(میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کر دیتا ہوں )۔ یہ بات مدّ نظر رہے کہ کسی اور کی طرف کسی کام کی نسبت دینا ،اس بات کو بیان کررہا ہے کہ وہ شخص ،اس کام کے لیے فاعل حقیقی ہے اور یہ کام اس کی قدرت اور طاقت سے انجام پایا ہے ۔ہاں یہ بات درست ہے کہ یہ کام خدا کے اذن اور اس قدرت اور طاقت سے جو اسے خدا نے عطا کی ہے وقوع پذیر ہوا ہے ،لیکن یہ اس معنیٰ میں نہیں ہے کہ مثال کے طور پر حضرت عیسیٰ نے خدا سے درخواست کی اور خدا نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے مردہ کو زندہ کیا ہو ۔اگر یہ سمجھا جائے تو پوری طرح سے ظاہر آیت کے خلاف ہے ۔ لیکن کیوں ؟ !انبیاء اور اوصیاءاس ولایت کو اپنی زندگی کی حفاظت اور خطرات سے مقابلہ کے لیے استعمال نہیں کرتے ،روشن اور واضح ہے ،کیوں کہ یہ افراد ولایت تکوینی کا استعمال نہیں کرتے مگر یہ کہ خدا ان سے چاہے اور اس کی اجازت دے ، بَلْ عِبَادٌ مُکْرَمُونَ‌ ﴿الأنبياء، 26﴾لاَ يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ‌ ﴿الأنبياء، 27﴾(بلکہ یہ تو اللہ کے محترم بندے ہیں۔وہ تو اللہ (کے حکم) سے پہلے بات (بھی) نہیں کرتے اور اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں)۔اور اسی طرح فرماتا ہے : وَ مَا تَشَاءُونَ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ‌ ﴿التكوير، 29﴾ (اور تم لوگ کچھ نہیں چاہ سکتے مگریہ کہ عالمین کا پروردگار خدا چاہے)۔
  • QaID :  
  • 11797  
  • QDate :  
  • 2012-05-13  
  • ADate :  
  • 2012-05-13  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ اگر خداوندعالم نے احکام شرعی کو صادر کرنے اور مخلوقات سے متعلق امور میں تصرف کے حق آئمہ علیہم السلام کو عطا کیا ہے تو اس بات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کہ یہ حضرات خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ تمام کام اور اختیارات خدا کی جانب سے ہیں اور اسی نے انہیں یہ سب چیزیں عطا کی ہیں ، تو اس صورت میں آئمہ علیہم السلام کی ولایت تکوینی کے معنیٰ کیا ہونگے؟
     Answer :
    جواب۔ آئمہ علیہم السلام اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ تکوینی امور جیسے خلق کرنے ، موت دینے ،زندہ کرنے اور بیماروں کو شفاء عطا کرنے جیسے کاموں میں خدا تعالیٰ کے اذن اور اس کی قدرت سے تصرّف کریں اور براہِ راست ان کاموں کا انجام دینا خدا کے ارادہ ،اس کی مرضی اور اس کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔اس بات میں مانع ِعقلی نہیں پایا جاتا اور نقلی لحاظ سے بھی آیات اور روایات سے یہ مطلب ثابت ہے ۔ انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کی ولایت تکوینی پر بہترین شاہد وہی آیات ہیں جو گذشتہ سوالوں کے جوابات میں ذکر کی گئی ہیں ،انہی آیات میں سے سورۂ مائدہ کی ۱۱۰ویں آیت ہے جو پرندہ کی خلقت کی نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف دے رہی ہے ۔ اسی طریقہ سے سورۂ نمل کی چالیسویں آیت، مُلک سبا کی ملکہ (بلقیس ) کے تخت کو ایک پلک جھپکنے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں لانے کو آصف برخیا کی قدرت میں جانتی ہے ۔ اگر آصف برخیا ،آیت کے بیان کے مطابق علم کتاب الٰہی سے فائدہ اُٹھانے والے کے عنوان سے اس طرح کا تصرف کرسکتے ہیں تو کس طریقہ سے آئمہ اطہار علیہم السلام کہ جن کے پاس تمام علوم اور بطون کتاب الٰہی ہیں یہ حضرات اور قرآن ِ ناطق بھی ہیں ،وہ اس طرح کے تصرف کی قدرت نہ رکھتے ہوں ؟ اس بارے میں سورۂ رعد کی آخری آیت کی عبارت ( وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ‌) کہ جو امیر المؤمنین علیہ السلام کے وجود مبارک سے تفسیر ہوئی ہے ، توجہ فرمائیں : (وَ يَقُولُ الَّذِينَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلاً قُلْ کَفَى بِاللَّهِ شَهِيداً بَيْنِي وَ بَيْنَکُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ‌)﴿الرعد، 43﴾ ( اور کافر کہتے ہیں : کہ آپ رسول نہیں ہیں ، کہہ دیجئے : میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے اللہ اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے کافی ہیں)۔ آصف برخیا کے بارے میں کہا گیا ہے : (الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْکِتَابِ)﴿النمل‏، 40﴾) جس کے پاس کتاب میں سے کچھ علم تھا (۔اس آیت میں ذکر ہورہا ہے کہ جس کے پاس کتاب کے علم میں سے تھوڑا سا علم ہے جبکہ گذشتہ آیت میں فرمارہا ہے کہ وہ جس کے پاس کتاب کا پورا علم ہے۔ یہاں پر فرق کو سمجھنے کے لیے اور زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ۔
  • QaID :  
  • 11782  
  • QDate :  
  • 2012-05-11  
  • ADate :  
  • 2012-05-11  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ آیۂ شریفہ(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْکُمْ)﴿النساء، 59﴾ (اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو)۔ کیا شیعہ علماء کی نظر میں " اولوالامر "سے مراد یہ ہے کہ بارہ امام علیہم السلام معصوم ہیں ۔اگر کوئی شخص اس نظریہ پراعتراض کرے اور یہ کہے ، جو ذیل میں بیان کیا جائے گا ، تو آپ کی نظر ایسے شخص کے بارے میں کیا ہے ؟ انتقاد : اطاعت کا حکم ،لازمی طور پر اس فرد کی عصمت کو بیان نہیں کررہا ہے جس کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے ۔شاید یہ حکم ،جس شخص کی اطاعت کا حکم دے رہا ہے اس کے قول کی حجیّت پر تاکید کرنے کے لیے آیا ہو،نہ کہ اس کی عصمت پر دلالت کرنے کے لیے ۔ جس طرح سے ہم اس مسئلہ کا مشاہدہ ،حکم کے کشف کرنے کے بہت سے طریقوں میں کرتے ہیں ۔جبکہ ہم یقین نہیں حاصل کرسکتے کہ یہ طریقے ،صرف اور صرف حقیقت (حکم حقیقی) تک پہنچاتے ہیں ۔خدا اوراس کے رسول نے ان طریقوں کے مطابق عمل کرنے اور اس کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے۔بہت سی ایسی روایات جو فقہاء کی پیروی پر دلالت کرتی ہیں ،وہ بھی اسی طرح کی ہیں ۔ کیوں کہ کبھی فقہاء شرعی حکم کی تشخیص میں واقعیت تک پہنچ پاتے ہیں اور کبھی خطا کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن ان حضرات کی پیروی کے نتیجہ میں مثبت نتائج یعنی مقلدین کے عمل کا صحیح ہونا اور ان کی پیروی نہ کرنے کی صورت میں منفی نتائج یعنی مقلدین کے عمل کا غیر صحیح ہونا ،قرار دیا گیا ہے ۔ اس بنیاد پر ہم اطاعت کے حکم کو اس معنیٰ میں نہیں لے سکتے کہ "اولوالامر " سے مراد معصومین ہیں ۔اور اسی طریقہ سے وہ احادیث جو اس بارے میں آئی ہیں ،اس معنیٰ سے دور ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ عصمت کے وسیع مفہوم کے لازمی معنیٰ کے ساتھ (نہ صرف انبیاء اور آئمّہ کے لیے بلکہ ان کے علاوہ دوسرے افراد کے لیے بھی ) ان احادیث کے بھی ساتھ ہوجائیں جو صراحت کے ساتھ آئمہ ٔ معصومین کے اولی الامر ہونے کو بیان کررہی ہیں ۔ہمارا، اس طریقہ سے اس بات کو سمجھنا بالکل ویسے ہی ہے جو آئمّہ کی احادیث میں استعمال ہوا ہے ،جس طرح سے ایک آیت کی تفسیر کے لیے ،اس کے مصادیق پر تطبیق سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اور آیات کی تفسیر کرنے کا یہ طریقہ ،قرآن کریم کے فکری اور عملی میدانوں میں اس مسلسل تعلق سے ہے جو بشریت کی پوری زندگی میں پھیلا ہوا ہے ۔
     Answer :
    جواب۔ وہ روایات جو اس معنیٰ پر دلالت کررہی ہیں کہ اس آیۂ مبارکہ میں "اولوالامر " سے مراد معصومین ہیں ،اولی الامر کے معصومین کی ذوات میں منحصر ہونے کو بھی صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہیں لہٰذا ،اگر معصومین علیہم السلام پر اولی الامر کے اطلاق ہونے کو باب جری اور تطبیق سے جانیں تو گویا ہمارا یہ کام " اجتھاد کے مقابلہ میں نصّ سے مشابہ ہوگا ۔ آیت کا سیاق بھی "اولی الامر" کے معصومین کی ذوات میں منحصر ہونے کو بیان کررہا ہے کیوں کہ ان کی اطاعت سے مراد وہی اطاعت ہے جو خدا اور رسول کی نسبت واجب ہوئی ہے ۔ لہٰذا یہ جو کہا گیا ہے کہ ،یہ تطبیق کے باب سے ہے "اجتہاد کے مقابلہ میں نص" سے شباہت رکھتا ہے ۔ اور اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ مطاع یعنی جس کی اطاعت کی جارہی ہے وہ خدا اور رسول ہی سے مطابقت رکھتا ہو۔ اس کے علاوہ اطاعت کا حکم ہر لحاظ سے مطلق ہے اور ایسے شخص کی مکمل اطاعت کا حکم جو پوری طرح سے جو گناہ اور خطا سے محفوظ نہ ہو ،شدّت کے ساتھ غیر پسندیدہ ہے ۔ہاں یہ ممکن ہے کہ بعض صورتوں میں فقیہ عادل کی اطاعت یعنی فقیہ کی صلاحیت کے مطابق ،کاحکم دیا جائے ، اس صورت میں اگر ہم اس کی ایک مستند خطا اور اس کے حکم کے برخلاف حاکم شرع کی دلیل کو پالیں تو اس کی اطاعت واجب نہیں ہوگی۔
  • QaID :  
  • 11717  
  • QDate :  
  • 2012-05-05  
  • ADate :  
  • 2012-05-05  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ اگر کوئی اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ آئمہ علیہم السلام ایسے مقام پر فائز ہیں کہ جہاں پر کوئی مقرب فرشتہ اور کوئی نبی مرسل نہیں پہنچ سکتا ، تو کیا یہ غلو اور نتیجتاً سورۂ مائدہ کی ۶۴ ویں آیت میں لعن کیے گئے افراد میں شامل نہیں ہے؟ جو یہ فرمارہی ہے : وَ قَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَ لُعِنُوا بِمَا قَالُوا ﴿المائدة، 64﴾ ( اور یہودی کہتے ہیں کہ خدا کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں جب کہ اصل میں ان ہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور یہ اپنے قول کی بنا پر ملعون ہیں)۔
     Answer :
    جواب۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ خدا وند متعال نے، انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کو ایسی قدرت عطا فرمائی ہے کہ یہ حضرات مختلف موجودات کو خلق کرسکیں ،رزق و روزی دے سکیں ، عالَم غیب کا علم رکھتے ہوں یا اسی جیسے دوسرے کاموں پر قادر ہوں ،اور یہ سب اس طرح سے ہوکہ خداوند عالم ان حضرات سے اس قدرت کو سلب کرنے پر قادر ہو، غلو اور ممنوعہ تفویض نہیں ہے (کہ جس پر یہودی عقیدہ رکھتے ہیں) اور آیۂ شریفہ میں لعنت کے موارد اور مقامات میں سے بھی شامل نہیں ہے ، کیوں کہ یہودی اس بات پر عقیدہ رکھتے تھے کہ خداوند عالم نے حضرت عزیر علیہ السلام کو خلق کرنے کی قدرت عطا فرمائی ہے اور اپنے ہاتھوں کو ،حضرت عزیر سے اس قدرت کو سلب کرنے سے ایسا باندھ لیا ہے کہ وہ خود بھی حضرت عزیر کی مرضی کے خلاف تصرّف نہیں کرسکتا ۔اور یقیناً یہ عین کفر ہے ۔ لیکن ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے انبیاء اور اماموں کو غیر معمولی کام کرنے کی قدرت (جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے ) عطا فرمائی ہے ، یہ قدرت اس طرح سے ہے کہ یہ حضرات ہر لحظہ ،خدا کے ارادہ ،ا س کی قدرت سے مدد حاصل کرنے اور اس کے فیض و کرم کے محتاج ہیں ۔ اور یقیناً جب بھی مصلحت نہ ہو تو خدا ان کے تصرف اور اختیار کو واپس لے سکتا ہے ۔ درج ذیل بعض مثالوں کی طرف توجہ فرمائیں : وَ إِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ کَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي فَتَنْفُخُ فِيهَا فَتَکُونُ طَيْراً بِإِذْنِي وَ تُبْرِئُ الْأَکْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَ إِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَى بِإِذْنِي ﴿المائدة، 110﴾ (اور جب تم ہماری اجازت سے مٹی سے پرندہ کی شکل بناتے تھے اور اس میں پھونک دیتے تھے تو وہ ہماری اجازت سے پرندہ بن جاتا تھا اور تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو ہماری اجازت سے صحتیاب کر دیتے تھے اور ہماری اجازت سے مردوں کو زندہ کر لیا کرتے تھے۔۔۔)۔ (وَ مَا نَقَمُوا إِلاَّ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ) ﴿التوبة، 74﴾ (اور ان کا غصہّ صرف اس بات پر ہے کہ اللہ اور رسول نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو نواز دیا ہے ۔) (قُلْ يَتَوَفَّاکُمْ مَلَکُ الْمَوْتِ الَّذِي وُکِّلَ بِکُمْ) ﴿السجده‏، 11﴾( آپ کہہ دیجئے کہ تم کو وہ ملک الموت زندگی کی آخری منزل تک پہنچائے گا جو تم پر تعینات کیا گیا ہے)۔ (حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ) ﴿الأعراف‏، 37﴾(جب ہمارے نمائندے فرشتے مّدت حیات پوری کرنے کے لئے آئیں گے)۔ (قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْکِتَابِ أَنَا آتِيکَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْکَ طَرْفُکَ) ﴿النمل‏، 40﴾(ایک شخص نے جس کے پاس کتاب کا ایک حصہّ علم تھا اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی لے آؤں گا کہ آپ کی پلک بھی نہ جھپکنے پائے)۔ (فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْراً) ﴿النازعات‏، 5﴾(پھر امور کاانتظام کرنے والے ہیں)۔ ان آیات میں انبیاء ،ان کے اصحاب و انصار اور فرشتوں کی جانب مختلف کاموں میں تصرف اور غیر معمولی کاموں کی نسبت دی گئی ہے جبکہ خدا کی طرف نہیں ، لہٰذا یہ لوگ اس طرح کے کاموں کو براہ راست انجام دیتے ہیں۔لیکن کلیدی نکتہ یہ ہے کہ ان کاموں کا انجام دینا خدا کی اجازت اور اس کی عطا کی ہوئی قدرت کے ذریعہ سے ہے ۔ آپ ایک مرتبہ پھرسورۂ مائدہ کی آیت نمبر 110میں لفظ " بِإِذْنِي " (میری اجازت سے ) پر توجہ فرمائیں ۔ لیکن سورۂ زمر کی 42ویں آیت میں مارنے کو اپنی طرف نسبت دے رہا ہے : ( اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ ) (اللہ ہی ہے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلالیتا ہے)۔ ان آیات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ، نبیوں ،اماموں ،فرشتوں اور ۔۔۔کی جانب سے یہ تمام کام انجام دینا خدا کی مصلحت ،اس کے ارادہ کے مطابق اور ان کی سیدھ میں ہیں ۔ کتاب ِ " بصائر الدرجات" کے بابِ"آئمہ مُردوں کو زندہ کرتے ہیں اور پیدائشی اندھوں کو شفا ء دیتے ہیں " میں ابوبصیر سے جو نابینا تھا، روایت نقل ہوئی ہے کہ :( میں نے امام صادق علیہ السلام اور امام باقر علیہ السلام سے عرض کیا، آپ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے وارث ہیں ؟ فرمایا: ہاں ۔ میں نے کہا : رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم انبیاء کے وارث ہیں ،اور جو کچھ بھی انبیاء جانتے تھے وہ بھی جانتے ہیں ؟ فرمایا: ہاں ۔میں نے عرض کیا : کیا آپ بھی مُردوں کو زندہ کرسکتے ہیں ،پیدائشی نابینا اور برص کے مریضوں کو شفا ء عطا کرسکتے ہیں ؟ فرمایا: ہاں ،خدا کی اجازت سے ۔اس کے بعد فرمایا : اے ابا محمد (ابو بصیر کی کنیّت ) میرے نذدیک آؤ ؛ اس کے بعد اپنے ہاتھ کو میرے چہرے اور آنکھوں پر پھیرا ،اور میں دیکھنے لگا اورمیں نے سورج ،آسمان ، زمین،گھر اور جو کچھ بھی وہاں تھا ،اسے دیکھا ۔پھر ارشاد فرمایا: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اسی طرح دیکھتے رہو، قیامت کے دن تمہارے ساتھ بھی وہی ہو جو لوگوں کے ساتھ ہوگا اور جو چیز دوسروں کے لیے باعث ضرر ہوگی وہی تمہارے لیے بھی ضرر کا سبب بنے ؟ (یعنی تم بھی بینا افراد کی طرح شرعی فرائض کے مکلّف ہو) یا پہلے کی طرح نابینا ہوناچاہتے ہواور جنّت کے خالص درجہ پر فائز ہونا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں چاہتا ہو ں کہ جس طرح سے تھا ویسے ہی رہوں ،اس کے بعد امام نے دوبارہ میری آنکھوں پر ہاتھ پھیرا اور میں پھر سے نابینا ہوگیا ۔) اور اسی طرح آئمہ نے دوسری روایات میں فرمایا ہے : ہمیں (حمد و ستائش کے وقت ) ربوبیت خداوندی سے نچلے درجہ پر رکھو اور پھر جو کچھ بھی ہماری تعریف میں کہنا چاہتے ہو، کہو(اور ہمارے فضائل کو شمار کرو)۔ اس بنا پر ، جو چیز زیارت جامعہ کبیرہ میں آئی ہے ، مثلاً" مخلوقات آپ کی طرف پلٹتی ہیں اور ان کا حساب کتاب آپ کے ساتھ ہے" ( اِیاب الخلق اِلیکم و حسابہ علیکم) ، غلو نہیں ہے اور درج ِ ذیل آیت میں خدا کے فرمان سے منافات نہیں رکھتا : إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ‌ ﴿الغاشية، 25﴾ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ‌ ﴿الغاشية، 26﴾) پھر ہماری ہی طرف ان سب کی بازگشت ہے ،اور ہمارے ہی ذمہ ان سب کا حساب ہے)۔ لہٰذا آیہ ٔ کریمہ کی شہادت کے مطابق ، آئمہ کا علم : عِبَادٌ مُکْرَمُونَ‌ ﴿الأنبياء، 26﴾ لاَ يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ‌ ﴿الأنبياء، 27﴾ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لاَ يَشْفَعُونَ إِلاَّ لِمَنِ ارْتَضَى ﴿الأنبياء، 28﴾)وہ سب اس کے محترم بندے ہیں ،جو کسی بات پر اس پر سبقت نہیں کرتے ہیں اور اس کے احکام پر برابر عمل کرتے رہتے ہیں ، وہ ان کے سامنے اور ان کے پس پشت کی تمام باتوں کو جانتا ہے اور فرشتے کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے مگر یہ کہ خدا اس کو پسند کرے )۔خدا کے اذن و ارادہ سے ہے ،اس علم کی خدا اور آئمہ علیہم السلام ،دونوں کی طرف نسبت دینا صحیح ہے ۔اسی طریقہ سے قرآن کریم کی ایک آیت میں مارنے کی نسبت خود خدا وند متعال کی طرف دی گئی ہے اور دوسری آیات میں ملک الموت اور دوسرے فرشتوں کی طرف دی گئی ہے ،اور غیر خدا کی طرف مارنے کی نسبت دینا غلو نہیں ہے ۔ اور شاید زیارت جامعہ کبیرہ پڑھنے سے پہلے ،سو تکبیروں کے ذکر کی تاکید اسی بات کو یاد دلانے کے لیے ہو کہ اس زیارت میں ذکر کئے گئے اوصاف ،آئمہ علیہم السلام کو مقام خدائی تک نہیں پہنچاتے اور انہیں باری تعالیٰ کا شریک نہیں بناتے چونکہ مقام ربوبیت انتہائی عظیم اور اعلی ہے ۔ جیسا کہ مفاتیح الجنان میں آیا ہے ،علامہ مجلسی ؒ بھی ان تکبیرات کو غلو سے روکنے کے لیے جانتے ہیں کہ جس کی طرف انسان کی طبیعت مائل ہے ۔
  • QaID :  
  • 11677  
  • QDate :  
  • 2012-04-29  
  • ADate :  
  • 2012-04-29  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔برائے مہر بانی درج ذیل عبارت جو ماہ رجب کی دعا میں آئی ہے ، کے معنی ٰ بیان فرمائیں: (۔۔۔اَسئَلُكَ بِما نَطَقَ فيهِمْ مِنْ مَشِيَّتِكَ فَجَعَلْتَهُمْ مَعادِنَ لِكَلِماتِكَ وَاَرْكاناً لِتَوْحيدِكَ وَآياتِكَ وَمَقاماتِكَ الَّتى لاتَعْطيلَ لَها فى كُلِّ مَكان يَعْرِفُكَ بِها مَنْ عَرَفَكَ لا فَرْقَ بَيْنَكَ وَبَيْنَها اِلاّ اَنَّهُمْ عِبادُكَ وَخَلْقُكَ)۔ ( میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جو کچھ تیری مشیت سے ان میں ظاہر اور گویا ہے تاکہ ان کو اپنے کلمات کا خزانہ اور توحید کی اساس ،اپنی نشانیاں اور اپنے مقامات کہ کبھی بھی اس میں معطلی نہیں ہے ، قرار دیا ہے ؛ جس نے بھی تجھے پہچانا ،انہی کے ذریعہ پہچانا ،تیرے اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے لیکن یہ کہ یہ سب تیرے بندے اور تیری مخلوق ہیں )۔
     Answer :
    جواب ۔ اس دعای شریف کے معنیٰ یہ ہیں کہ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ،معصومین علیہم السلا م کے لیے بھی ہے ،لیکن بالعرض اور بالواسطہ ، بالذات نہیں ۔ لہٰذا ان کے درمیان کوئی نہیں ہے مگر بس یہ کہ خدا نے انہیں اس طرح بنایا ہے کہ اس کی اجازت سے اور اس کے ارادہ کے مطابق مختلف کام انجام دیتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں نہیں ۔مثال کے طور پر ،بادشاہ اور وزیر کے درمیان پائی جانے والی نسبت پر توجہ فرمائیں ۔ وزیر ،بادشاہ کی اجازت سے کام کرتا ہے ،جب کہ اس کا شریک اور ہم مرتبہ بھی نہیں ہے ،اور اس مراتب کے سلسلے میں مجموعی طور پر ماتحت ملازمین اپنے اعلیٰ افسران کی نسبت یہی حکم رکھتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم میں مردوں کا زندہ کرنا ،غریبی اور فقیری سے نجات دلانا ، تخت بلقیس کو حضرت سلیمان کی خدمت میں لانا اورزندہ کو مارنے وغیرہ کی نسبت پیغمبروں ،اولیاء اور فرشتوں کی طرف دی گئی ہے ۔لہٰذا یہ عقیدہ رکھنا کہ جس چیز پر خد اقادر ہے ، معصومین بھی خدا کے حکم سے اسے انجام دیتے ہیں ،شرک نہیں ہے بلکہ خدا کی اور بھی زیادہ تعظیم ہے ۔ مثال کے طور پر اگر حیاتیات کا ایک طالب علم ، استاد کی جانب سے سکھائے گئے علوم کی مدد سے ایک کامیاب آپریشن کرتا ہے تو یہ چیز ہمیں بتاتی ہے کہ اس کا استاد علم حیاتیات کا ایک بڑا عالم اور ایک ماہر سرجن ہے کہ شاگرد نے اس کی اجازت اور جو کچھ اس نے سکھایا ہے اس کی مدد سے آپریشن کیا ہے ۔
  • QaID :  
  • 11606  
  • QDate :  
  • 2012-04-20  
  • ADate :  
  • 2012-04-20  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ ایسی روایات کے بارے میں جو صدر اسلام کے زمانے میں خلفاء کے ہاتھوں ،حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام پر ڈھائے جانے والے مسلسل ظلم و ستم ،من جملہ آپ علیہا السلام کا پہلو زخمی کرنے ،حضرت محسن کے جنین کےساقط ہونے،آپ کو طمانچہ مارنےاور آپ کو گریہ سے روکنے وغیرہ کو بیان کرتی ہیں ،ان کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
     Answer :
    جواب۔ اس موضوع سے متعلق روایات تظافر اور تواتر کی حدّ تک ،اجمالی صورت میں بہت زیادہ ہیں ۔ یہاں پر ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ان روایات میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جائے ،پہلے ہم ان روایات کو بیان کریں گے جو اہل سنت علماء کی جانب سے بیان کی گئی ہیں: ۱۔ تاریخ طبری،تیسری جلد،صفحہ ۲۰۲: عمر بن خطاب حضرت علی علیہ السلام کے گھر آیا اور کہا : خدا کی قسم پورے گھر کو آگ لگا دوں گا ،یا بیعت کے لیے گھر سے باہر آجائیے۔ ۲۔ بلاذری نے انساب الاشراف کی پہلی جلد،صفحہ نمبر ۵۸۶پر استناد کرتے ہوئے بیان کیا ہے: ابو بکر نے عمر کو بیعت لینے کے لیے علی علیہ السلام کی طرف بھیجا، لیکن انہوں نے بیعت نہیں کی ،نتیجہ میں عمر اس حالت میں کہ آگ کا شعلہ اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا ، آیا اور دروازہ کے پاس حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سامنے آیا ،بی بی نے فرمایا: اے خطاب کے بیٹے ، میں دیکھ رہی ہوں کہ میرے گھر کے دروازے کو آگ لگا رہے ہو! پسر خطاب نے کہا :ہاں یہ میرا کام ،جو آپ کے والد لائے ہیں ،اس کے لیے بہتر ہے۔ ۳۔ عقد الفرید ،تیسری جلد،صفحہ نمبر ۶۳ میں بھی تقریباً یہی تحریر نقل ہوئی ہے ۔ ۴۔ مسعودی نے اثبات الوصیہ کے صفحہ نمبر ۱۱۶ سے ۱۱۹ تک لکھا ہے کہ : حضرت علی علیہ السلام پر حملہ کیا اور آپ کو زبر دستی گھر سے باہر نکالا اور سیدۃ النساء العالمین کو در و دیوار کے درمیان دبا دیا یہاں تک کہ محسن ساقط ہوگیا۔ ۵۔ منتخب کنز العمّال،صفحہ۱۷۴۔ ۶۔ الشافی،صفحہ ۳۹۷: محمد ابراہیم ثقفی نے الغارات میں امام صادق علیہ السلام سے استناد کرتے ہوئے کہا ہے کہ : خدا کی قسم علی نے بیعت نہیں کی یہاں تک کہ ان دونوں کو اپنے گھر میں دیکھا۔ ۷۔ الامامۃ والسیاسۃ،ابن قتیبہ ،صفحہ ۱۹:لوگوں نے عمر سے کہا ، فاطمہ گھر میں ہیں ۔اس نے کہا : چاہے گھر میں ہوں ۔ ۸۔ ملل و نحل،صفحہ ۸۳:بیعت کے دن عمر نے ایسی ضرب بی بی فاطمہ کے شکم پر ماری کہ آپ کا حمل ضایع ہوگیا ۔اور یہ عمر تھا جو یہ کہہ رہا تھا کہ : گھر کو آگ لگا دو چاہے جو بھی اس گھر میں ہو۔ ۹۔ تاریخ ابو الفداء،پہلی جلد، صفحہ نمبر ۱۵۶۔ توجہ رہے کہ جب بھی آپ اہل سنت مأخذ اور مصادر کی طرف رجوع کرنا چاہیں تو پرانے اور قدیم ایڈیشنز کو مدّ نظر رکھیں کیوں کہ نئے ایڈیشنز سے پہلے اور دوسرے کے کرتوتوں کو نکال دیا گیا ہے اور اہل بیت علیہم السلام کی مظلومیت اور حقانیت کو حذف کر دیا گیا ہے۔ اب ہم بعض شیعہ روایات کی طرف اشارہ کررہے ہیں : ۱ ۔ امالی صدوق ؒ ،صفحہ ۶۸ سے ۸۲ تک : اور میری بیٹی فاطمہ ،گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ اس کے گھر کو بے اہمیت،اس کی ہتک حرمت،اس کا حق غصب اور اس سے اس کے حق کو دور کردیں گے،اس کے پہلو کو زخمی اور اس کے بچہ کو ساقط کردیں گے۔۔۔ اے خدا ہر اس شخص پر لعنت بھیج جو اس پر ظلم کرےاور جو بھی اس کا حق غصب کرے اسے عذاب میں مبتلا کردے، جو بھی اس کی بے حرمتی کرے اس ذلیل کردےاور جو بھی اس کے پہلو پر اس طرح ضرب لگائے کہ اس کا بچہ ضایع ہوجائے اسے آگ کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے ڈال دے ،اس کے بعد سب فرشتوں نے آمین کہا ۔ ۲۔ امالی شیخ صدوقؒ ،صفحہ۸۱ اور ۸۲ :اور اس(فاطمہ) کے منہ پر طمانچہ مارنا۔۔۔ ۳۔ کامل الزیارات، صفحہ۲۳۲ سے ۲۳۵: اور تمہاری بیٹی تمہارے بعد ظلم و ستم دیکھے گی اور اسے ماریں گے اس حالت میں کہ وہ حاملہ ہوگی ، بغیر اجازت کے اس کے حریم اور گھر میں داخل ہونگے اور اس کے جنین کو ساقط کردیں گے ،اور پہلا انسان جس کے بارے میں روز قیامت فیصلہ سنایا جائے گا وہ،محسن بن علی علیہ السلام ہے۔ ۴۔ احتجاج طبرسی،پہلی جلد ،صفحہ۱۰۵: جب عمر آگ اور لکڑیوں کے ساتھ چلّایا : گھر سے باہر نکل جاؤ ورنہ میں ضرور گھر کو آگ لگادوں گا ؛اس سے کہا گیا : فاطمہ گھر میں ہیں ۔ ۵۔ تفسیر عیاشی،دوسری جلد،صفحہ۶۶ اور ۶۷:جب فاطمہ نے حملہ آوروں کو دیکھا ،دروازہ کو ان کے لیے بند کردیا ،اس کے بعد عمر نے اپنا پیر دروازہ پر مارا اور دروازہ توڑ دیا۔ ۶۔ تفسیر عیاشی، دوسری جلد،صفحہ ۳۶۰،حدیث نمبر۲۳۴: عمر نے ایک مرد کو بھیجا جس کا نام قنفذ تھا ،حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام اس شخص اور حضرت علی علیہ السلام کے درمیا ن میں کھڑی ہوگئیں ،قنفذ نے آپ کو مارا اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ گھر کے نذدیک لکڑیاں لیکر آئیں، اس وقت عمر نے ان لکڑیوں کو آگ لگائی ۔ ۷۔ شیخ مفید نے امالی ،صفحہ۳۸ میں : گھر والوں نے یہ قبول نہ کیا کہ باہر نکلیں تو عمر نے کہا :ان کے گھر کو آگ لگادو۔ ۸۔ بحار الانوار،جلد نمبر ۴۳،صفحہ نمبر ۱۷۹،ساتویں سطر:کتاب سلیمان بن قیس ہلالی میں ابان بن ابی عیاش سے اس نے سلمان اور عبداللہ ابن عباس سے ، دیکھا کہ (سلمان اور ابن عباس ) نے کہا : جب رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے وفات پائی ،ابھی آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کو دفنایا بھی نہیں گیا تھا کہ لوگوں نے اپنا عہد توڑ ڈالا اور مرتد ہوگئے ۔(اس حقیقی دین سے جو امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت کےمدار پر تھااور انہوں نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے۔) اور انیسویں سطر میں آیا ہے کہ :عمر نے علی کے گھر کا رُخ کیا اور دروازہ کو پیٹا ، اور بلند آواز کے ساتھ چلّایا : اے ابو طالب کے بیٹے ،دروازہ کھولو۔اس وقت فاطمہ علیہا السلام نے فرمایا : اے عمر ہمیں تجھ سے کیا کام؟ کیوں ہمیں ،جو کام ہم کررہے ہیں (رحلت پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی عزاداری)،کرنے نہیں دیتے؟ اس نے جواب دیا : دروازہ کھولو ،ورنہ اسے تمہارے اوپر جلادوں گا ۔پھر (فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا : اے عمر !کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟ کیا تم چاہتے ہو کہ گھر پرحملہ آور ہو؟ عمر نہ مانا ،آگ مانگی اور دروازہ کو آگ لگادی ،اوردروازہ کو بھی پیٹا۔پھر فاطمہ سلام اللہ علیہا اس کے نذدیک آئیں اور فریاد اور نالہ و زاری بلند کی : اے با با ، اے رسول خدا ۔ اس وقت عمر نے تلوار کو اُٹھایا اور اس کے غلاف سے حضرت فاطمہ کے پہلو پر ضرب لگائی تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے رونے کی آواز بلند ہوئی اور پھر حضرت فاطمہ کے بازو پر تازیانہ مارا۔ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام پکاریں : اے بابا۔اس وقت علی ابن ابی طالب علیہ السلام پہنچے ، عمر کا گریبان پکڑا اور اسے زمین پر گرا دیا ،جس کی وجہ سے اس کی ناک اور گردن پر چوٹ لگی اور وہ سخت تکلیف میں مبتلا ہوااور زخمی ہوگیا۔حضرت نے اسے قتل کرنے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی وصیّت یاد آگئی کہ جس میں آپ علیہ السلام کو صبر اور پیروی کی تلقین کی تھی،لہٰذا فرمایا: اے پسر صھّاک(عمر)اس کی قسم جس نے حضرت محمد صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم مبعوث برسالت کیا ،اگر خدا کی مرضی نہ ہوتی تو تم کچھ بھی کرلیتے لیکن میرے گھر میں داخل نہیں ہوسکتے تھے۔ اس کے بعد عمر نے لوگوں کو مدد کے لیے پکارا ، لوگ آئے ،علی کے گھر میں داخل ہوئے اور حضرت علی علیہ السلام کی گردن میں رسی ڈالی ۔ اس حالت میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا دروازہ کے برابر میں علی اور حملہ آوروں کے درمیان حائل ہوگئیں اور اس وقت قنفذ نے آپ علیہا السلام کو ایسا تازیانہ مارا کہ جب آپ دنیا سے گئیں تو اس ملعون کے تازیانہ کا نشان ،ایک پھوڑہ کی طرح آپ کے بازو پر موجود تھا ،اس کے بعد گھر کے دروازہ کو اس طرح دھکّا دیا کہ آپ علیہا السلام کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور آپ کا بچہ ساقط ہوگیا۔اس کے بعد بستر بیماری سے اُٹھ نہ پائیں یہاں تک کہ آپ نے شہادت پائی ۔ روایت یہاں تک بیان کرتی ہے کہ ابن عباس نے کہا :حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو جب خبر دی گئی کہ ابو بکر نے فدک پر قبضہ کر لیا ہے تو حضرت فاطمہ علیہا السلام خواتینِ بنی ہاشم کو لیکر گھر سے باہر نکلیں ۔۔۔اور پھر فکرمندی اور پریشانی کے عالم میں واپس گھر آئیں اور بیمار ہوگئیں ۔حضرت علی علیہ السلام پنجگانہ نمازیں مسجد میں پڑھتے تھے ، ابو بکر اور عمر نے علی علیہ السلام سے دریافت کیا :رسول خدا کی بیٹی کا کیا حال ہے ؟ ۔۔۔حضرت فاطمہ علیہا السلام نے اپنے چہرہ پر نقاب ڈال لی اور دیوار کی طرف رُخ کرلیا (تاکہ ابو بکر اور عمر کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیں) اس وقت وہ دونوں آئے ، سلام عرض کیا اور کہا : ہم سے راضی ہوجاؤ ،خدا تم سے راضی ہو؛آپ علیہا السلام نے فرمایا : جس چیز کے بارے میں تم سے پوچھ رہی ہوں مجھے جواب دو،اگر تم لوگ سچ بولو۔۔۔ پھر آپ نے فرمایا: تم لوگوں کو خدا کی قسم دیتی ہوں ، کیا تم لوگوں نے یہ سنا ہے کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا:فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے بھی اسے ستایا اس نے مجھے ستا یا ہے۔؟ ان دونوں نے جواب دیا : ہاں۔ اس کے بعد آپ علیہا السلام نے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا : ان دونوں نے مجھے ستایا ہے میں ان دونوں کی تجھ سے اور تیرے رسول سے شکایت کرتی ہوں ؛نہیں ، بخدا میں تم دونوں سے تا ابد راضی نہیں ہوں گی یہا ں تک کہ اپنے بابا رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے ملاقات کروں اور جو کچھ تم لوگوں نے میرے ساتھ کیا ہے وہ بیان کروں ،وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والے ہیں ۔ ابن عباس کہتے ہیں :فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے بابا کی رحلت کے بعد چالیس روز تک زندہ رہیں اور جب آپ کی بیماری میں شدت پیدا ہوئی تو آپ نے علی علیہ السلام کو بلوایا ، اپنی وصیتیں کیں کہ آپ کو رات کے وقت غسل و کفن دیں اور دفن کریں اور جن لوگوں نے مجھ پر ظلم کیا ہے ان خدا کے دشمنوں میں سے کوئی ایک بھی میری تشییع،دفن اور نماز میں شریک نہ ہونے پائے۔ آگے چل کر ابن عباس کہتے ہیں کہ : اس رات کی صبح سویرے ،ابو بکر،عمر اور دوسرے لوگ بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نماز جنازہ پڑھنے کے ارادہ سے آئے ۔۔۔عمر نے کہا:بخدا میں نبش قبر (قبر کھود کر ) کرکے ان پر نماز پڑھوں گا ۔علی علیہ السلام نے فرمایا : خدا کی قسم ،اے عمر! اگر تم نے ایسا کیا ۔۔۔اگر میں نے تلوار کھینچ لی ، تمھاری موت سے پہلے راضی نہیں ہوں گا ۔اس وقت عمر پیچھے ہٹا اور خاموش ہوا ،اور سمجھ گیا کہ اگر علی نے قسم کھائی ہے تو اس پر عمل بھی ضرور کریں گے ۔(بحار الانوار،جلد نمبر۲۸،صفحہ نمبر۲۹۷،حدیث نمبر۴۸) ۹۔ شیخ صدوق نے خصال میں (حضرت زہرا علیہا السلام کو رونے سے روکنے کے متعلق) کہا ہے:فاطمہ زہرا علیہا السلام رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم پر ایسا روئیں کہ اہل مدینہ تنگ آگئے اور ان سے کہا کہ : اپنے رونے سے آپ نے ہمیں اذیّت میں مبتلا کردیا ہے ،اس کے بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا مدینہ سے باہر شہداء کی قبروں پر جاکر رویا کرتی تھیں تاکہ صبر آجائے ،اور پھر اپنے گھر کو پلٹتی تھیں ۔(بحار الانوار،جلد۴۳،صفحہ۱۵۵) ۱۰۔ بحار الانوار کی جلد نمبر ۴۳،صفحہ نمبر ۱۵۸پر معانی الاخبار سے : مہاجرین اور انصار کی خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : بے شک عہد خداوندی کی بھاری ذمہ داری ان کی گردنوں پر سنگینی کرے گی چونکہ عدل و انصاف کو قتل کرنے کی ذلّت اور بے شرمی کو ان کی جھولی میں ڈال دیا ہے ، ان مکاروں پر خدا کی لعنت،اور ظالم اور ستم گر رحمتِ حق سے دور رہیں ۔ ۱۱۔ بحار الانوار کی جلد نمبر ۴۳ ، صفحہ نمبر ۱۷۰پر کتاب دلائل الامامۃ طبری سے استناد کرتے ہوئے امام صادق علیہ السلام سے : حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ، منگل کے دن تیسری جمادی الثانی ، سن گیارہ ہجری کو رحلت فرمائی ، ان کی وفات کی وجہ یہ تھی کہ عمر کے غلام قنفذنے اس کے حکم سے تلوار کا دستہ آپ علیہا السلام کو مارا اور آپ کے بیٹے محسن شہید (سقط) ہوگئے ۔ اسی وجہ سے آپ علیہا السلام شدید بیمار ہوگئیں اور آپ نے اجازت نہ دی کہ وہ لوگ جنہوں نے آپ کو اذیتیں پہنچائیں تھیں ، آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔ (امام صادق علیہ السلام نے ان دونوں کے آنے کا قصّہ آخر تک بیان کیا ہے اور نبش قبر سے متعلق عمر کے قول کا بھی تذکرہ کیا ہے)۔ ۱۲۔ احتجاج ،پہلی جلد،صفحہ۵۱: عمر نے ،قنفذ جو ایک سنگ دل اور غصور شخص تھا ،اسے بلوانے کے لیے،ایک شخص کو بھیجا ،اس کے بعد لوگوں کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ چلیں اور لوگ عمر کے ساتھ لکڑیا ں لیکر آئے اور علی علیہ السلام کے گھر کے اِرد گِرد جمع کردیں ،اس وقت علی ،فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے علیہم السلام گھر کے اندر تھے ،عمر یہ چلّایا کہ : بخدا یا آپ لوگ گھر سے باہر آجائیں یا میں گھر کو آگ لگا دوں گا ۔اس وقت ابو بکر نے قنفذ سے کہا : اگر باہر آجائیں تو ٹھیک ہے ورنہ گھر پر حملہ کردینا،اور اگر بیعت نہ کریں تو ان کے گھر کو آگ لگا دینا۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا دروازہ کے پاس حضرت علی علیہ السلام اور حملہ آوروں کے درمیان میں حائل ہوگئیں اس کے بعد قنفذ نے بی بی کے بازو پر تازیانہ مارا جس کی وجہ سے آپ کا بازوپر ورم ہوگیا اور نیل پڑ گئے ۔ ۱۳۔ بحار الانوار ، جلد نمبر ۴۳، صفحہ ۲۲۷پر تفسیر فرات بن ابراہیم سے ،ایک طویل حدیث کے آخر میں : رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: ای میری بیٹی ،بے شک خدا وند عالم کی جانب سے جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ میری رحلت کے بعد میرے اہل بیت میں سے تم سب سے پہلے مجھ سے ملو گی ۔لہٰذا وای ہو ان پر جو تجھ پر ظلم کریں اوربہترین کامیابیاں اور نجات پائیں وہ لوگ جو تیری مدد کریں ۔ کیوں کہ یہاں پر اس موضوع سے متعلق تمام اخبار اور روایات کو بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے لہٰذا بس اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔یقیناً جو کچھ ہم نے بیان کیا وہ اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے ، چونکہ بیان کی گئی روایات اور اخبار ،تواتر کی حدّ تک ہیں ۔ جس چیز کی یہاں تاکید کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ ، یہ بات روشن ہوگئی کہ عمر اور قنفذ نے کئی بار حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو مارا ،اور بعض دوسری روایات جن کا تذکرہ ہم نے یہاں نہیں کیا ،ان سے پتہ چلتا ہے کہ مغیرۃ بن شعبہ بھی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو مارنے میں شریک تھا ۔ کیا اس کے علاوہ کچھ اوربھی ،ان لوگوں سے جو رسول کے بعد مرتد ہوگئے ، توقع کی جاسکتی ہے ؟ جیسا کہ قرآن کی یہ آیت صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہے : وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَ فَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِکُمْ وَ مَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَ سَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاکِرِينَ‌ ﴿آل‏عمران‏، 144﴾ (اور محمد صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم تو صرف ایک رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل ہوجائیں تو تم اُلٹے پیروں پلٹ جاؤ گے تو جو بھی ایسا کرے گا وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور خدا تو عنقریب شکر گذاروں کو ان کی جزاء دے گا)۔
  • QaID :  
  • 11550  
  • QDate :  
  • 2012-04-16  
  • ADate :  
  • 2012-04-16  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ ولایت تکوینی سے متعلق آپ کی نظر مبارک کیا ہے ؟ کیا جو شخص بھی ولایت تکوینی کا انکار کرے وہ تشیع کے دائرے سے خارج ہوجاتا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔ ولایت تکوینی سے مراد یہ ہے کہ خداوند متعال اپنی قدرت کے ذریعہ ، انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کو نظام ہستی اور اس میں پائی جانے والی موجودات سے متعلق امور میں تصرف کی صلاحیت عطا کرتا ہے ، اس طرح سے کہ یہ حضرات مُردوں کو زندہ کرنے اور بیماروں کو شفاء عطا کرنے جیسے امور میں ،خدا کے اذن و ارادہ سے تصرف کرنے کی صلاحیت حاصل کرلیتے ہیں ۔البتہ جب بھی خداوندعالم اپنی مصلحت اور مشیت جانتے ہوئے ارادہ کرے تو ان حضرات سے تصرف کی قدرت کو سلب کرسکتا ہے۔ یہ تصرفات ،صرف ان کی دعاؤں کی قبولیت کی وجہ سے نہیں ہے کیوں کہ دعاؤں کی اجابت ،ہر مومن کی شان ہے بلکہ یہ حضرات اس صلاحیت کو خداوند عالم کی جانب سے حاصل کرتے ہیں ۔ قرآن کریم نے بھی اس مسئلہ کی طرف اشارہ کیا ہے :( تُبْرِئُ الْأَکْمَهَ وَ الْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ) (اور تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو ہماری اجازت سے صحتیاب کردیتے تھے۔)﴿المائدة، 110﴾۔ جو بھی آئمہ علیہم السلام کی ولایت تکوینی کا منکر ہوجائے ،اس نے تشیع کے حقیقت اور اس کے مسلّمات کو نہیں پہنچانا ہے ، بلکہ وہ آیات قرآنی کو مکمل طور پر درک نہیں کرسکا اور بطور کامل اور باریک بینی سے نہیں سمجھا ہے ۔
  • QaID :  
  • 11542  
  • QDate :  
  • 2012-04-15  
  • ADate :  
  • 2012-04-15  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے حمل ٹہرنے اور پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے لیے جنت سے کھانا آنے سے متعلق حدیث ، اور آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا کچھ دنوں کے لیے حضرت خدیجہ علیہا السلام سے دور رہنا وغیرہ کا تعلق کیا حضرت زہرا علیہا السلام کی روح کی خلقت سے ہے یا آپ علیہا السلا م کے جسم کی تخلیق سے متعلق ہے ؟ اور کیا اصولی طور پر معصومین کے مادّی عنصر اور بدن کی ہیئت اور صورت ، دوسرے لوگوں سے مختلف ہے ؟اگر ایسا ہے تو وہ حضرات بیما ر کیوں ہوتے ہیں ؟ اور ایسا کیوں ہے کہ ان میں سے بعض لاغر اور بعض فربہ اور تنومندتھے؟اور جو کچھ معصومین کی جسمانی خصوصیات کے بارے میں بیان کیا گیا ہے مثلاً ان حضرات کا نہ سونا ، آگے کی طرح پیچھے کی طرف بھی دیکھنا ،ریت اور نرم مٹی کی طرح پتھر پر بھی قدموں کے نشانات باقی رہ جاناوغیرہ کس حدّ تک صحیح ہے ؟
     Answer :
    جواب ۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا حمل ٹہرنے سے متعلق حدیث کا تعلق آپ کے جسم مبارک سے ہے اور جسم اور روح میں تناسب اور سنخیت کی وجہ سے اللہ کی جانب سے بہت سی خاص عنایات آپ کے جسم پر ہوئی ہیں تاکہ آپ کا جسم ، آپ کی عالی مرتبت روح کو قبول کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوسکے۔ بہت سی روایات میں وارد ہوا ہے کہ آئمہ علیہم السلام کی سرشت اور طینت ، علیین میں سے ہے ، لیکن دوسرے تمام انسانوں کی طرح عام جسمانی نشو نما اور حالات اور شرائط کے مالک ہیں ۔کھاتے پیتے ہیں ،سوتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں ،علاج معالجہ کرتے ہیں اور آخر میں اس دنیا سے تشریف لے جاتے ہیں ۔(قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ يُوحَى إِلَيَّ ۔۔۔﴿الكهف‏، 110﴾ اے رسول کہہ دیجیے کہ میں بھی تم لوگوں کی طرح سے بشر ہوں ، مگر میری طرف وحی آتی ہے ۔۔۔)۔ لیکن ان کا سونا اور مرنا دوسروں سے مختلف ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ ( ہم مر جاتے ہیں ،اس طرح سے کہ ہم میت اور مردہ نہیں ہوتے اور ہم بوڑھے اور کمزور ہوجاتے ہیں لیکن دوسروں کی طرح سے نہیں )۔ روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے حضرت علی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا: مجھے کفن دینے کے بعد بٹھا دینا اور جو کچھ بھی مجھ سے معلوم کرنا چاہو ، پوچھ لینا ، امیر المؤمنین نے بھی ایسا ہی کیا ۔
  • QaID :  
  • 11509  
  • QDate :  
  • 2012-04-13  
  • ADate :  
  • 2012-04-13  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔کیا یہ ضروری ہے کہ ہم ،حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلا م کے مصائب سے متعلق دل سے عقیدہ رکھیں،اور کیا یہ عقیدہ شیعہ عقائد کا لازمی حصّہ ہے اس طرح سے کہ اگر ہم یہ عقیدہ نہ رکھتے ہوں کہ حضرت زہرا علیہا السلام کا بچہ سقط ہوا اور دروازہ کی میخ آپ کے سینۂ اقدس میں پیوست ہوئی اور ۔۔۔جو اہل منبر بیان کرتے ہیں ، ہمارے عقیدہ کو نقصان پہنچائے یا یہ مطالب اور باتیں صرف ، تاریخی حادثات اور واقعات کی حدّ تک ،قابل اعتبار ہیں ؟
     Answer :
    جواب۔ جی ہاں ! جو مصائب آپ علیہا السلام پر ڈھائے گئے ہیں ، شیعہ مذہب کے عقائد اور اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کی ضروریات میں سے ہیں اور محض ایک تاریخی حادثہ اور واقعہ نہیں ہیں ۔ حضرت امیر المؤمنین کے علاوہ دوسروں کی خلافت اور ان کے مذہب کے باطل ہونے پر دلیل یہ ہے کہ دوسرے افراد کی خلافت کی بنیاد ، خدا اور رسول کے غضب اور ناراضگی پر رکھی گئی ہے ،اور جو بھی خدا اور رسول کو غضب ناک اور نا راض کرے ، اس بات میں شک نہیں ہے کہ ، وہ خود ، اس کی خلافت اور اس کا مذہب ، نا حق اور باطل ہے ۔ گذشتہ سوالات کے جوابات میں بعض روایات اور قابل اعتماد دلائل کی طرف اشارہ ہوا اور ثابت کیا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت زہرا علیہا السلام کو تکلیفیں پہنچائیں اورآپ کو نا راض اور غضب ناک کیا ،اور شیعہ اور سنی اس بات میں متفق ہیں کہ جو بھی آپ کو نا راض اور غضب ناک کرے ، اس نے خدا اور رسول کو ناراض اور غضب ناک کیا ۔شاید ،پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی جانب سے مختلف روایات میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے غم اور غصّہ کے ساتھ خدا کے غضب اور نا راضگی اور ان کی خوشی میں خدا کی خوشی اور رضا کو اس لیے بیا ن اور اس پر تاکید کی گئی ہے کہ ،آپ سلام اللہ علیہا پر ڈھائے جانے والے مصائب کی داستان ،ہر طرح کی فکری اور اجتماعی صلاحیت رکھنے والے افراد کے لیے قابل درک ، مفید اور روشن دلائل میں سے ہے تاکہ دوسروں کی خلافت اور انکے مذہب کے بطلان اور امیر المومنین علیہ السلام اور اہل بیت کی خلافت اور ان کے مذہب کی حقّانیت ،ہر زمانے اور ہر نسل کے لیے آشکار ہوجائے اور مخالفین سے مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہتھیار اور حقیقت کی تلاش کرنے والوں کے لیے ایک تابندہ چراغِ ہدایت کی حیثیت رکھتا ہو۔ بعض اوقات آپ پر ڈھائے جانے والے مصائب کے علاوہ دوسرے دلائل کو سمجھنا ،بعض لوگوں کے لیے سخت ،مبہم اور غیر واضح ہو لہٰذا یہ ضروری تھا کہ حضرت زہرا علیہا السلام کو ناراض کرنے کے مصادیق اور عینی شواہد وجود رکھتے ہوں تاکہ صراط مستقیم اور مذہب حقّہ کی جانب انسان کی ہدایت کے لیے ان حادثات اور واقعات کے اعتقادی اثرات پر واضح اور روشن دلیل ہو،اور اسی وجہ سے یہ واقعہ اور اس پر دلائل ، انسان کے لیے اہم ترین مسائل میں سے ہیں کیوں کہ صراط مستقیم اور صحیح مذہب کی طرف ہدایت اور نجات کا واحد راستہ ،اس مسئلہ پر متوقف ہے ۔ اس بات میں شک نہیں ہے کہ انسان کی خلقت کا مقصد ،اس کی صحیح مذہب اور راستہ کی طرف ہدایت اور اس کو دنیا اور آخرت کی کامبابی کی راہ دکھانا ہے ، انبیاء کا مبعوث ہونا ،شرایع الٰہی کا آنا اور انبیاء اور اولیاء کی ساری قربانیاں اسی وجہ سے ہیں ،لہٰذا وہ چیز جس پر صحیح مذہب کی شناخت اور اس کو ثابت کرنا متوقف اور منحصر ہے ، انتہائی اہم اعتقادی مسائل میں شمار ہوتا ہے ، یہی وہ مقام ہے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زہرا علیہا السلام کے مصائب ایک انفرادی واقعہ اور ذاتی مسئلہ نہیں ہے اور اہم ترین اسلامی اور اعتقادی مسائل میں سے ہے اور اسی وجہ سے حضرت فاطمہ زہرا نے وصیت فرمائی کہ آپ کو رات میں دفن کیا جائے۔
  • QaID :  
  • 11444  
  • QDate :  
  • 2012-04-07  
  • ADate :  
  • 2012-04-07  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ ایک شخص حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل کا منکر ہے اور کہتا ہے کہ : ( وہ دوسری خواتین کی طرح ایک عام خاتون ہیں اور زیادہ سے زیادہ وہ اپنی کوشش ،عبادت اور بندگی کی وجہ سے مقامِ عالیہ پر پہنچی ہیں اور یہ چیز دوسروں کے لیے بھی ممکن ہے )۔اور کہتا ہے کہ :( تجربہ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ بی بی کے فضائل سے زیادہ فضائل اور ان کے مصائب سے زیادہ شدید مصائب دوسرے مقامات اور زمانوں میں ملتے ہیں )۔ اس طرح سے اس نے آپ پر ڈھائے گئے مصائب میں شکوک اور شبہات پیدا کیے ہیں اور حملہ آور گروہ کے ظلم اور ستم مثلاً آپ کے پہلو پر ضرب لگانا ، حضرت محسن کی شہادت اور اسی طرح ان مظالم کے نتیجہ میں خود آپ کی شہادت وغیرہ کی نسبت ،انکاری ہے ۔ایسے شخص کے بارے میں آپ کی نظر کیا ہے ؟ ایسے شخص کی کتابوں کی خرید و فروخت اور ان کے مطالعہ سے متعلق کیا حکم ہے؟
     Answer :
    جواب۔ سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے فضائل بے شمار اور ان گنت ہیں ۔ آپ کے فضائل اور مناقب شیعہ اور سنی روایات میں تواتر کی حد تک ہیں ۔ان روایات کے مجموعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت زہرا علیہا السلام کے لیے ایسی خصوصیات اور مقام ہے کہ جہاں تک دوسروں کی دسترسی حتیٰ کثرتِ عبادت اور سعی اور کوشش کے ذریعہ بھی ممکن نہیں ہے ۔ یہ بات صحیح ہے کہ عبادت کی کثرت ،نفس انسانی کے کمال میں حیرت انگیز اثرات رکھتی ہے ،ہر شخص کے لیے روحانی کمال کے راستہ میں انفرادی تکامل اور ترقّی ممکن ہے ، کیوں کہ خداکی جانب سے تمام انسانوں کے لیے توفیقات اور تائیدات کے دروازے کھلے ہیں ، لیکن حضرت زہرا علیہا السلام کی تخلیق اور پیدائش میں تکوینی خصوصیات اور مافوق الطبیعی عوامل کار فرماں ہیں کہ جنہوں نے دوسروں پر آپ کی برتری کو لازم اور ضروری کردیا ہے اور کسی اور کے لیے اس مقام تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔تکوینی اورغیر اکتسابی فضائل کے علاوہ آپ نے عبادت ،تلاش و کوشش ، ایثار اور دوسرے میدانوں میں بھی بہت سے کمالات کو کسب کیا ہے۔چہاردہ معصومین علیہم السلام کے فضائل اکتسابی اور فضائل غیر اکتسابی سے متعلق بحث ، ان شبہات کو دور کرنے کے لیے جو عام طور سے اس موضوع سے متعلق بیان کیے جاتے ہیں اور رائج ہیں ، فائدہ مند اور راہ گشا ہے۔ سیوطی نے تفسیر درّالمنثور میں آیۂ (سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَکْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ)﴿الإسراء، 1﴾ پاک و پاکیزہ ہے وہ پروردگار جو اپنے بندہ کو راتو ں رات مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ لے گیا جس کے اطراف کو ہم نے با برکت بنایا ہے تاکہ ہم اسے اپنی بعض نشانیا ں دکھائیں بے شک وہ پرور دگار سب کی سننے والا اور سب کچھ دیکھنے والا ہے ۔ کے ذیل میں عائشہ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: جب شب معراج مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا ، میں جنّت میں داخل ہوا اور جنت کے درختوں میں سے ایک درخت کے پاس کھڑا ہوا کہ اس کے پتوں کی طرح لطیف، صاف ستھرے اور پر نور پتے اس سے قبل نہ دیکھے تھے اور اس کے پھلوں کی طرح لذیذ اور پاک و پاکیزہ پھل اس سے پہلے نہ دیکھے تھے ۔ اس درخت کا ایک پھل میں نے کھایا اور وہ میرے سلب میں نطفہ میں تبدیل ہوگیا ۔ جب میں زمین پر واپس آیا اور حضرت خدیجہ کے ساتھ ہم بستر ہوا تو وہ حضرت فاطمہ علیہا السلام کی صورت میں باردار ہوئیں ۔ اس کے بعد جب بھی جنت کی خوشبو سونگھنے کا دل چاہتا ہے تو حضرت فاطمہ علیہا السلام کی خوشبو کو استشمام کرتا ہوں ۔ موصوف نے اپنی سیرۃ کی کتاب میں روایت بیان کی ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: (حضرت جبرئیل ایک بہشتی سیب لیکر میرے پاس آئے اور میں نے وہ سیب کھایا ، اس کے بعد حضرت خدیجہ کے ساتھ ہمبستر ہوا اور وہ حضرت فاطمہ سے باردار ہوئیں )۔ حضرت خدیجہ علیہا السلام نے بیان کیا ہے :( حاملگی کے ایام میں آسانی اور ہلکے پن کا احساس کیا اور جب بھی پیغمبر میرے پاس نہیں ہوتے تھے تو جنین(فاطمہ) میرے شکم میں مجھ سے کلام کرتی تھیں ۔ولادت کے وقت قریشی عورتوں کو اطلاع دی کیوں کہ ایسے وقت میں خواتین کا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے لیکن وہ نہ آئیں اور مجھے پیغام بھیجا کہ تمہارے پاس نہیں آئیں گے کیوں کہ تم نے ہماری بات نہ مانی اور حضرت محمد صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ شادی کرلی۔) اس وقت خدا کے لطف و کرم سے چار خواتین حضرت خدیجہ کے پاس آئیں کہ جو نورانیت اورحُسن و جمال کے لحاظ سے قابل بیان نہیں ہیں ۔ ان میں سے ایک نے کہا : میں تمہاری ماں حوّا ہوں۔ (حضرت آدم علیہ السلام کی زوجہ) دوسری نے کہا: میں آسیہ، مزاحم کی بیٹی ہوں ۔( فرعون کی بیوی) تیسری نے کہا : میں کلثوم ہوں۔(حضرت موسیٰ کی بہن) اور آخری نے کہا: میں مریم ،عمران کی بیٹی ہوں ۔(حضرت عیسیٰ کی والدہ) ہم یہاں آئے ہیں تاکہ وضع حمل میں آپ کی مدد کریں۔اس کے بعد جب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا دنیا میں آئیں اور آپ کو زمیں پر رکھا گیا تو آپ نے سجدہ کیا اور شہادتین ادا کرنے کی نشانی کے طور پر اپنے ہاتھ کوبلند کیا۔(ذخائر العقبی،محب الدین الطبری،ص۴۴) اس مضمون کی بہت سی حدیثیں کتب اہلِ سنّت مثلاً مستدرک الصحیحین ، ذخائر العقبی اور تاریخ بغداد وغیرہ میں پائی جاتی ہیں ۔ لیکن امامیہ نے ایسی روایات کو توتر کی حدّ تک بیان کیا ہے اور صحیح سند کے ساتھ کثرت سے موجود ہیں ۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی معرفت حاصل کرنے کے لیے خدا کی اُن خاص عنایات کی طرف توجہ ضروری اور مفید ہے جن سے بی بی ،ولادت سے لیکر اپنی پوری زندگی میں بہرہ مند رہیں ۔ اس لحاظ سےہم، آپ کی بعض خصوصیات کی طرف اشارہ کررہے ہیں : پہلی خصوصیت:آپ کے وجود کی تخلیق اور اس کے مراحل۔ ایک ایسا پیغمبر کہ جس کی طرف تمام مخلوقات کھنچی چلی جاتی ہیں ، وہ خود ایک بہشتی درخت کی طرف مائل ہوگیا کہ جو حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی خلقت کا منشاء ہے جیسا کہ خود آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کا کلام آپ کی توجہ اس درخت کی جانب جلب ہونے کا پتہ دے رہا ہے ، آپ نے فرمایا: (میں نے جنّت میں کوئی درخت بھی اس درخت کے جیسا خوبصورت اور اس درخت کے نورانی پتوں جیسے پتے نہیں دیکھے۔) آپ کا نطفہ اس درخت کے میوہ سے ہے ، چاہے اس میوہ کوپیغمبر نے ( بعض روایات کی بنا پر ) جنت میں کھایا ہو یا (بعض دوسری روایات کی بنا پر) چالیس روز تک روزہ رکھنے کے بعد حضرت جبرئیل کے ہاتھ سے زمین پر کھایا ہو۔ دوسری خصوصیت: ایام حاملگی میں جب آپ شکم حضرت خدیجہ میں تھیں تو وہ آپ سے کلام کرتیں تھیں اور آپ کی ہمدم تھیں۔ تیسری خصوصیت: شیعہ اور سنی روایات میں آیا ہے کہ آپ سلام اللہ علیہا کی ولادت کے وقت چار خواتین یعنی بی بی حوّا،بی بی آسیہ ،بی بی مریم اور بی بی کلثوم تشریف لائیں اور حضرت خدیجہ اور آپ کی دختر نیک اختر کی خدمت میں کمر باندھی۔ اب تک جو ذکر کیا گیا وہ صرف حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت اور آپ کی جسمانی تخلیق کے مراحل کی طرف ایک اشارہ تھا۔ لیکن آپ کی روح کی خلقت کے بارے میں جتنا بھی بیان کیا جائے کم ہے کیوں کہ جسم اور روح سنخیت رکھتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ روح جو ایسے جنّتی جسم کے لیے مہیا کی گئی ہے کتنی عظیم اور اہمیت کی حامل ہے۔ معتبر حدیث میں آیا ہے کہ آپ علیہا السلام کا اپنی تخلیق سے پہلے ایک نور تھا جو عرش الٰہی کے سائے میں حضرت حق کی تقدیس اور تحمید (سبحان اللہ ، لا اِلہ الّا اللہ ،الحمد للہ ) میں مصروف تھا اور آپ کے نور کے ذریعہ سے وہ تاریکی جسنے فرشتوں کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا ، رفع ہوئی۔(بحار الانوار،جلد۴۳،صفحہ۴) ۔ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام پر خدا وند عالم کی خاص عنایات میں سے ایک آپ کی حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ شادی کا قصّہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے انجام پائی ۔(الریاض النضرۃ ، جلد ۲ ، صفحہ۱۸۰)،اور خداوندعالم نے آسمان پر حضرت فاطمہ کو حضرت علی ابن ابی طالب کی زوجیت میں قرار فرمایا۔ روایات میں آیا ہے کہ (ہم رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کے ساتھ مسجد میں تھے کہ آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے علی علیہ السلام سےفرمایا :جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہارا عقد فاطمہ کے ساتھ کیا ہے اور اس شادی پر چالیس ہزار فرشتوں کو گواہ قرار دیا ہے ۔(ذخائر ال عقبی،صفحہ۳۲؛ فضائل الخمسہ، جلد ۲،صفحہ ۱۴۷)) چوتھی خصوصیت: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل میں سے ،جیسا کہ تاریخ بغدادی میں حضرت ابن عباس سے نقل ہوا ہے ،ایک یہ ہے کہ کہا : ( رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: میری بیٹی فاطمہ حوریۂ انسیہ ہے جسے حیض (ماہانہ عادت ) نہیں آتا اور خون اور نجاست (استحاضہ اور نفاس) نہیں دیکھتی۔) اور ذخائر العقبی میں ہے کہ :( پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ میری بیٹی طاہرہ اور مطہرہ ہے اور وہ حیض اور نفاس کا خون نہیں دیکھتی۔(تاریخ بغداد،جلد۲، صفحہ۳۳۱)) ذکر کئے گئے نکات ،بی بی دو عالم کے بعض فضائل اور مقام و مرتبہ میں سے ہے اور ہرگز بھی کوئی ان تک نہیں پہنچ سکتا۔یہ فضائل قرآن کریم کی آیات میں ،مثلاً آیۃٔ تطہیر :(إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيراً) یعنی فقط خدا کا ارادہ یہ ہے کہ آپ اہل بیت کوہر طرح کی نجاست اور پلیدی سے دور رکھے اور پوری طرح سے آپ کو پاک و پاکیزہ کردے۔﴿الأحزاب‏، 33﴾، آیۃٔ مباہلہ(فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَ أَبْنَاءَکُمْ وَ نِسَاءَنَا وَ نِسَاءَکُمْ وَ أَنْفُسَنَا وَ أَنْفُسَکُمْ) یعنی ان سے کہہ دیجیئے کہ : آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی خواتین اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔﴿آل‏عمران‏، 61﴾،آیۃٔ قربیٰ(قُلْ لاَ أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى) یعنی آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا اس کے علاوہ کہ میرے اقرباء سے محبت کرو ۔﴿الشورى‏، 23﴾،سورۃٔ ھل أتی اور دوسری آیات میں ظاہر ہوئے ہیں ۔ اور اسی طرح پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی زبان مبارک سے (جو ھوا یٔ نفس سے بات ہی نہیں کرتے )حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں فضائل نقل ہوئے ہیں ،یہ سب حضرت زہرا علیہا السلام کی عظمت اور ان کے وجود کے خاص کمالات میں سے بعض اشارے ہیں ۔جیسا کہ آپ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا: ( اے فاطمہ سلام اللہ علیہا آپ اس جہان کی اول سے آخر تک ،تمام خواتین کی سید اور سردار ہیں۔) اور فرمایا:( خدا وند عالم غضب فاطمہ پر غضب ناک اور ان کی خوشی میں خوش ہوتا ہے ۔)اور فرمایا: (فاطمہ اپنے پدر بزرگوار کی ماں ہیں۔) لہٰذا کس عورت میں اس بلند مقام اور بلند درجہ تک پہنچنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے ؟ فاطمہ یگانہ گوہر اور بے مثال تحفہ ہیں جو خداوند کریم کی جانب سے پیغمبر اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کو عطا ہوا اور ہر لحاظ سے لا ثانی اور بے نظیر ہیں ۔ لیکن آپ کے مصائب کے لحاظ سے اور جو مظالم آپ کے سر پر ڈھائے گئے ،آپ کا حق غصب کرنا اور آپ کا پہلو زخمی کرنا ، ایک ایسے شخص کے لیے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ صحیح اسلامی تاریخ، جو شیعہ اور سنی کتابوں میں موجود ہے اس سے آگاہی رکھتا ہے ، اس کے لیے شائستہ نہیں ہے کہ وہ اس میں شک کرے۔اس بارے میں بہت سی روایات ملتی ہیں ، بلکہ اجمالی طور پر تواتر رکھتی ہیں اور خبر متواتر میں سند کی بحث کی کوئٰ گنجائش نہیں ہے ،جیسا کہ علم اصول میں یہ ثابت ہوچکا ہے۔ اس بارے میں اہل سنت کی بعض روایات کی طرف توجہ فرمائیے: الف) حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنے بابا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم کی وفات کے بعد آپ کی میراث کا ابو بکر سے مطالبہ کیا ابو بکر نے آپ سے کہا کہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم نے فرمایا ہے : (ہم انبیاء ارث نہیں چھوڑتے ہیں ،اور جو کچھ بھی جھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے ۔) اس بے بنیاد بات کو سن کر بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو غصّہ آگیا اور ابو بکر کے پاس سے چلی گئیں اور ناراض ہوگئیں یہاں تک کہ دنیا سے چلی گئیں ۔( صحیح بخاری،جلد دوم،صفحہ۱۸۶؛ کتاب الخمس و باب غزوۂ خیبر ؛کتاب الفرائض)۔ ب) ابن قتیبہ نے نقل کیا ہے ، حضرت فاطمہ علیہا السلام نے ابوبکر اور عمر سے فرمایا: تم لوگوں کو خدا کی قسم دیتی ہوں ،کیا تم لوگوں نے رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے سنا ہے کہ ( فاطمہ کی خوشنودی میری خوشنودی ہے اور اس کا غضب میرا غضب ہے ، جو بھی میری بیٹی فاطمہ کو دوست رکھے گا اس نے صحیح معنیٰ میں مجھے دوست رکھا اور جس نے اسے خوش کیا اس نے مجھے خوش کیا اور جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا )،انہوں نے جواب دیا :ہاں ہم نے رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے یہ فرمان سنا ہے ۔حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا : خدا اور فرشتوں کو گواہ قرار دیتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے رنجیدہ اور غضب ناک کیا ہے اور میں تم دونوں سے راضی نہیں ہوں اور جب میں رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے ملاقات کروں گی تو تم لوگوں کی شکایت کروں گی۔ ابوبکر نے کہا : میں غضب الٰہی اور فاطمہ آپ کے غضب سے خدا کی پناہ مانگتا ہو۔اس کے بعد ابو بکر اتنا رویا کہ نذدیک تھا کہ اپنی جان دیدے، اس وقت بی بی نے فرمایا: خدا کی قسم ہر نماز میں ، میں تم پر نفرین اور بد دعا کرتی ہوں ۔ ابو بکر آپ کے پاس سے باہر آیا اور لوگ اس کے اطراف میں جمع ہوگئے ،اس نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : اے لوگوں تم میں سے ہر ایک جب راتوں کو اپنی بیویوں کی گردنوں میں ہاتھ ڈالتے ہو اور شادمانی اور خوش حالی میں اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گذارتے ہو اور مجھے میری اس بد بختی کے ساتھ اور اس برے کام کے ساتھ جس کا میں مرتکب ہوا ہوں چھوڑ دیا ہے ، مجھے تمہاری بیعت کی ضرورت نہیں ہے ، تم لوگوں نے جو میری بیعت کی ہے وہ واپس لے لو۔(الامامۃ والسیاسۃ، ابن قتیبہ،صفحہ۱۴)۔ ج) بلازری نے روایت کی ہے کہ ابو بکر نے عمر کو ،علی علیہ السلام کے پاس بھیجا تاکہ ان سے بیعت لے سکے ، حضرت علی نے بیعت نہیں کی ۔ اس وقت وہ جلتی ہوئی لکڑیوں کے ساتھ آیا ،گھر کے دروازہ کے برابر میں حضرت فاطمہ سے رو برو ہوا ، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: اے پسر خطاب ! کیا میرے گھر کے دروازہ کو آگ لگانا چاہتے ہو؟ اس نے جواب دیا : ہاں۔(انساب الاشراف ،بلازری،جلد۱،صفحہ ۵۸۶؛العقد الفرید،جلد۳، صفحہ ۶۳)۔ د) مسعودی نے لکھا ہے : خلافت کی جانب سے حملہ آوروں نے حضرت علی پر حملہ کردیا اور زبر دستی آپ کو گھر سے باہر نکالا اور سیدۃ النساء العالمین حضرت زہرا کو دروازہ کے پیچھے دبا دیا ، یہاں تک کہ محسن سقط ہوگیا ۔(اثبات الوصیۃ، مسعودی ،صفحہ ۱۱۶ سے ۱۱۹ تک؛منتخب کنز المّال ، صفحہ۱۷۴)۔ ھ)ابن قتیبہ نے کہا ہے : ( عمر سے کہا گیا :تم جو اس گھر کو آگ لگانا چاہتے ہو ،فاطمہ رسول کی بیٹی اس گھر میں ہیں ،اس نے کہا : چاہے فاطمہ ہو ں۔(الامامۃ و السیاسۃ ، ابن قتیبہ،صفحہ ۱۹)۔ و)شہرستانی نے نظام سے نقل کیا ہے کہ (بیعت کے دن ،عمر نے حضرت فاطمہ علیہا السلام کے شکم پرایسی ضرب لگائی کہ ان کا بچّہ ساقط ہوگیا، اور عمر چلّایا : اس گھر کو گھر والوں کے ساتھ آگ لگادو۔(الملل والنحل، شہرستانی،صفحہ۸۳)۔ ابن ابی الحدید ،نہج البلاغہ کے مشہور شارح نے کہا ہے : میری نگاہ میں صحیح بات یہ ہے کہ اس دنیا سے حضرت فاطمہ گذر گئیں اس حالت میں کہ وہ ابو بکر اور عمر پر خشم گین تھیں ،انہوں نے وصیّت کی کہ وہ دونوں آپ کی نماز جنازہ نہ پڑھیں ۔(شرح نہج البلاغہ ،ابن ابی الحدید،جلد۲، صفحہ ۲۰ اور جلد ۶ ،صفحہ۵۰)۔ تاریخ طبری کہتی ہے : عمر بن خطاب، علی علیہ السلام کے گھر آیا اور کہا : خدا کی قسم تمہیں آگ لگا دوں گا ،یا بیعت لینے کے لیے تمہیں گھر سے باہر لے آؤں گا ۔(تاریخ طبری،جلد۳،صفحہ۲)۔ جو کچھ بیان کیا گیا وہ صرف بعض روایات تھیں جنہیں اہل سنت نے نقل کیا ہے ۔لیکن اس بارے میں شیعہ روایات بہت زیادہ ہیں ۔ مزید جاننے کے لیے بحار الانوار کی جلد نمبر ۴۳ کا مطالعہ فرمائیں ۔ ان روایات کی بنیاد پر روشن ہوگیا کہ جو مصائب آپ پر ڈھائے گئے وہ حقیقت رکھتے ہیں ، اور حقیقت سے رو گردانی ،گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ یہاں پر ضروری ہے کہ آپ جانیں کہ وہ کتابیں جو آپ پر ڈھائے جانے والے مظالم اور مصائب کا انکار کرتی ہیں ،کتب ضلال اور گمراہ کرنے والی کتابیں ہیں ، اور ایسی کتابوں کی خرید و فروخت ،ان کو رکھنا اور پڑھنا حرام ہے ۔لیکن صرف اس کے لیے جائز ہے جو یہ چاہتا ہو اور اس بات کی صلاحیت رکھتا ہو کہ ان پر تحقیق اور انتقاد کرے۔ توجہ فرمائیں : اگر آپ اہل سنت مصادر اور منابع و مأخذ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں تو یہ کوشش کریں کہ پرانے ایڈیشنز کا مطالعہ کریں کیوں کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ نئے ایڈیشنز میں بعض مطالب اور شواہد کو ،حقائق واقعیات کو چھپانے کے خاطر ،حذف کردیا گیا ہو۔
  • QaID :  
  • 11385  
  • QDate :  
  • 2012-04-03  
  • ADate :  
  • 2012-04-03  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ کیا اہل بیت علیہم السلام سے محبت اور انہیں دوست رکھنا اور ان کے دشمنوں سے نفرت کرنا اور دشمنی رکھنا ، بغیر اس کے کہ اسےعبادت اور اس کے کردار کی اصلاح کی طرف دعوت دے ، اس کے لیے فائدہ مند ہے ؟
     Answer :
    جواب۔ اکثر اوقات دوستی کردار اور برتاؤ سے علیحدہ نہیں ہے ،کیوں کہ محبت انسان کو اگرچہ آئندہ ،اپنا کردار صحیح کرنے پر آمادہ کرتی ہے ۔سارے اعمال صرف جوارحی نہیں ہیں کہ فزیکلی طور پر ظاہر ہوں اور اعضاء و جوارح کے ذریعہ انجام دیئے جائیں کہ یہ کہا جائے کہ اہل بیت علیہم السلام کے محب اور دوستوں میں ،ایسا کردار جو ان کے کردار کے مطابق ہو اور ان کی محبت میں رشد پائے ، نظر نہیں آتا۔بعض ردّ عمل ،قلبی اور احساسی ہوتے ہیں ،نیتِ خیر ، نیک افکار اور خدا کے خاطر دوستی اور دشمنی ( تولّیٰ اور تبرّیٰ) ، جیسا کہ روایات میں آیا ہے : ( ایک گھنٹہ غور و فکر کرنا ، ایک سال کی عبادت سے(یا ساٹھ برس ) کی عبادت سے افضل ہے ۔ بحار الانوار، جلد ۷۱،صفحہ۳۲۷، حدیث۲۲) اسی طرح روایت میں ہے کہ (تم میں سے ہر ایک نے اگر کسی گناہ کار کو دیکھا اس پر لازم ہے کہ اپنے ہاتھ سے اس کی اصلاح کرے اور اگر نہ کرپائے تو زبان سے اصلاح کرے اور دل سے اس کا انکار ایمان کی کم ترین حدّ ہے ۔ بحار الانوار، جلد۶۹، صفحہ ۲۹۳، حدیث۲۳)۔ لیکن ایسا دوست رکھنا جو عبادت اور نیک کردار کی طرف نہ بلائے (اگر ایسی دوستی وجود رکھتی ہو ) تو اس کے بارے میں ضروری ہے کہ یہ کہا جائے : خود محبت اس کے لیے مفید ہے ، جیسا کہ اس شخص کے اس دنیا میں گناہ دھلنے کے بعد اسے قیامت کے دن شفاعت کی طرف لے جائے گی ۔ البتہ یہ چیز دوستانِ اہل بیت اور ان کی امامت کے معتقد افراد سے مخصوص نہیں ہے بلکہ شیعہ اور سنی نصوص میں آیا ہے کہ :( اہلِ بیت کی دوستی خصوصاً امیر المؤمنین علیہ السلام کی دوستی اور محبت ((فزع اکبر)) ہے ، فشارِ قبر سے رہائی دلاتی ہے اور دوسرے بہت سے فائدے رکھتی ہے ) اور یہ عدل الٰہی سے منافات بھی نہیں رکھتی۔ شیعیان ان حضرات کی شفاعت کے ذریعہ سے جہنم سے نجات پائیں گے اور جنّت میں داخل ہوں گے ، لیکن جنت کے مختلف درجات ہیں کہ جس کے بلند درجات تک صرف ان کی محبت،عمل اور عبادت کے ذریعہ ہی پہنچا جاسکتا ہے اور اسی طرح سے آخر میں جہنم سے نجات حاصل کرنا ، خدا کی جانب سے گناہ کے مرتکب افراد کو دی جانے والی وعید سے بھی منافات نہیں رکھتی ،کیوں کہ جب بھی خدا اپنے گناہ گار بندے کے لیے خیر کا ارادہ فرماتا ہے ،اسے دنیا میں سخت بیماریوں ،چاہنے والوں کے فراق اور ان کی موت،مال و دولت کے چھن جانے،زندانوں میں قید ہونے اور حاکموں کے زیر ستم ،اور موت کے وقت سختی ،شدّت اور بے ہوشی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ اگر ایسا انسان اس دنیا میں اپنے مکافاتِ عمل کو نہ دیکھے ،مرنے کے بعد برزخ میں عذاب میں مبتلا ہوگا اور اگر دوزخ میں چلا جائے تو وہ جہنم میں زیادہ عرصہ نہیں رہے گا اور جلد ہی اہلِ بیت کی شفاعت سے بہرہ مند ہوگا اور بہشت میں داخل ہوجائے گا ، لیکن وہاں اعلٰی درجات تک نہیں پہنچ پائے گا ۔ اس بنا پر اب تک جو بیان ہوا اس سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں : ۱۔ دوستانِ اہل بیت کا گناہ کرنا، ان بزرگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے اور کوئی محب یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کا محبوب تکلیف میں مبتلا اور رنجیدہ ہو ،اسی وجہ سے زیادہ تر گناہ غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہیں ۔ ۲۔ گناہ اگرچہ ظاہری طور پر ایک عمل ہے لیکن حقیقت میں دو گناہ ہیں ، ایک خود گناہ اور دوسرا اہل بیت علیہم السلام کو تکلیف اور اذیّت پہنچانا ، خصوصاً امام زمانہ ارواحنا فداہ ، کو ، جب ان کے سامنے انسانوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔
  • QaID :  
  • 11368  
  • QDate :  
  • 2012-04-01  
  • ADate :  
  • 2012-04-02  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔ بعض افراد کا یہ عقیدہ ہے کہ آئمہ علیہم السلام کےمقام،ان کے معجزات اور تمام انسانوں پر ان کے برتر ہونے کی شناخت بہت زیادہ اہم نہیں ہے اور ایک طرح سے افکار کا محدود ہونا ہے بلکہ وہ چیز جس کی طرف پوری توجہ اور اسے اہمیت دینا واجب اور ضروری ہے وہ اپنی زندگی کو آئمہ علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا اور ان کے فرمودات پر عمل کرنا ہے ۔اور پہلی چیز کو اہمیت دینا ہمیں دوسری چیز یعنی ان کی علمی اور عملی سیرت سے دور کردیتا ہے ۔آپ کی نظر اس بارے میں کیا ہے ؟
     Answer :
    جواب۔ اس بات کے کہنے والے نے آئمّہ علیہم السلام کے مقام اور منزلت کونہیں پہچانا اور ابھی تک اس کی فکر ان حضرات کے بلند درجات تک نہیں پہنچی ہے ۔انسان کی فردی اور اجتماعی زندگی میں چاہے عقائد ہوں یا اخلاق یا سیاست یا اقتصاد اوریا فرہنگ ،ان سب میں امام کی شناخت کے بہت زیادہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ یہاں پر ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کررہے ہیں: ۱)اعمال کے قبول ہونے کی شرط آئمہ علیہم السلام کی ولایت کا اقرار ہے اور ان کی ولایت کا اقرار ان کی معرفت سے وابستہ ہے ۔لہٰذا اسے حاصل کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ۔ ۲) شیعہ اور سنی روایات میں پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ و آلہٖ وسلّم سے آیا ہے :(جو شخص مر جائے اور اپنے امام کی معرفت نہ رکھتا ہو وہ جہالت کی موت مرتا ہے۔) اور دعاؤں میں آیا ہے کہ : اے اللہ مجھےاپنی حجت کی معرفت عطا فرما کہ اگر تونے یہ معرفت عطا نہ فرمائی تو اپنے دین سے گمراہ ہوجاؤں گا ۔ یہ چیز دلالت کررہی ہے کہ آئمہ علیہم السلام کی شناخت حاصل کرنا ضروری ہے اور یہ فکر کا محدود ہونا نہیں ہے ۔اور یہی وہ مقام ہے کہ جہاں ایک ایسا زائر جو امام کےحق کو پہچانتا ہے اس زائر کے مقابلہ میں جو ان کے حق کے مطابق ان کی شناخت نہیں رکھتا ، ممتاز اور برتر ہے ۔ ۳)امام کی شناخت اور ان کی زندگی سے متعلق غیر معمولی خصوصیات اور مسائل مثلاً ان کے معجزات اور کرامتیں ، خدا کی شناخت اور معرفت میں بھی بہت زیادہ مؤثر ہے کیوں کہ یہ حضرات خدا کی جانب رہنمائی کرتے ہیں ؛لہٰذا جو بھی آئمہ علیہم السلام کی شناخت رکھتا ہے ، لازمی طور پر خدا کو بھی پہچانتا ہے اور جو بھی ان کی شناخت نہیں رکھتا وہ خدا کی بھی شناخت نہیں رکھتا ۔اگر چہ خدا کی شناخت فطری ہے لیکن یہ شناخت ، سمجھ بوجھ اور شعور کے اندازے کے مطابق مختلف درجات کی ہے ، مثلاً اگر ایک نابینا شخص ہاتھی کی ٹانگ کو چھوئے تو وہ یہ کہے گا کہ ہاتھی ایک عمودی ستون ہے ،یا اس کی سونڈھ کو ہاتھ لگا کر کہے گا کہ ہاتھی ایک نرم اور مخروطی مخلوق ہے ۔ ہم خدا کی شناخت حاصل کرنے کے لیے سوائے امام کی شناخت کے کوئی راستہ نہیں رکھتے ۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات جمالی اور جلالی اور اس کی عظمت اور قدرت ،آئمہ علیہم السلام میں تجلّی پیدا کرتی ہیں اور یہ حضرات خدا کی صفات کا مظہر ہیں اور خدا کی قدرت کے کمال پر دلیل ہیں ۔ اس طرح کہ آئمہ علیہم السلام سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جن کا صادر ہونا ایک عام انسان سے نا ممکن ہے ۔یہ بات خداوندِ متعال کی قدرتِ کاملہ ،اس کے محکم ارادہ اور مشیت پر دلالت کرتی ہے ، کیوں کہ مخلوق میں غیر معمولی کاموں اور معجزات انجام دینے کی قدرت ،اس مخلوق کے خالق کی قدرت پر دلالت کرتی ہے۔ ۴)آئمہ علیہم السلام کی زندگی کی تاریخ اور ان کے فضائل اور مناقب کی معرفت ایسا درس اور نمونۂ عمل ہے جس سے مسلمین اور غیر مسلمین دونوں بہرہ مند ہوتے ہیں اور اپنے سیرۂ علمی اور عملی کو اس سے ہم آہنگ کرسکتے ہیں ۔یہ حضرات اجتماعی مسائل میں بھی عوام الناس کے رہنما اور رہبر ہیں اور ان کا پیغام انسانی کمال اور معاشرہ کی ارتقاء کی جانب ہدایت ہے۔ ۵) آئمہ علیہم السلام سے محبت میں اضافہ اور ان کی ولایت کا اقرار ، معرفت امام ،ان کی کرامتوں اور ان کے فضائل اور مناقب کے آثار میں سے ہے ۔جتنی زیادہ محبوب کی صفاتِ حسنہ ظاہر ہوتی ہیں اتنی ہی زیادہ محبوب سے دوستی پر کشش تر ہوتی جاتی ہے اس کے علاوہ کہ آئمہ کی دوستی عبادت ہے اور باعث ثواب ہے انسان کے لیے اپنے کردار کو بہتر بنانے کا ایک قوی جذبہ بھی پیدا کرتی ہے ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے : محب اپنے محبوب کا مطیع ہوتا ہے ۔لہٰذا اگر آئمہ علیہم السلام کی دوستی اگر ان کی معرفت کے نتیجہ میں ہو تو اس بات کا سبب بنتی ہے کہ انسان فوراً ان کی دعوت کا جواب دے اور یہ چیز دنیا اور آخرت میں اس کی سعادت اور کامیابی کا سبب ہے ۔ ۶)آئمہ کی شناخت ،ان حضرات کی جانب سے معجزات کا صادر ہونا اور ان میں پائی جانے والی صفات اور خصوصیات بندوں پر خدا کی اتمام حجت کا سبب بنتی ہے ۔ جب آئمہ علیہم السلام مکمل قدرت ، عالی منزلت اور تکوینی امور میں تصرّف کے اختیار کے باوجود ،خداوند متعال کے مطیع ِمحض ہیں اور نہایت بندگی اور خضوع و خشوع کے ساتھ عذابِ الٰہی سے ڈرتے ہیں تو ہم معمولی انسان اور کمزور بندے اپنےکاموں کے انجام سے ڈرنے اور خوف کھانے کے زیادہ سزاوار ہیں۔ ایک ایسے حاکم کو تصور کیجیے جو اپنی پوری طاقت اور انجام گناہ کے لیے راہ ہموار ہونے کے باوجود اس سے پرہیز کرتا اور خدا کی اطاعت کرتا ہے ، اس کا یہ کردار اس کی رعایا اور عوام کے ،گناہوں سے دور رہنے کے لیے حجت اور دلیل ہے ۔ ۷)آئمہ علیہم السلام کی سیرت اور ان کی زندگی کی تاریخ ،مختلف نوعیت کی رہی ہے ان میں سے بعض نے خلافت حاصل کرنے اور عدل کو قائم کرنے کی جد و جہد کی ہے حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے ستمکار اور غاصب حکمران کے خلاف قیام کیا اور اپنی اور اپنے انصار تک کی شہادت پیش کی۔ بعض دوسرے آئمہ ہمیشہ حکمرانوں کے تحت نظر یا زندانوں میں رہے اور ظاہری طور پر اپنی فعالیت انجام دینے کا موقع نہیں رکھتے تھے ۔اور بعض دوسرے ان تمام مشکلات کے باوجود معارف اور علوم الٰہی کی ترویج اور اسے عام کرنے اور علمی میدانوں میں گفتگوکرنے میں کامیاب ہوسکے ۔ یہ طریقہ کا اختلاف اور سیاست کے انتخاب میں فرق ، یہ بتا رہا ہے کہ ان میں سے ہر امام اپنے زمانے کے حالات اور شرائط کے لحاظ سے حکمت عملی اپناتے اور اس کا لحاظ رکھتے تھے اور ان کا طریقۂ کار اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق رہا ہے ۔ یہ مسلمانوں اورہر زمانے کے انسانی معاشروں کے لیے ایک عظیم درس ہے کہ وہ اصول ِ اعتقادی کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ،اپنے زمان اور مکان کے مطابق کردار اپنائیں ۔ ہماری گذشتہ گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کی معرفت ، ان حضرات کے ارشادت پر عمل کرنے کے لیے اثرِ سوء نہیں رکھتی بلکہ انسان کی زندگی میں دینی تعلیمات کےاثر ات اور اس کی روحی اور فکری آمادگی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے ۔
  • QaID :  
  • 11357  
  • QDate :  
  • 2012-03-31  
  • ADate :  
  • 2012-03-31  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔آپ کی نظر ایسے شخص کے بارے میں جو عصمت کو جبری جانتا ہے اور شیخ مفید علیہ الرحمۃ کے بارے میں یہ کہتا ہے کیوں کہ وہ عصمت کے اختیاری ہونے کے قائل ہیں ، کیا ہے؟ کہتا ہے: (عصمتِ اختیاری سے متعلق اس قسم کا قول ،لازمی طور پر عصمت تکوینی سے تعارض رکھتا ہے۔یعنی اگر ہم عصمت کو انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کے لیے خداوندعالم کے تکوینی افعال میں سے جانیں تو عصمت کو اختیاری جاننے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ مگر یہ کہ وجوب عصمت کی دلیل اور اختیار کے لازمی ہونے کی دلیل کو جمع کرکے ایک مفہوم کو حاصل کیا جائے۔ ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس بات میں کیا مشکل ہے کہ خداوند متعال لوگوں کی ضرورت اور ان کی مصلحت کے لیے ،اپنے بعض بندوں کا معصوم ہونے کے عنوان سے انتخاب کرے ۔ اگر اس بات میں کوئی مشکل بھی پائی جاتی ہے تو یہ ہے کہ معصومین اپنے غیر اختیاری کاموں کی وجہ سے ثواب کے حقدار ہوں۔ جواب یہ ہے کہ : اگر ثواب تفضل کی وجہ سے ہے یعنی یہ خدا کا فضل و کرم ہے کہ انسان کے لیے اس اطاعت کے بدلے جو اس نے کی ہے ثواب کا حق قرار دیا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ وہ خود اپنے عمل کی وجہ سے ثواب کا مستحق ہوا ہو، اگر سب انسانوں کا ثواب اسی خدا کے فضل و کرم کی وجہ سے ہے اور ایسا نہیں ہے کہ وہ خود ثواب کے مستحق ہوں تو کیوں ایسا ممکن نہیں ہے کہ بغیر واسطہ اور شرط کے اطاعت انجام پائے۔ یقیناً تفسیری بحثوں میں جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ آیات جن کا ظاہر انبیاء کے لیے گناہ اور خطا ہے ،اسے اس طرح تأویل کرتے ہیں کہ ان حضرات کی عصمت سے منافات نہ رکھتا ہو ۔ لیکن یہاں پرقرآن ،قارئین کے اذہان میں اس سوال کواُبھارتا ہے کہ : قرآن کے طریقۂ بیان میں ایک راز پوشیدہ ہے کہ جب انبیاء کے بارے میں بات کرتا ہے تو خود عصمت اور گناہ کے تضاد کو افکار میں پیدا کرتا ہے ۔لیکن قرآن اس درجہ کی بلاغت کے ساتھ کس طرح سے قابل تأویل ہے ؟ اس اعتراض کی جڑ یہ ہے کہ تأویل آیات کے بہت سے طریقوں میں اس طرح لفظ کو ظاہر کے برخلاف حمل کیا جاتا ہے کہ اس میں بلاغت باقی نہیں رہتی اور قرآن کے اعجازِ بلاغی کے منافی ہوجاتاہے) ۔
     Answer :
    جواب ۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ عصمت خدا کی جانب سے انبیاء اور آئمہ علیھم السلام کے وجود میں ایک امانت ہے جو ایک تقاضے کی صورت میں (علت تامّہ کی صورت میں نہیں) ایک توفیق اور رہنما ہے۔ اس بنا پر ،اختیار ،معصوم کے عمل اور کردار میں مؤثر ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ ایک ایسا انسان جو اطاعت اور ترک گناہ میں مجبور ہو یا اس کی سرشت اور فطرت اس طرح سے ہو ،ایک ایسے انسا ن کے مقابلہ میں جو اختیار اور ارادہ کے ساتھ اطاعت اور ترک گناہ کرے ، کوئی فضیلت نہیں رکھتا ۔اسی وجہ سے ایک انسان کامل جو مطیعِ خداوند ہے ،فرشتوں سے برتر ہے ۔ تفضل اور خدا کے فضل و کرم کے بارے میں ضروری ہے کہ ہم یہ کہیں کہ جو عصمت کے اختیاری ہونے کا قائل ہے وہ ثواب کے مرتّب ہونے کی وجہ سے نہیں ہے کہ آپ اسے تفضل کے ذریعہ سے حل کریں اور یہ کہیں کہ ثواب ، تفضل کی وجہ سے ہے اور تفضل ایک ایسے شخص پر جو عمل کو مجبوراً انجام دیتا ہے ،ممکن ہے ؛لہٰذا ان حضرات کے اعمال کا ثواب رکھنا ،ان افراد کی عصمت کے اختیاری ہونے پر دلیل نہیں ہے بلکہ عقل اختیاری اطاعت کوجبری اطاعت پر فضیلت رکھنے کا حکم دیتی ہے ۔ اور پھر اگر عصمت جبری ہو تو معصومین کا اطاعت کرنا اور ترک گناہ کےفریضہ کا ثواب ساقط بلکہ باطل ہوجائے گا ۔ کیوں کہ اس صورت میں وہ گناہ کو ترک کرنے پر قادر نہیں ہوں گے لیکن ہم یقیناً جانتے ہیں کہ یہ حضرات فرائض اور ذمہ داریاں رکھتے ہیں ، اس بنا پر ان کی عصمت جبری نہیں ہے ۔ اور یہ وہی قرآن کے بیان میں انبیاء کے بارے میں راز ہے کہ جو ظاہراً ان کے معصوم ہونے کے عقیدہ ، چاہے جبری ہو یا اختیاری کے مخالف سامنے آتا ہے ۔ اس اختلاف کو دو دلائل کے ذریعہ سے بیان کیا جاسکتا ہے : پہلی دلیل یہ کہ : غلوّ کے راہ کو ،کہ عام طور پر افراطی پیروکار اس سے دچار ہوتے ہیں ، ختم کردیتا ہے ۔ دوسری یہ کہ : الوہیتِ خدائے متعال میں انبیاء کے شریک ہونے کی نفی پر تاکید کرتا ہے ۔ قرآن میں نقل کی بنا پر یہ انحراف ، گذشتہ ادیان کے پیروکاروں میں پایا جاتا تھا ، اس بنا پر اس مسئلہ سے متعلق آیات ، انبیاء کی طرف ان چیزوں کی نسبت دیتی ہیں جو انسان کی حالت سے مناسبت رکھتی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں جبکہ یہ ارتکابِ گناہ نہیں ہے بلکہ ترکِ اَولیٰ یا ایک مباح فعل ہے جو نبوّت کے مقام سے مناسبت نہیں رکھتا ۔ قرآن صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ انبیاء دوسرے عام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے، راستہ چلتے اور زندگی گذارتے تھے ۔ اس بنا پر تفسیر کے یہ طریقے بلاغتِ قرآنی کا تقاضا کرتے ہیں اور ان سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے۔
  • QaID :  
  • 11351  
  • QDate :  
  • 2012-03-30  
  • ADate :  
  • 2012-03-30  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔آیۂ : وَ لَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَ کَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْکَ قَالَ لَنْ تَرَانِي وَ لٰکِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَکّاً وَ خَرَّ مُوسَى صَعِقاً فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَکَ تُبْتُ إِلَيْکَ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ‌ (سورۂ اعراف/۱۴۳) ترجمہ: (تو اس کے بعد جب موسیٰ ہمارا وعدہ پورا کرنے کے لیے آئے اور اُن کے رب نے ان سے کلام کیا تو انہوں نے کہا کہ پروردگار مجھے اپنا جلوہ دکھادے ،ارشاد ہوا تم ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکتے ہو البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو اگر یہ اپنی جگہ پر قائم رہ گیا تو پھر مجھے دیکھ سکتے ہو ۔اس کے بعد جب پہاڑ پر پروردگار کی تجلّی ہوئی تو پہاڑ چور چور ہوگیا اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گر پڑے پھر جب انہیں ہوش آیا تو کہنے لگے کہ پروردگار تو پاک و پاکیزہ ہے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں )۔ کے بارے میں ایک شخص کہتا ہے : حضرت موسیٰکا ہی سوال ، واقعی میں تھا ، یعنی وہ نہیں جانتے تھے کہ خدا کو نہیں دیکھا جاسکتا ، کیونکہ حضرت موسیٰ وحی کے ذریعے اس حقیقت سے آگاہ نہیں تھے۔۔۔۔ ہمارے لیے یہ احتمال دینا بعید نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ  کے ذہن سے ذاتِ الٰہی کے بارے میں یہ تفصیلی تصور نہ گذرا ہوں، کیوں کہ ان کے لیے معرفت الٰہی اس حدّ تک نازل نہیں ہوئی تھی ۔خدا کے لیے جسمانیت کے ناممکن ہونے اور اس کے لیے لا مکانی جیسے مسائل سے متعلق فلسفی تحلیل اور تأمّل کے لیے مناسب زمینہ بھی ہموار نہیں تھا ، کیوں کہ یہ مسئلہ حضرت موسیٰ کے سامنے پیش ہی نہیں کیا گیا تھا ۔ اور اسی وجہ سے ہم مکمل طور پر ،نبی کے شخصی افکار میں ایمانی تصوّرات کی تدریجی تکمیل کے مفہوم کو پاتے ہیں۔ ان مسائل سے متعلق اپنی نظر مبارک بیان فرمائیے۔
     Answer :
    جواب۔ اکثر عاقل افراد یہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ خداۓ خالق،صانع،عظیم،جبّار کو آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ خدا وندعالم ،محدود اور محتاج جسم رکھتا ہو۔لہٰذا یہ کس طرح ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ جیسے پیغمبر جو اللہ کے اولوالعزم انبیاء میں سے ہے اور جسے خدا نے اس زمانے کے انسانوں کے لیے معلّم اور استاد قرار دیا ، اس مسئلہ کو نہ جانے ۔اس بنیاد پر مذکورہ آیت اور اسی جیسی دوسری آیات میں چند احتمالات پائے جاتے ہیں : ۱۔ قوم بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے خدا کو دیکھنے کی خواہش کی تھی اور سچ یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد سے خدا کی رؤیت کا ناممکن ہونا پوشیدہ تھا اور اس کے علاوہ ان سے اور کیا توقع کی جاسکتی تھی اور ان سے یہی توقع کیوں نہ کی جائے ، جب ہم دیکھتے ہیں کہ کہ انہوں نے گوسالہ (بچھڑا) پرستی کی یا انہوں نے حضرت موسیٰ سے چاہا کہ وہ بھی بت پرستوں کے خداؤں کی طرح ، ان کو بھی خدا بنا کے دے۔لہٰذا ایسےحضرت موسیٰ کی خدا سے رؤیت کی درخواست ،ممکن ہے اپنی قوم کو جواب دینے اور ان کی حالت کا لحاظ کرتے ہوئے ہو ۔اس مسئلہ سے متعلق بعض تفاسیر میں روایات بھی نقل ہوئی ہیں ۔(تفسیر برہان،جلد ۲ ، صفحہ۳۳ اور ۳۴) ۲۔ ممکن ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی اس درخواست کے ذریعہ سے کامل قلبی رؤیت کی درخواست کی ہو نہ کہ بصری رؤیت کی ۔کیونکہ خدا کی معرفت کے بہت سے درجات اور مراتب ہیں ۔ اور حضرت موسیٰ نے اس کے اعلیٰ درجہ یعنی ضروری وجدانی علم کا خدا سے تقاضا کیا ہو۔ ضروری وجدانی علم ، اپنی نفسانی صفات اور حالات سے متعلق آگاہی کی قسم سے ہے ۔ مثلاً کوئی یہ کہے : میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ مجھے فلاں چیز کھانے کی خواہش ہے ،یہ بات واضح ہے کہ اس دیکھنے اور اس مثال : میں زید کو دیکھ رہا ہوں ،یا : میں زید کو شجاع دیکھ رہا ہوں ، میں دیکھنے میں فرق ہے ۔ کیوں کہ زید کی مثال میں دیکھنا حسّی ہے اور خواہش والی مثال میں دیکھنا ایک ضروری وجدانی امر ہے کہ جو شناخت اور آگاہی کے اَعلیٰ درجات میں سے ہے ۔ اور یہی درجہ مولیٰ علی  کی اس قول میں مراد ہے : لَو کشف الغطاء ما ازددت یقیناً۔ اگرمیری آنکھوں کے سامنے سے پردۂ غیب اٹھا لیا جائے تب بھی میرے علم میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ۔ اور اپنے اس یقین کے درجہ پر افتخار کرتے تھے ۔اور یہ معنیٰ ان کے کلام کے سیاق سے معلوم ہوتے ہیں کیوں کہ آگے چل کر فرماتے ہیں : موسیٰ بن عمران نے خدا سے عرض کیا کہ اے پروردگار اپنا جلوہ دکھا دے۔ صاحب تفسیر المیزان علامہ طباطبائی  نے بھی اسی معنیٰ میں تفسیر کی ہے ۔
  • QaID :  
  • 11324  
  • QDate :  
  • 2012-03-27  
  • ADate :  
  • 2012-03-27  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔درجِ ذیل قول کے بارے میں اپنی نظر بیان فرمائیے اور اسی طرف یہ بات کہنے والے سے متعلق شارع کا حکم کیا ہے ؟ ایک شخص یہ کہتا ہے:اس چیز کا امکان پایا جاتا ہے کہ نبی کسی آیت کو پہنچانے میں خطا کا مرتکب ہو یا کسی آیت کو کسی خاص وقت بُھلا بیٹھے ،لہٰذا ضروری ہے کہ وہ اپنی خطا کا جبران کرے اور جو چیز بھلا بیٹھا ہے اسکی طرف توجہ دے تاکہ آیت مکمل اور صحیح ہوجائے۔ اس کے بعد علامہ طباطبائیؒ کے اس قول پرکہ تبلیغ رسالت سوائے گناہ سے معصوم ہونے اور خطا و غلطی سے محفوظ ہونے کے مکمل نہیں ہوتی،تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے : بعض اوقات زندگی میں رونما ہونے والے واقعات کی بنیاد پر یا انفرادی حالات اور شرائط کی وجہ سے اور یا انسان اندرونی یا بیرونی دباؤ میں آکر ایسا کام کر بیٹھتا ہے کہ اس کی اجتماعی موقعیت اور پوزیشن سے (مثلاً تبلیغ ) سے مطابقت نہیں رکھتا ۔لہٰذا ضروری ہے کہ اس کام کو ترک کردے تاکہ وہ اپنی رسالت کی مصلحت جو لوگوں کے لیے بیان کی ہے (نہ اپنی ذاتی مصلحت ) پر عمل کرے ۔ جس طرح سے ہم صالحین، عہد و پیمان پر پورا اترنے والے افراد حتّیٰ کہ نیک افراد کے کردار اور برتاؤ میں دیکھتے ہیں کہ جب ان کے قدم راستہ سے بھٹکتے ہیں تو کیسے برتاؤ کرتے ہیں ۔
     Answer :
    جواب ۔ پیغمبر کے لیے آیت کی تبلیغ میں خطا کا تصور اور فراموشی ممکن نہیں ہے ۔ چونکہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے :وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى‌ ﴿﴾ إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْيٌ يُوحَى‌﴿النجم‏،۳۔4﴾ اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتے ہیں ؛ ان کا کلام تو وحی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔اور سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسَى‌ ﴿الأعلى‏، 6﴾ ہم عنقریب تمہیں اس طرح پڑہائیں گے کہ بھول نہ سکو گے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ نبی یا پیغمبر کے ہر قول و فعل اور انفرادی ، اجتماعی اور سیاسی برتاؤ یا رویّہ کا سرچشمۂ وحی الٰہی ہو، اور یہ افراد انفرادی دشمنی میں حتّیٰ دین کی حفاظت کے خاطر بھی ،حالات اور برتاؤ کی بنیاد پر کوئی کام انجام نہیں دیتے سوائے اس کے ، کہ وہ عمل خدا کی جانب سے الہام اور تائید ہوا ہو۔ البتہ بداء کا مسئلہ اس سے جدا ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کچھ فرمائیں یا کوئی کام انجام دیں اور لوگ ان کی پیروی کرتے ہوئے اس کام کو ایک جاری حکم کے عنوان سے سمجھیں ، لیکن کچھ وقت گذرنے کے بعد کسی مصلحت کی بنیاد پر خدا کا ارادہ اس کام میں تبدیلی کا ہوجائے ،کہ جسے اصطلاح میں بداء حاصل ہونا کہتے ہیں ۔ نتیجتاً یہ کہ ہدف وسیلہ کی توجیہ نہیں کرتا ، خاص طور پر اگر رسالت کے طریقہ ٔ کار کا مخالف ہو۔ اسی بنیاد پر ،امام علی علیہ السلام ، معاویہ لعنت اللہ علیہ کے شام کی حکومت پر گرچہ کچھ دنوں کے لیے ہی باقی رہنے پر راضی نہ تھے۔ اگرچہ مغیرۃ بن شعبہ اور عبداللہ بن عباس جیسے افراد اس کے والی شام باقی رہنے کے متعلق مشورہ دے رہے تھے کہ جس وقت تک امام حالات پر قابو پائیں اسے گورنری پر باقی رہنے دیں ۔
  • QaID :  
  • 11311  
  • QDate :  
  • 2012-03-26  
  • ADate :  
  • 2012-03-26  
  • EducationID :  
  •   
  • Gender :  
  • Female  
  • Age :  
  • 2018  
  •  CategoryID :
     Question :
    سوال۔کیا سورہٗ یوسف کی آیت نمبر ۲۴ وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَ هَمَّ بِهَا اور یقیناً اس عورت(زلیخا)نے ان سے برائی کا ارادہ کیا اور اس (یوسف) نے بھی اس کا ارادہ کیا ۔ کی عبارت وَ هَمَّ بِهَا کی طرف توجہ دیتے ہوئے کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ حُسن کی نسبت انسانی نفس کی کمزوری اور زلیخا کی دعوت کی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام کے احساسات متحرک ہوگئے تھے،لیکن یہ پروردگار کا لطف و کرم اور اس کی دلیل تھی جس نے یوسف کو نجات عطا فرمائی؟
     Answer :
    جواب۔ آیت کے معنیٰ یہ نہیں ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام ، زلیخا کی طرف نفسانی توجہ اور آلودہ رجحان رکھتے تھے کہ خدا کے لطف نے انہیں گناہ سے رہائی عطا فرمائی ہو ۔ اسی آیت میں ہم پڑھتے ہیں : کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَ الْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ‌ ۔﴿يوسف‏، 2۴﴾ لیکن ہم نے اس طرح کا انتظام کیا کہ ان سے برائی اور بد کاری کا رخ موڑ دیں کہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے۔اور اسی طرح سے زلیخا کا یہ کہنا: وَ لَقَدْ رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ۔﴿يوسف‏، 32﴾ اور میں نے اسے کھینچنا چاہا تھا کہ یہ بچ کر نکل گیا ۔اور مصری خواتین کا یہ کہنا : مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ ﴿يوسف‏، 51﴾ ہم نے ہرگز ان میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔، اس بات پر گواہ ہیں ۔اس بنا پر آیت کےمعنیٰ کچھ اس طرح سے ہیں کہ ؛ جو عصمت خدا نے حضرت یوسف کو عطا فرمائی ،اگر وہ نہ ہوتی تو وہ بھی دوسرے عام انسانوں کی طرح اس فریب دینے اور وسوسہ میں مبتلا کرنے والے موقع پر ، زلیخا کی طرف مائل ہوجاتے۔ بعض تفاسیر نے ھمّ بھا کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ زلیخا کی جانب سے گناہ کی دعوت کے اصرار کے مقابلہ میں حضرت یوسف نے اسے قتل کرنے کا ارادہ(ا نتظام) کیا وھمّ بقتلھا ۔آیت نمبر ۵۱ زلیخا کے قول میں حضرت یوسف کی پاکیزگی پر تین روشن گواہیاں آئی ہیں : ۱ ۔ اب حق عیاں ہو گیا۔ ۲۔ میں نے خود اسے اپنی طرف راغب کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ ۳۔اور وہ(یوسف) یقیناً سچوں میں سے ہے۔
    • تعداد رکورد ها : 73
     
     
     
     

    The Al-ul-Mortaza Religious Communication Center, Opposite of Holy Shrine, Qom, IRAN
    Phone: 0098 251 7730490 - 7744327 , Fax: 0098 251 7741170
    Contact Us : info @ shahroudi.net
    Copyright : 2000 - 2011